جنوری 2024 کے اواخر میں دنیا کی مشہور ترین امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ اچانک عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں آ گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس بار وہ اپنے کسی نئے البم، مدھر آواز یا کسی عالمی کنسرٹ کی وجہ سے خبروں میں نہیں تھیں، بلکہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی چند نازیبا تصاویر کی وجہ سے عالمی بحث کا مرکز بنی تھیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ یہ جعلی تصاویر اتنی ہولناک رفتارسے پھیلیں کہ معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ (سابقہ ٹویٹر) کو ہنگامی طور پر اس گلو کارہ کے نام کی سرچنگ ہی معطل کرنی پڑی۔ رپورٹ کے مطابق، محض ایک مخصوص اکاؤنٹ بلاک ہونے سے پہلے اس تصویر کو کروڑوں انسان اپنی اسکرینوں پر دیکھ چکے تھے۔
معاملہ اتنا حساس تھا کہ وائٹ ہاؤس کو اس پر باقاعدہ مذمتی بیان جاری کرنا پڑا، عالمی ٹیک کمپنیوں کو صفائیاں پیش کرنی پڑیں اور کروڑوں شائقین سڑکوں پر آ گئے۔ادھر اس پورے ہنگامے نے انسانی ضمیر کے سامنے ایک ہولناک سوالیہ نشان بھی کھڑا کر دیا، اگر اربوں روپے کے حفاظتی حصار، بہترین قانونی مشیروں اور عالمی شہرت کی حامل ایک شخصیت چند گھنٹوں کے اندر اس ڈیجیٹل عفریت کے سامنے اتنی بے بس اور لاچار ہو سکتی ہے، تو اس بے رحم معاشرے میں ایک عام آدمی، ایک عام معصوم عورت، ایک طالبہ، ایک استاد، ایک عام سیاست دان یا تاجر کس کھیت کی مولی ہے؟
یہیں سے ہماری معاصر تہذیب کا وہ نیا المیہ شروع ہوتا ہے جس نے سچ اور جھوٹ کے درمیان صدیوں پرانے بنے ہوئے خط فاصل کو یکسر مٹا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ماضی میں جھوٹ بولنے، افترا پردازی کرنے یا کسی پر تہمت لگانے کے لیے ایک زبان، ایک مائیکروفون، ایک پریس یا پھر ٹیلی ویژن کی اسکرین درکار ہوتی تھی۔ اب اس فتنہ جدید کے دور میں جھوٹ کو کسی لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت نہیں، اسے صرف ایک سستا اسمارٹ فون، چند سیکنڈز کی آڈیو ریکارڈنگ اور ایک مفت دستیاب اے آئی ٹول چاہیے۔
’’ڈیپ فیک‘‘ دراصل ایک ایسا مصنوعی عکس، آواز یا ویڈیو ہے جو کسی بھی انسان کو وہ سب کچھ کہتے یا کرتے دکھا سکتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ ابتدائی دنوں میں یہ ٹیکنالوجی ہالی ووڈ کی فلموں کا ایک سائنسی شعبدہ، انٹرنیٹ پر ہنسنے ہنسانے کا ایک مزاحیہ کھیل یا محض ایک تکنیکی تجربہ لگتی تھی، لیکن آج یہ انسانی عفت، خاندانی نظام، ملکی سیاست کے خلاف ایک خاموش، پوشیدہ اور مہلک ترین ایٹم بم بن چکی ہے۔
ڈیپ فیک اب سیاسی پروپیگنڈے کا سب سے بڑا ہتھیار، مالیاتی فراڈ کا ایک نیٹ ورک اور بین الاقوامی کاروباری جاسوسی کا ایک خودکار نظام بن چکا ہے۔ سال 2024 میں ہانگ کانگ کے ایک نامور مالیاتی ادارے کے ملازم کو ایک آن لائن ویڈیو کانفرنس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس کانفرنس میں اس کے سامنے اسکرین پر موجود کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر اور دیگر اعلیٰ حکام کوئی عام انسان نہیں، بلکہ اے آئی کے تیار کردہ ڈیپ فیک کردار تھے، جن کی آواز اور چہرے کے تاثرات بالکل اصل تھے۔ اس ملازم نے اپنے ہی افسران کے حکم پر 25 ملین ڈالر (اربوں روپے) ایک جعلی اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔
معروف عالمی مشاورتی ادارے ’’ڈیلوئٹ‘‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جنریٹو اے آئی کے ذریعے ہونے والے اس قسم کے معاشی جرائم اور نقصانات کی شرح صرف امریکا میں 2023 کے 12.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2027 تک 40 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ محض مغرب کی کہانی یا کسی دور دراز ملک کا فسانہ نہیں ہے۔ ہمارے اپنے معاشرے میں، جہاں اخلاقی اقدار پہلے ہی روبہ زوال ہیں، ہر گلی، ہر محلے، ہر یونیورسٹی، ہر دفتر اور ہر سیاسی دھڑے میں یہ جدید ہتھیار کسی کی بھی عزت، روزگار، رشتہ، ووٹ اور زندگی کو چند منٹوں میں ملیامیٹ کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
کل تک اس جدید سرمایہ دارانہ نظام کا نعرہ یہ تھا کہ جو شخص سوشل میڈیا پر موجود نہیں، وہ گویا دنیا کی دوڑ سے کٹا ہوا ہے، لیکن آج کا سب سے بڑا اور بھیانک سچ یہ ہے کہ جو شخص سوشل میڈیا پر جتنا زیادہ نمایاں ہے، وہ دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل بازار میں اپنی شناخت، اپنا چہرہ، اپنی آواز اور اپنی نجی زندگی کو نمائش کے لیے رکھ چکا ہے۔ آنے والے دورِ فتن میں ڈیپ فیک کے اس سیلاب سے صرف وہی انسان محفوظ رہ پائے گا، جس کی زندگی اور جس کا وجود سوشل میڈیا کے اس لامتناہی سراب سے جتنا کم وابستہ یا غائب ہو گا۔ جس شخص کی ہر روز دس تصاویر، بیس ویڈیوز، ہر نجی تقریب کی لوکیشن، ہر سفر کی لائیو اپڈیٹ، بچوں کے اسکول کی تفصیلات اور گھر کے اندرونی حصوں کا منظر آن لائن دنیا کی زینت بن رہا ہے، اس نے نادانستہ طور پر اپنے ہی خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار کا خام مال خود فراہم کر دیا ہے۔
آج کا ڈیجیٹل چور آپ کے گھر کے تالے توڑنے نہیں آتا،ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے تالے کی بناوٹ، چابی کا سانچہ اور گھر کا پورا نقشہ اس کے حوالے کر رہے ہیں۔ یہ زمانہ ’’بلائنڈ شیئرنگ‘‘ کا نہیں، بلکہ انتہائی گہری ’’ڈیجیٹل پرہیزگاری‘‘ کا ہے۔ اب آپ کے بولے ہوئے الفاظ کا ایک چھوٹا سا آڈیو نوٹ بھی ڈیٹا ہے، جو کل کو آپ کے خلاف ایک ایسی گواہی بن کر کھڑا ہو سکتا ہے جس کا دفاع آپ کی آنے والی نسلیں بھی نہیں کر پائیں گی۔ہم آج 2026ء کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جنریٹو اے آئی ہر سیکنڈ میں خود کو تبدیل کر رہی ہے، وہاں 2016ء کا ایک قدیم اور فرسودہ قانون اس ہائی ٹیک دنیا کے مجرموں کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟ ہمارے ملک کو آج ایک ایسے جامع، تیز رفتار اور خالصتاً متاثرہ فرد کی رازداری پر مبنی ’’ٹیک ڈاؤن‘‘ نظام کی ضرورت ہے، جہاں شکایت درج ہوتے ہی بغیر کسی بیوروکریٹک لیت و لعل کے، چند گھنٹوں میں مواد بلاک ہو، مجرم کا سراغ لگایا جائے اور جھوٹی شکایات کا تدارک بھی ممکن ہو سکے۔لیکن قانون کو عدالت میں ثبوت چاہیے ہوتے ہیں اور ثبوت فراہم کرنے کے لیے جدید ترین فرانزک مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہماری فرانزک لیبارٹریز کا حال یہ ہے کہ وہاں آلات ہیں نہ وہ بین الاقوامی معیار کی تربیت۔ جب تک ہم اپنی فرانزک لیبارٹریز کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ نہیں کریں گے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سائبر انٹیلی جنس ماہرین کو نظام کا حصہ نہیں بنائیں گے، مجرم ہمیشہ ریاست سے دس قدم آگے رہے گا۔اس تاریک سراب سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کو سیاست سے بالاتر ہو کر اپنا ایک خود مختار ’’ٹیک اٹ ڈاؤن‘‘قانون بنانا ہوگا جو آزادیِ اظہار پر قدغن لگائے بغیر شہری کی عزت کا تحفظ کرے۔ دوم،عوام اپنی نجی زندگیوں، بچوں کی تصاویر اور نجی تعلقات کو انٹرنیٹ کی اسکرینوں پر لٹانا بند کریں۔