غزہ / تل ابیب: اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے معروف فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے اور اسرائیلی جیل میں ان کی جان کو فوری خطرات لاحق ہیں۔
تنظیم کے مطابق ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو حال ہی میں رملا جیل کے زیرِ زمین تفتیشی مرکز منتقل کیا گیا، جس کے بعد ان کی جسمانی حالت میں نمایاں خرابی دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق دو روز قبل ان کے وکیل نے جیل میں ملاقات کے دوران انہیں دیکھا تو ان کے سر، آنکھوں، کانوں اور گردن کے اطراف شدید تشدد کے نشانات موجود تھے۔ وکیل کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ انتہائی کمزور دکھائی دے رہے تھے اور انہیں سانس لینے اور بات کرنے میں بھی شدید دشواری پیش آ رہی تھی۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اپنے وکیل کو بتایا کہ جیل کے اندر چار سے پانچ اہلکاروں نے ان کی کوٹھڑی میں داخل ہو کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہیں 27 دسمبر 2024 کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اسپتال پر کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں اسپتال کے متعدد ڈاکٹروں، طبی عملے اور مریضوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
ان کے وکیل ناصر عودہ اس سے قبل بھی الزام عائد کر چکے ہیں کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو جیل میں ہتھکڑیاں لگا کر رکھا جاتا ہے، انہیں صاف پینے کا پانی، مناسب خوراک اور ضروری طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، حالانکہ وہ پہلے سے کئی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو فوری اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی حالت کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے۔