ایران نے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی نئی حکمت عملی اپنا لی، امریکی عہدیدار کا دعویٰ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے


ویب ڈیسک July 19, 2026

واشنگٹن: ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی فضائی دفاعی نظام کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جس کے باعث اس کے میزائل پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران اب ایسے تیز رفتار میزائل استعمال کر رہا ہے جو دورانِ پرواز اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا فضائی دفاعی نظام کے لیے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق ان نئی تکنیکی تبدیلیوں کے باعث ایران کی حساس فوجی اور اسٹریٹیجک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائلوں کی رفتار، پرواز کے دوران سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی امریکی اور اتحادی دفاعی نظام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

امریکی عہدیدار نے اس بارے میں مزید تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور دفاعی حکمت عملی کو بھی اسی کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سفارتی تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی عہدیدار کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران واقعی جدید رفتار اور راستہ تبدیل کرنے والے میزائل استعمال کر رہا ہے تو اس سے خطے میں میزائل دفاعی نظام، عسکری توازن اور سلامتی کی صورتحال پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔