واشنگٹن/تہران: امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل آٹھویں رات بھی فضائی اور فوجی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تازہ حملوں میں ایران کے ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا اور اس کی جانب سے خطے میں ممکنہ حملوں کی استعداد کو محدود کرنا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے ان عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا جن پر اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائیاں انتہائی درست ہدفی ہتھیاروں کے ذریعے کی گئیں، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان تازہ امریکی حملوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی امریکی دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطے میں فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔