قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ذیلی کمیٹی کے کنوینر محمد نعمان نے حقِ اشاعت ترمیمی بل 2026 اور انشورنس بل 2026 سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
محمد نعمان نے بتایا کہ وزارتِ تجارت نے نیا انشورنس بل 2026 تیار کیا ہے، جبکہ فاروق ستار کی عدم شرکت کے باعث ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 دوبارہ مرکزی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
کمیٹی نے حقِ اشاعت ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی۔ سیکرٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ 25 سال پرانے انشورنس قانون میں جزوی ترامیم کے بجائے وفاقی کابینہ کی ہدایت پر نیا قانون تیار کیا گیا ہے، جس کا ابتدائی مسودہ ایس ای سی پی نے تیار کیا۔
حکام کے مطابق نئے قانون کے ذریعے انشورنس شعبے میں مسابقت کو فروغ دیا جائے گا، کاروبار اور لائسنس کے طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے، قانون کی منظوری کے بعد ایس ای سی پی انشورنس شعبے کا نگران ادارہ ہوگا، سرکاری ادارے نجی انشورنس کمپنیوں سے بھی خدمات حاصل کر سکیں گے اور پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پاکستان کی تجارت پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ افغان سرحد کی بندش سے برآمدات میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی کمی آئی، جبکہ نو ماہ کے دوران ٹرانزٹ تجارت اور برآمدات میں مجموعی طور پر ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
فوڈ سیکٹر کی برآمدات میں 25 فیصد کمی آئی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث زرعی اجناس سمیت برآمدات میں تقریباً دو ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں زیادہ کمی کی ایک بڑی وجہ بھارت کا سستا چاول ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں بھارتی چاول تقریباً گیارہ سو ڈالر جبکہ پاکستانی چاول تیرہ سو ڈالر میں فروخت ہوتا ہے، جس کے باعث پاکستانی چاول کی طلب متاثر ہوئی۔
وزارتِ تجارت کے حکام نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی تاجروں کی جانب سے پاکستانی چاول کو نئی شناخت کے ساتھ فروخت کرنے کی شکایات تو موجود ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں۔
سیکرٹری تجارت نے مزید بتایا کہ خلیجی ممالک کو برآمدات میں نمایاں کمی کی بڑی وجہ متحدہ عرب امارات رہا۔ جنگ سے قبل متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں 22 فیصد اضافہ تھا، تاہم جنگ کے دوران یہ برآمدات 43 فیصد کم ہو گئیں اور جنگ کے بعد بھی 22 فیصد کمی برقرار ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق مارچ میں خلیجی ممالک سے درآمدات میں آٹھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جون سے درآمدات میں نو فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہے۔