ایک سیاستدان ہونے کے ناتے، میری کوشش ہوتی ہے کہ پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کو بھی جانچنے کی کوشش کروں۔ اس سلسلے میں میرے کئی کالم چھپ چکے ہیں مگر یہ کالم مستقبل قریب اور بعید کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔
دنیا کی سیاست اہم موڑ پر کھڑی ہے، سپر پاور کے جنگی جنون نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اس صورتحال میں، میں یہ کہوں گی کہ طاقت، مفادات اور سفارت کاری ، سیاست میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر پالیسیاں تو بناتی ہیں مگر ان پالیسیوں کے دو رخ ہوتے ہیں۔
ایک آپ فلسطین اور لبنان میں دیکھ سکتے ہیں تو دوسرا ایران میں جہاں کبھی مذاکرات اور کبھی کشیدگی ، یہاں تک کہ اب جنگی صورتحال ان پر مسلط کی گئی ہے۔ جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد کچھ نادان یہ توقع کر رہے تھے کہ ان اقتصادی پابندیوں میں واضح نرمی آئے گی اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے، مگر بعد ازاں دوسری جانب سے معاہدے سے علیحدگی اور نئی پابندیوں نے ان توقعات پر پانی پھیر دیا۔
ہم ماضی پر نگاہ ڈالیں تو امن کے نام پر عراق، افغانستان، لیبیا اور دیگر خطوں میں امریکا کی چھیڑی گئی جنگیں اس کے معاشی اور اسٹرٹیجک مفادات کی وجہ سے تھیں۔ ان جنگوں کے نتیجے میں انسانوں کے لیے کوئی بھلائی نہیں بلکہ شعلے بھڑکتے رہے۔
امریکا کو ان کے معاملے میں ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر انسان خود کو خدا سمجھتا ہے ، سب نے اپنے الگ الگ خدا بنا رکھے ہیں، اب کسی نا خدا کی طرف دیکھیں ؟ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک جنگ کو اپنی فتح سمجھ لیتے ہیں جب کہ جنگوں کا نتیجہ سوائے نقصان کے کچھ نہیں۔
انسانی جانوں کا زیاں ، جس سے بے شمار خاندان اجڑ گئے۔ پھر بھی دنیا کی بڑی طاقتیں امن ، جمہوریت اور انسانی خون کے نام پر پالیسیاں بناتی ہیں، جو سامنے پڑے پردے کا کام کرتی ہیں جب کہ پیچھے قتل و غارتگری اور معاشی جھٹکا دیتے ہیں۔
جس سے پوری دنیا میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ میں یہ واضح کہہ رہی ہوں کہ جنگ کبھی بھی انسانیت کے لیے خوش آئند نہیں ہوتی۔ میں نے ایران امریکا جنگ سے مثبت پہلو تلاش کیے، ایک تو یہ کہ خدا ہے اور ایک ہی ہے۔ دوسرا مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ ایران نے شدید دباؤ اور پابندیوں کے باوجود صبر، استقامت اور داخلی یگانگت کا مظاہرہ کیا جس سے امریکا کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی۔
یہ ثابت ہو گیا کہ طاقت کے بے جا استعمال سے امریکا کا عالمی وقار مجروح ہوا ہے۔ ایرانیوں کی صدیوں پرانی اپنی تہذیب و تمدن اور زبان سے جڑے رہنے سے وہ ایک قوم کی مانند ڈٹ گئے اور یہ ثابت کیا کہ قومی اتحاد صرف مذہب کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا بلکہ وطن، خود مختاری لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع رکھ سکتا ہے۔
بیرونی حملے نے سب کو ایک کر دیا جب کہ دوسرے ملک کی صورتحال آپ سب کو معلوم ہے۔ امریکی پالیسیوں نے سابقہ ادوار میں بھی مختلف قوموں کو مایوس کیا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان پر ایٹم بم گرائے گئے۔ لاکھوں انسان متاثر ہوئے ، لاکھوں لوگ معذوری اور بیماریوں کا شکار ہوئے ، مگر جاپانی قوم نے شکست کو اپنی تقدیر نہیں بنایا۔
انھوں نے تعلیم تحقیق نظم و ضبط محنت اور قومی اتحاد کو اپنا سرمایہ بنایا اور چند دہائیوں میں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہو گئے۔ آج بھی ایٹم بم کے متاثرین کی یاد، جاپانی معاشرے کا حصہ ہے لیکن ان کے حوصلے اور قومی عزم نے دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی۔
خواتین کو عزت، شہریوں کو وقار، اور علم و ٹیکنالوجی کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا جب کہ انھیں اس طرح توڑا اور مارا گیا تھا کہ جہاں زمین پر پتھروں کے نشان تک ختم ہو گئے تھے، وہیں کچھ لوگ جن کے جسم تو کچل گئے تھے مگر ذہن سلامت تھے، ان کا اپنا اعتماد اور ان کا خدا ان کے ساتھ تھا، اگر ایران بھی قومی اتحاد، تعلیم ،تحقیق، ٹیکنالوجی، اخلاقیات اور ثقافتی استحکام پر توجہ دیتا رہا تو ممکن ہے مستقبل میں وہ بھی جاپان کی طرح ترقی کی نئی منازل طے کر لے۔ اس کے برعکس صرف عسکری طاقت پر انحصار کسی بھی ملک کو پائیدار برتری نہیں دے سکتا۔