یمن میں حوثیوں کا حملہ، سرکاری فوج کے 14 اہلکار ہلاک

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن میں کشیدگی بدستور برقرار ہے


ویب ڈیسک July 05, 2026

صنعاء: یمن میں ایران سے منسلک حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان ایک بار پھر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جن میں کم از کم 14 سرکاری فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ یمن کے مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ کے جنوب میں واقع ضلع حیس میں پیش آیا، جہاں حوثی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کی پوزیشنوں پر حملہ کیا۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری فورسز نے حوثیوں کے حملے کا بھرپور جواب دیا، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔

فوجی عہدیدار کے مطابق سرکاری افواج نے حوثیوں کا حملہ پسپا کر دیا، تاہم جھڑپوں کے دوران حکومت کے 14 اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں حوثی جنگجوؤں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم مخالف فریق کے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

واضح رہے کہ الحدیدہ اور اس کے اطراف کے علاقے یمن کی خانہ جنگی کے دوران کئی برسوں سے اہم جنگی محاذ بنے ہوئے ہیں، جہاں وقتاً فوقتاً دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ ملک میں دیرپا جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششوں کو اب بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔