صدر زرداری کا ڈونلڈ ٹرمپ کو تہنیتی خط، یوم آزادی پر مبارکباد اور دورہ پاکستان کی دعوت

پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ، صدر مملکت


ویب ڈیسک July 04, 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام کو امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے تاریخی موقع پر دلی مبارکباد دی ہے۔

ہفتہ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے امریکی صدر کے نام اپنے تہنیتی خط میں کہا کہ امریکا اپنی طاقت، جدت، آزادی، جمہوریت اور مساوی مواقع جیسے بنیادی اقدار سے وابستگی کی مضبوط روایت کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔ ​صدر آصف علی زرداری نے پاکستانی عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی پرتپاک دعوت بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی صدیوں کے دوران امریکی عوام کے نمایاں کارناموں نے دنیا کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور امن، سلامتی و خوشحالی کے فروغ کے مشترکہ عزم پر استوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں آباد ایک فعال اورمتحرک پاکستانی برادری نے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس برادری کی کامیابیاں اور خدمات دونوں ممالک کے لیے باعثِ فخر ہیں بلکہ یہ دونوں عوام کے درمیان دوستی، باہمی اعتماد اور بہتر روابط کا مضبوط ذریعہ بھی ہیں۔

صدرِ پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مستقبل پر نظر رکھنے والی مضبوط شراکت داری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، تجارت و سرمایہ کاری، دفاع، انسدادِ دہشت گردی اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی اور منظم تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ​

صدر مملکت نے کہا کہ ایک مضبوط پاک-امریکا شراکت داری کا علاقائی امن اور سلامتی میں اہم کردار ہے جس کی اہمیت گزشتہ سال مئی میں اس وقت ثابت ہوئی جب صدر ٹرمپ نے دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان جنگ بندی کی کامیاب ثالثی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے ساتھ یہ شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان کے ثالثی کے کردار پر امریکا کے اعتماد کو سراہا۔ صدر مملکت نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایک پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔