’’یہ لفافہ صاحب نے بھجوایا ہے۔‘‘
ہمیشہ کی طرح سیدھا سادا انداز، مودبانہ اور لوٹ جانا۔
’’یہ تو کوئی آفیشل لیٹر لگ رہا ہے۔‘‘
الٹ پلٹ کر دیکھتے کہا گیا تھا، کھول کر دیکھنے پر حیرانگی ہوئی، شک گزرا کہ غلط تو نہیں پڑھا اور آگے سرکا دیا گیا۔
’’ارے، یہ تو عدالت کی طرف سے نوٹس لگتا ہے۔ فیملی کورٹ کی طرف سے اور یہ تو فلاں کے نام ہے۔‘‘
مزید حیرانگی، پھر کنفرم کرنے آگے کیا۔
’’یہ تو فیملی کورٹ کی جانب سے نوٹس ہے۔ خلع لے لیا گیا ہے اور نان نفقے کی ادائیگی کا مطالبہ ہے لیکن یہ تو ان کے نام ہے۔‘‘
سیدھا سادا، مودبانہ انداز اور لکھنے پڑھنے سے اتنا غافل کہ اپنا نام بھی نہ پڑھ سکے، تب ہی اپنے ہی خلاف عدالتی حکم نامہ انتہائی سادگی سے پیش کیا گیا۔ کہنے کو چپڑاسی پر کام کاج ہزاروں۔ گھوم پھر کر کام انجام دینا وہ بھی پھرتی سے لگن اور خلوص سے۔
’’کیا انھوں نے دوسری شادی کر رکھی تھی؟‘‘
سب جانتے ہی تھے کہ ابھی چند ماہ قبل ہی وہ اپنی بڑی صاحب زادی کی شادی کے فریضے سے سبکدوش ہوئے تھے پھر خود ان کے نام ایسا حکم نامہ۔
’’اور اس نے خلع بھی لے لیا۔ اب نان نفقے کا مطالبہ۔‘‘
سوال تھے کہ ابھرے جا رہے تھے، اتنے برسوں سے مستعدی سے اپنے کام انجام دیتا کبھی چہرے پر شرارت تو کبھی گنگناتے، کبھی شوخی سے۔ پھر ایک بیوی اور بچے سب ہی جانتے تھے پر اتنا بڑا راز اپنے اندر چھپا کر رکھا اور وہ بھی کس قدر سمجھداری سے۔وقت گزرتا ہی جاتا ہے، ان بے پرواہ نگاہوں میں اب ایک جھجک سی ابھرتی نظر آتی تھی، ایک رکاوٹ جو رویوں سے عیاں ہو ہی جاتی ہے۔
’’وہ بتا رہا تھا کہ یہ اس کے بھائی کا کیس ہے اور اس نے اس کا نام اور یہاں کا پتا دے دیا تھا۔ اب دیکھو ناں اسے کہے کہ فیملی کورٹ کے اتنے اہم معاملات میں بھائی کا پتا اور نام۔۔۔۔ نام کیسے دیا جاسکتا ہے۔‘‘وضاحتیں چل رہی تھیں۔
’’اور آپ کے بھائی کے اس کیس کا کیا ہوا؟‘‘‘
’’وہ تو کیا کہوں سولہ سال ہو گئے طلاق کو۔ میرے بھائی نے میرا نام بے کار میں دے دیا، اب میں بلاوجہ بدنام۔ میرے نام ہی نوٹس آیا، اب میں آپ لوگوں کو میڈم کو کیسے سمجھاؤں کہ۔‘‘
’’آپ کو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر یہ نوٹس آپ کے نام بھی ہے تو کوئی بات نہیں۔ آپ نے نکاح کیا تھا، طلاق ہو گئی، کوئی بات نہیں۔ شریعت میں تو مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے، پھر آپ کیوں وضاحتیں دے رہے ہیں؟‘‘
ان کے چہرے پر کچھ حیرانگی ابھری۔ اطمینان بھری حیرانگی۔
’’جب شریعت میں حکم دے دیا تو بس دے دیا، اگر وہ نوٹس صحیح بھی ہے تو کیوں جھوٹی وضاحتیں دے، کوئی ضرورت نہیں کہ شریعت کا حکم ہے تو ہے۔‘‘ سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جھوٹ، وضاحتیں انسان کو مضطرب اور رنجیدہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اتنا سننے کے بعد انھوں نے ایک گہری سانس بھری اور سر اثبات میں ہلایا، وقت رخصت چاہ رہا تھا، لہٰذا سامان سمیٹا۔
ہمارے یہاں انسانی جبلتیں بھی بدلتے ماحول کی مانند کیا کیا رخ اختیار کرتی چلی جاتی ہیں۔ اس بارے میں ایک حدیث مبارکہ ہے۔
’’لوگوں پر ایسے مکر و فریب والے سال آئیں گے، جن میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خیانت کار کو امانت دار سمجھا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کار، اور ان میں روبیضہ کلام کریں گے۔‘‘
عرض کیا گیا، یا رسول اللہؐ! روبیضہ سے کیا مراد ہے؟آپؐ نے فرمایا۔ ’’وہ کم عقل، حقیر انسان جو عام لوگوں کے (بڑے اور اجتماعی) معاملات میں گفتگو کرے گا۔‘‘ (سنن ابی ماجہ: 4036)
یہ حدیث بہت سی باتوں کی نشان دہی کرتی ہے اور جس زمانے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہیں یہ وہی زمانہ تو نہیں جس میں آج ہم سانس لے رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں رب العزت کی طرف سے دیے گئے نعمتوں کے خزانے ہیں، 1947 سے لے کر آج تک ان خزانوں سے ہم نگاہیں چرا چرا کر تھکے بھی نہیں کہ یہ کسی نادیدہ قوت کی جادوگری کی کارستانی ہے۔ ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے کہ نقصان صرف ہمارا ہی ہو اور فائدے دنیا اٹھائے، کہیں ہمارے وسائل استعمال کرتے تو کہیں ہمارے وسائل پر پہرہ بٹھاتے۔
کس کس نظام کی بات کرتے محکمہ تعلیم سے لے کر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ تک کے ادارے خدا جانے کون سی چال چل رہے ہیں کہ ان کے رینگنے کا سفر گزشتہ ستر 75 سال سے برقرار ہے پر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہیرے کی قدر ایک جوہری ہی کر سکتا ہے۔
یہ ملک ایک قیمتی ہیرا ہے جو اسلامی ممالک کے درمیان جڑا ہے، پر اس کی چمک دمک ابھی باقی ہے۔سیاسی میدان کی جانب نظر کریں تو ایک ایک کہانی نظر آتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہر انسان اپنا نصیب خود لے کر پیدا ہوتا ہے اگر کسی کے نصیب میں رب العزت نے عزت اور مال فراوانی سے رکھ دیا ہے تو اسے اس کو برتنے کا طریقہ نہیں بھی آتا تو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بہت زیادہ کوشش کرنے اور الجھنے کی ضرورت نہیں، ہمارے پاس ایک مضبوط معاشی و معاشرتی نظام کی حقیقتیں موجود ہیں، ہمارے خلفائے راشدین کے دور حکومت کی طرف دیکھیں کیسی کیسی مثالیں قائم ہیں۔ اس کے بعد بھی اور ادوار آئے جو یقینا سیاسی چالبازیوں، قتل و غارت گری اور دیگر مسائل سے دوچار تھے لیکن ایک پوری ضخیم تاریخ موجود ہے جس کے اچھے اور فعال پوائنٹس کو پکڑتے آگے بڑھیے اور سیکھیے کہ ایک عام سے لباس میں ملبوس مضبوط قائد کیسے اپنے مخالفین کے چھکے چھڑا دیتا ہے۔
یہ وہی دور ہے جب اسلام عرب کی ریاست سے نکل کر دور دور تک پہنچا۔ آخر کیا حکمت عملی تھی، ان میں بہت سے نام ایسے بھی ہیں جو اعلیٰ خاندان اور حسب نسب کے نہ تھے لیکن پرخلوص اور سیاسی اعتبار سے مضبوط لوگ تھے۔
ہمارے یہاں سیاست کا نام آتے ہی لوگ ایک غلط مفہوم کی جانب چل پڑتے ہیں جب کہ سیاست جو عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی معاملات کو سنوارنا، لوگوں کی (رعایا) بہتری کی تدبیر کرنا اور درست طریقے سے نظام چلانا، اس میں امن و امان، حکومتی پالیسیوں یعنی اندرونی اور خارجہ پالیسیوں کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔
کیا صلح حدیبیہ ایک بہترین سیاسی معاہدہ نہیں تھا، یہ کیسی سیاسی چال تھی جسے قرآن مجید میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ دراصل اس طرح عرب قبائل کو مسلمانوں کے قریب آنے کا، انھیں سمجھنے کا موقعہ ملا تھا، ورنہ اہل قریش نے اپنی گھناؤنی سازشوں سے انھیں محدود کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
کیا خود اہل قریش آپس میں امن و امان، بھائی چارگی اور مزے کی زندگی گزار رہے تھے، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سے پہلے وہاں کے حالات کیا تھے۔سچے کو سچا کہیے، امانت دار کو خائن کہنے سے بچنا کہ قیامت قریب ہے کا نعرہ لگاتے بچ تو آپ بھی نہیں سکتے کہ اس عظیم وقت مقررہ میں حساب باقی ہے۔