سہراب گوٹھ کے علاقے میں گزشتہ شب اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس کے ہاتھوں مقابلے میں مارے گئے 2 ملزمان ٹی ٹی پی کمانڈر فیض محمد عرف فیضی گروپ کے کارندے نکلے۔
ہلاک بھتہ خور ملزمان کی شناخت شیر خان عرف سہراب ولد مہراب اور سعید محمد ولد سید مہرالدین کے نام سے کی گئی، ہلاک دونوں ملزمان افغان شہری تھے، ہلاک ملزمان کے قبضے سے 2 پستول 30 بور اور بھتہ خوری کے لیے استعمال کیے جانے والے موبائل فون سمیت 2 موبائل فونز برامدکرلیے گئے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے مطابق ہلاک ملزمان تھانہ سہراب گوٹھ میں درج بھتہ خوری کے ایک مقدمے میں ایس آئی یو پولیس کو مطلوب تھے، 5 جولائی کو ملزمان نے کوئٹہ ٹاؤن میں ایک ڈاکٹر اوراسپتال کے مالک سے 1 کروڑ روپے بھتہ کا مطالبہ کیا تھا، واقعے کی رپورٹ سہراب گوٹھ تھانے میں درج کی گئی تھی اورایس آئی یو میں تفتیش جاری تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایس آئی یو پولیس نے تکنیکی معاونت اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مطلوب ملزمان کی نشاندہی اور لوکیشن حاصل کی، گزشتہ رات جب ایس آئی یو کی ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے دونوں بھتہ خور ہلاک ہو گئے۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ہلاک ملزمان مسلسل افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کمانڈر فیض محمد عرف فیضی سے رابطے میں تھے اور اسپتال مالک سے بھتہ طلب کرنے کے حوالے سے اس سے ہدایات لے رہے تھے، بھتہ خوری میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی ہلاک ملزمان سے برآمد کر لیا گیا ہے۔
ہلاک ملزمان کے خلاف سہراب گوٹھ تھانے میں بجرم دفعہ 384/385 اور 25-D ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے، ہلاک ملزم شیر خان عرف سہراب کے خلاف سال 2025 میں بھی 2 مقدمات درج تھے ہلاک ملزمان کے خلاف ایس آئی یو میں 3 مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔