طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے باعث افغانستان کا معاشی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہونے لگا۔
قابض طالبان رجیم کے 5 سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی ناکام، معاشی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ امریکی تعاون سے چلنے والے معروف بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم میں افغان معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری کے فقدان نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
مئی میں سالانہ مہنگائی کی شرح 8 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پچھلے سال اسی مہینے میں یہ شرح 0.5 فیصد تھی، اشیا ئے خور و نوش افغان عوام کی پہنچ سے دور ہیں، غذائی اشیا کی قیمتوں میں 8.2 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی کے مطابق خواتین کے روزگار اور کاروبار پر پابندیوں نے افغان خاندانوں کی مالی مشکلات اور معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، افغان رجیم کی نااہلی کے باعث بے روزگاری بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، 2025 میں شرح 13.35 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی نے افغانستان کوسفارتی تنہائی کا شکارکردیا ہےجسکا خمیازہ وہاں کی معیشت اور عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، افغان رجیم کی انتہاپسند پالیسیوں اورخواتین پر کام کی پابندیوں نے ملک کی نصف پیداواری افرادی قوت کو ناکارہ بنا کر معاشی بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔