ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی آئینی ترمیم A-140 کے لیے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں دو سابق میئر کراچی اور ایک سابق ڈپٹی کمشنر کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں جنرل ضیا الحق دور کے سابق میئر کراچی فاروق ستار، جنرل ضیا کے بعد بلدیاتی بااختیار نظام دینے والے جنرل پرویز دور کے سٹی ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال اور ایک سابق ڈپٹی کمشنر جاوید حنیف شامل ہیں۔ جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کے علاوہ 1979 سے 2026 تک رہنے والے ڈپٹی کمشنروں کا بھی بلدیاتی سسٹم سے تعلق رہا ہے وہ متعلقہ بلدیاتی اداروں کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہوا کرتے تھے۔ ایم کیو ایم کی کمیٹی میں رکن قومی اسمبلی امین الحق سابق وفاقی وزیر شامل ہیں ۔ میری رائے میں کمیٹی میں کسی ٹاؤن ناظم کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا جنھیں بلدیاتی معاملات کا علم رہا ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ میں تین ایسے اہم رہنما شامل ہیں جو موجودہ بے اختیار بلدیاتی سسٹم سے مطمئن ہیں اور اس کی کمزوری کی بھی نشان دہی نہیں کرتے اور حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے آ رہے ہیں جب کہ یہ تینوں جنرل پرویز دور میں بااختیار ضلعی ناظمین رہے ہیں۔ فریال تالپور ضلع نوابشاہ، ناصر حسین ضلع سکھر اور نفیسہ شاہ ضلع خیرپور کی بااختیار ضلعی ناظم رہے ہیں جن میں ناصر شاہ دو بار ضلع سکھر کے ناظم رہے جب کہ سعید غنی یوسی ناظم رہے جن کو انتظامی و مالی اختیارات حاصل تھے۔
نفیسہ شاہ کے خیرپور کے بہترین پنچایتی نظام کو اس وقت کے وفاقی سیکریٹری بلدیات محمد سلیم خان نے بہت تعریف کی تھی اور خاص طور پر سراہا تھا۔ اس وقت بھی وفاق اور صوبوں میں بلدیات کے محکمے تھے مگر وہ ضلعی حکومتوں میں مداخلت نہیں کرتے تھے بلکہ ضلعی ناظم اتنے بااختیار تھے کہ کمشنر و ڈپٹی کمشنر اور صوبائی سیکریٹری رہنے والے اپنے ماتحت ڈی سی اوز کے تبادلے کرا دیتے تھے جو ضلعی ناظم کی بات نہیں مانتے تھے مگر سندھ کے موجودہ بلدیاتی نظام میں میئر، ضلعی چیئرمین و دیگر آج پھر بے اختیار بلدیاتی نظام میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے احکامات ماننے پر مجبور ہیں جو آج بااختیار محکمہ بلدیات سے کسی چھوٹے افسر کا تبادلہ نہیں کرا سکتے۔ آئین کے آرٹیکل A-140 کے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے جماعت اسلامی اور جے یو آئی حامی ہیں۔ جماعت اسلامی کے کراچی میں 9 ٹاؤن چیئرمین ہیں جب کہ کے پی میں پشاور سمیت متعدد اضلاع کے میئر اور چیئرمین ہیں۔ جے یو آئی کے جنرل پرویز کے ضلعی نظام میں حاجی غلام علی پشاور کے بااختیار سٹی ناظم رہے ہیں۔
ضلعی نظام میں پی ٹی آئی کا تو کوئی ناظم تھا ہی نہیں، البتہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کے لاتعداد ناظمین تھے۔ میاں عامر محمود دو بار سٹی ناظم لاہور رہے جن کا اور کراچی کے نائب سٹی ناظم طارق حسن سمیت مسلم لیگ (ق) کے بھی ملک میں بااختیار ناظمین رہے ہیں جب کہ پی پی کے مرکزی رہنما یوسف رضا گیلانی بھی ملتان میں بااختیار ضلعی ناظم رہے۔ یوسف رضا گیلانی اور سٹی ناظم کراچی نعمت اللہ خان ایسے بااختیار سٹی ناظم رہے کہ جنھوں نے ملک کے بااختیار فوجی صدر جنرل پرویز کی تقریبات میں شرکت سے انکار کیا تھا جب کہ نعمت اللہ خان نے صاف کہا تھا کہ میں سر سے پاؤں تک جماعت اسلامی کا ہوں۔
جنرل پرویز مشرف نے اپنے پہلے بااختیار ضلعی حکومتوں کے انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر کرائے تھے۔ 2001 کے ضلعی نظام کے انتخابات کا پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا تھا جب کہ 2005 کے بلدیاتی الیکشن میں بھرپور حصہ لیا تھا کیونکہ دونوں پارٹیوں نے ضلعی نظام کی بااختیاری لی تھی اور بائیکاٹ کے اپنے پرانے فیصلے پر ضرور پچھتائے ہوں گے کیونکہ انھیں توقع نہیں تھی کہ فوجی صدر جنرل پرویز ملک کو آئین کے تحت ایسا خود مختار بہترین نظام دے گا جو کوئی جمہوری کہلانے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نہیں دے سکی تھیں جو متعدد بار اقتدار میں رہیں مگرایسا بااختیار بلدیاتی نظام نہیں دے سکی تھیں۔
کہنے کو تو 2002 میں اقتدار میں لائی جانے والی مسلم لیگ (ق) نے ملک کو ضلعی نظام دیا تھا جب کہ یہ نظام لانے کا سہرا بلاشبہ صدر جنرل پرویز مشرف کا ہے جنھوں نے اپنے نظام کو 2009 تک آئینی تحفظ بھی فراہم کرایا تھا۔ یہ نظام اتنا بااختیار تھا کہ 2001 میں نافذ کیے جانے والے بااختیار نظام کی اہمیت کے باعث 2005 کے عام انتخابات میں متعدد ارکان اسمبلی نے اپنی اسمبلیوں کی نشستیں چھوڑ کر ناظمین کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
ایم کیو ایم نے جو کمیٹی بلدیاتی آئینی ترمیم کے لیے بنائی ہے بے مقصد رہے گی کیونکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی خود آرٹیکل A-140 کے خلاف ہیں اور کبھی آئین میں ترمیم کی حمایت نہیں کریں گی جب کہ یہ آرٹیکل آئین میں موجود ہے مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کے لیے ملک میں خود مختار و بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام نہیں چاہیں گی کیونکہ اس سے ان کی من مانیاں اور اختیارات متاثر ہوں گے اور وہ اپنے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں دے سکیں گی جو دیے جا رہے ہیں۔ تینوں بڑی پارٹیوں میں وہ رہنما موجود ہیں جو ضلعی نظام سے مستفید ہو چکے ہیں مگر اب اس بااختیار مقامی حکومتوں کی حمایت نہیں کر رہے۔ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور بااختیار مقامی حکومتوں کے حامیوں کی اس کوشش کو ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔