فلسطین تاریخ کے چہرے پر چیچک ہے

صدر ٹرمپ کی قیادت میں جو غزہ امن بورڈ بنا تھا اس بورڈ کی لاش کس مردہ خانے میں پڑی ہے یہ بھی خبر نہیں۔


وسعت اللہ خان July 11, 2026

گزشتہ ماہ کے شروع میں مغربی کنارے سے خبر آئی کہ اسرائیلی فوج نے الخلیل ( ہیبرون ) کے نزدیک سات ماہ کی بچی سام فہد ابوہیکل کو چہرے پر گولی مار کے شہید کر دیا۔ایک خبر یہ بھی آئی کہ سنجیل نامی گاؤں کے چاروں جانب یہودی آبادکاروں نے باڑھ لگا کے پوری آبادی کو محصور کر دیا۔مکین باہر نکلتے ہیں تو تشدد کر کے واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔ کھیتوں تک رسائی تو خیر یہ فلسطینی دیہاتی اب بھول ہی جائیں۔

دو ماہ پہلے یہ بھی خبر آئی کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے تریپن فیصد رقبے پر قائم اپنی نام نہاد زرد لائن کو کھسکاتے کھسکاتے ساٹھ فیصد تک علاقہ ہڑپ لیا ہے اور ہدف یہ ہے کہ کم ازکم اس حد کو ستر فیصد تک لے جایا جائے۔اس دوران وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے آبادکاروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کیا تو وہاں نعرے لگے کہ غزہ پر سو فیصد قبضہ کرو۔وزیرِ اعظم نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ تھوڑا صبر کریں۔پہلے ستر فیصد لینے دیں۔جلد ہی سو فیصد بھی ہو ہی جائے گا۔

گذشتہ برس اکتوبر سے جاری جنگ بندی میں ساڑھے تین ہزار مزید فلسطینی شہید ہو چکے ہیں مگر جنگ بندی جاری ہے۔مچھیرے اپنے ہی سمندر میں موت کے خوف سے آزاد ہو کر مچھلیاں نہیں پکڑ سکتے مگر جنگ بندی برقرار ہے ، بے گھر خاندان اپنے ہی گھروں کے ملبے پر واپس نہیں بیٹھ سکتے مگر جنگ بندی قائم ہے ، خوراک کی تلاش میں مارے مارے بچے تصوراتی زرد لائن کے دوسری جانب چلے جائیں تو واپسی لاش کی شکل میں ہوتی ہے مگر دنیا اس فریب میں ہے کہ غزہ میں جنگ تھمی ہوئی ہے۔

 یہ مسلسل المیہ جسے مغربی میڈیا پہلے بھی نظرانداز کر رہا تھا تاہم گذشتہ تین ماہ سے تو اس المئے کو بیشتر مغربی چینلوں پر سنگل لائن اور اخبار میں سنگل سرخی بھی نصیب نہیں ۔اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پچھلے آٹھ ماہ میں ڈھائی ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کوئی خبر نہیں ، فضائی حملے ویسے ہی جاری ہیں ، بلڈوزر ویسے ہی عمارتوں کو ملبے میں تبدیل کر رہے ہیں ، ماہر نشانچی اسی طرح تباہ شدہ عمارتوں کے کھنڈرات میں چھپ کر بچوں کے شکار کے لیے بیٹھے ہیں مگر جنگ بندی جاری ہے۔

پونے دو لاکھ زخمی کوئی خبر نہیں ، خوراک کی انتہائی قلت کوئی خبر نہیں ، سیکیورٹی کے نام پر سرحدی گذرگاہوں کی ناکہ بندی کوئی خبر نہیں ، خوراک کی رسد اچانک لوٹ مار کا خدشہ بتا کر روکی جا رہی ہے ، جو بھی فلسطینی مارے جا رہے ہیں ان کی لاش پہلے گرتی ہے اور پھر یہی لاش میڈیا کے لیے حماسی دہشت گرد بن جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ کی قیادت میں جو غزہ امن بورڈ بنا تھا اس بورڈ کی لاش کس مردہ خانے میں پڑی ہے یہ بھی خبر نہیں۔ مغربی کنارے پر تو کبھی کوئی جنگ ہی نہیں ہوئی لہذا وہاں کی نسل کش وارداتوں کو کوریج کیا دینا ؟

بیشتر میڈیا کی سوچ کا دھارا یوں ہے کہ فلسطینی اس لیے نہیں مارے جا رہے کہ اسرائیل انھیں مار رہا ہے بلکہ اس لیے مارے جا رہے ہیں کیونکہ پورا خطہ ہی ایرانی جارحیت کے سبب بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور اسرائیل اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہے۔ خبر ہے تو بس یہ کہ اسرائیل کو ایران اور حزب اللہ کی جانب سے وجودی خطرہ لاحق ہے اور اسرائیل جنوبی لبنان میں گھس کر دھشت گردوں سے ’’ اپنا دفاع ‘‘ کر رہا ہے مگر جنگ بندی برقرار ہے۔اسرائیلی ڈکشنری میں سیز فائر کا مطلب ہے ’’ تم سیز کرو ہم فائر کریں گے ‘‘۔

اسی لیے اسرائیل نے مجبوراً بیس فیصد لبنان اپنے قبضے میں لیا ہے۔اسی لیے وہاں سے بارہ لاکھ شہریوں کو گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔اسی لیے حزب اللہ کی کمر توڑنے کے لیے اسپتالوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسی لیے ہزاروں برس پرانے نباتیا اور طائر کے شہر کھنڈرات میں بدلے جا رہے ہیں اور یونیسکو سر کھجا رہا ہے کہ ان دونوں شہروں کو بین الاقوامی ورثہ قرار دے کر اسے کتنی نفلوں کا ثواب ملا۔اسی لیے شمالی اسرائیل پر حملے روکنے کے لیے جنوبی لبنان کی زرخیز زمین کو فاسفورس کی بارش سے بانجھ کیا جا رہا ہے۔غزہ ہو کہ جنوبی لبنان، وہاں سب سے سنگین جرم شہریوں کا گھر واپس لوٹنے کا خواب ہے۔جب تک ان لوگوں کا حقِ ملکیت زندہ ہے اسرائیل غیر محفوظ ہے۔البتہ غزہ نے اسرائیل کو ایسا مثالی ماڈل دیا ہے جسے اب ایک وسیع خطے میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔

یعنی پہلے لوگوں کو زمین اور گھر خالی کرنے کا حکم دو ، پھر ان کی املاک بلڈوز کر دو اور پھر اس خالی زمین کو سیکیورٹی زون قرار دے دو۔اگر مکین زمین نہ چھوڑیں تو انھیں دھشت گردوں کی انسانی ڈھال قرار دے کر جائز ہدف بنا لو ، اگر وہ بھاگ جائیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں۔اگر واپس آنے پر بضد ہوں تو انھیں سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مار ڈالو۔

تصویر کچھ یوں بنائی جا رہی ہے کہ جیسے ہی ایران اور امریکا میں معاملات سمٹ گئے مشرقِ وسطی پرامن ہو جائے گا۔مگر بنیادی سبب یعنی فلسطین تو جوں کا توں ہے۔جنگ تو ایران امریکا تصادم سے بہت پہلے سے جاری ہے۔ورنہ غزہ کو پھانسی دینے کی کوشش نہ ہو رہی ہوتی۔مغربی کنارے اور اس پر بسے انسانوں کے حصے بخرے نہ ہو رہے ہوتے۔

کچھ بھی کرتب بازی کر لیں۔فلسطین وہ بھوت ہے جو اس خطے سے تب تک چمٹا رہے گا جب تک اس کی آتما کو شانتی نہیں مل جاتی۔تب تک ہر جنگ میں سیز فائر تو ہوتا رہے گا مگر امن کا چہرہ دیکھنا کسی کو نصیب نہ ہو گا۔

سات ماہ کی سام ابو ہیکل کو اس کے باپ نے فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر دفن تو کر دیا ہے مگر ہر نئی تدفین کا مطلب ہے کہ جنگ جاری ہے۔لاکھ کوشش کر لی گئی کہ فلسطین تاریخ کا حاشیہ بن جائے۔ اب تک تو ایسا نہیں ہو سکا۔

یہ وہ چیچک ہے جو بنا علاج کے تاریخ کے چہرے سے نہیں مٹ پائے گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)