کچھ سفر صرف راستے طے کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہ انسان کو وقت کے اس حصے میں لے جاتے ہیں جہاں تاریخ کتابوں کے اوراق سے نکل کر زندہ انسانوں کی آنکھوں میں نظر آنے لگتی ہے۔ قراقرم کے پْرشکوہ پہاڑوں کے درمیان بسی ہوئی وادیاں ایسے ہی زندہ عجائب گھر ہیں۔ یہاں ہر پتھر، ہر راستہ اور ہر گھر اپنے اندر ایک نہ سنی ہوئی داستان چھپائے ہوئے ہے۔
بلتستان کا خطہ جسے مقامی بلتی یُل بھی کہتے ہیں ہمیشہ سے تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ یہاں تجارتی قافلے گزرے، مذہبی روایات پروان چڑھیں، اور ثقافتوں کا ایسا حسین امتزاج ہوا جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ اس خطے کے پہاڑ اگرچہ خاموش ضرور ہیں، لیکن ان کے دامن میں بسنے والے لوگ صدیوں کی داستانیں اپنے سینوں میں سنبھال کر رکھتے ہیں۔ انہی داستانوں میں ایک اہم اور منفرد باب ہے فرانو کا۔ فرانو وادی چھوربٹ کا آخری گاؤں ہے، اور یہیں سے لداخ سرحد کے قریب پاکستان کی ایک اہم سرحدی بستی کی حیثیت رکھتا ہے یوں ہم قریہ فرانو کو بلتستان میں لداخ کی طرف پاکستان کا ا?خری گاؤں کہہ سکتے ہیں۔ میرے لیے فرانو صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل انسانی تجربہ تھا۔ یہاں قدرتی حسن، پہاڑی لوگوں کا بے پایاں خلوص، تاریخی ورثہ، اور تقسیم کے درد نے ایک ساتھ مل کر ایک ایسا تاثر دیا جو زندگی بھر یاد رہے گا۔
قراقرم کے حسین راستوں سے فرانو تک کا سفر
بلتستان کے ضلع گانچھے کی وادی چھوربٹ میں واقع فرانو سطح سمندر سے آٹھ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر آباد ہے۔ یہ بلندی صرف ایک عدد نہیں، بلکہ یہ بلندی یہاں کی ہوا، پانی بہاؤ اور موسموں کو طے کرتی ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، خشک مگر دلکش وادیاں، تیز رفتار سرد ہوائیں، اور دور دور تک پھیلا ہوا خاموش منظر اس علاقے کو پوری دنیا سے الگ ایک جہاں میں بدل دیتے ہیں۔
جب ہم فرانو کی طرف سفر کر رہے تھے تو ہر قدم پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ انسان آہستہ آہستہ جدید دنیا کی تیز رفتاری سے نکل کر فطرت کی آغوش میں جا رہا ہے۔ راستے میں قراقرم کی عظیم چٹانیں، پگھلتے ہوئے گلیشیئروں سے بننے والے دریاؤں کی گرج، اور پہاڑی آبادیوں کے چھوٹے چھوٹے نشانات اس حقیقت کا احساس دلاتے ہیں کہ یہاں زندگی کبھی آسان نہیں رہی۔ مگر اس مشکل ماحول میں بھی انسان نے اپنی تہذیب اور روایات کو نہ صرف زندہ رکھا، بلکہ اسے ایک نئی شناخت دی۔
ہم شام سے کچھ قبل فرانو پہنچے۔ اس سفر میں میرے ساتھ میرا فرزند فیمان علی، ہمارا مقامی گائیڈ محمد حسن اور ہمارا تجربہ کار مقامی ڈرائیور شہباز تھا۔ کچھ وقت کے لئے سفری بورڈز نہ ہونے کی وجہ سے ہم راستہ بھی بھٹک گئے تھے جہاں نہ کسی سڑک کا نشان تھا نہ کوئی بندہ بشرکہ اس سے راہ ہی پوچھ لیتے، مزید براں کہ ہم پاکستان کی ایک انتہائی نکڑ کی طرف محوِ سفر تھے تو موبائل نیٹ ورک نہیں تھا تو گوگل میپ بھی رہنمائی سے قاصر تھا، فیصلہ پھر یہ ہوا کہ واپس کسی قریہ تک پہنچ کر راہ کی درست سمت کا ادراک کیا جائے۔ اس سارے عمل میں ہمارا کوئی ایک پون گھنٹہ ضیاع کی ٹوکری میں گیا۔ سفر جسمانی طور پر طویل اور تھکا دینے والا تھا، مگر راستے کے مسحور کن مناظر نے ہر تھکن کو روحانی تقویت میں بدل دیا خاص طور پر شیوک دریا، جو ساتھ ساتھ ہی رہا۔ جیسے ہی ہم فرانو کے قریب پہنچے، تو یہ احساس ہوا کہ ہم پاکستان کے ایک ایسے کونے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پہاڑ صرف ایک منظر نہیں، بلکہ وہاں کے لوگوں کی زندگی، ان کی بقا اور ان کی شناخت کا لازمی حصہ ہیں۔ شام کی سنہری روشنی جب قراقرم کی چوٹیوں پر بکھری تو منظر انتہائی شاعرانہ تھا۔ مئی کی شام میں ہوا میں سردی کی ہلکی سی شدت موجود تھی، جو ہمیں بتا رہی تھی کہ دسمبر اور جنوری کی سردیاں یہاں کتنی بے رحم ہوتی ہونگی۔
ایک چھوٹا سا گاؤں، مگر بڑے دل والے لوگ
فرانو ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی ہوٹل نہیں، کوئی ریسٹورینٹ نہیں، اور نہ ہی کوئی جدید سہولت موجود ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے دورافتادہ علاقوں کی اصل خوبصورتی ان کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ وہاں کے لوگوں کے کھلے اور کشادہ دلوں میں ہوتی ہے۔ جہاں مہمان نوازی ایک تہذیبی تقاضا ہے، وہاں انسان اپنے وجود کا حقیقی جوہر محسوس کرتا ہے۔
ہمارے مقامی گائیڈ محمد حسن کے دوست، جناب شیر محمد صاحب نے ہماری دل و جان سے میزبانی کی۔ ان کے سادہ سے مگر پر سکون گھر میں قیام ہمارے لیے محض ایک رات گزارنے کا موقع نہیں تھا، بلکہ یہ فرانو کی اصل روح کو قریب سے چھونے کا ایک سنہری موقع تھا۔ شیر محمد صاحب کے گھر کی سادگی، ان کی گفتگو، رات کھانے اور چائے نے اس ایک رات کے قیام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ ایسے مقامات پر مسافر کو محسوس ہوتا ہے کہ مہمان نوازی صرف ایک عادت یا رسم نہیں، بلکہ پہاڑی معاشروں کی ثقافتی شناخت ہے جو نسلوں سے منتقل ہوتی آ رہی ہے۔
فرانو کی روزمرہ زندگی: معیشت، مشقت اور روایات
شیر محمد صاحب سے گفتگو کے دوران ہمیں فرانو کی سماجی زندگی اور معاشی نظام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں کل چھ مساجد ہیں، جو اس بات کی عکاس ہیں کہ مذہب یہاں کی زندگی کا محور ہے، اور یہ مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ سماجی مراکز بھی ہیں جہاں لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل پر مشورہ کرتے ہیں۔
فرانو کے لوگ اپنی روایتی زندگی سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت اور مقامی وسائل پر منحصر ہے۔ پہاڑی علاقوں میں قابل کاشت زمین انتہائی محدود ہوتی ہے، اس لیے ہر ایک کھیت کی اہمیت جان سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ جو، گندم اور مقامی پھلیاں اگاتے ہیں، اور ہر فصل ان کی سال بھر کی خوراک اور معیشت کی بنیاد ہوتی ہے۔ قریہ میں مجھے کھیتوں کی قربت میں بڑے بڑے دائرے نظر ا?ئے، جو پتھر کی تین چار فٹ اونچی دیواروں سے بنائے گئے تھے، ان کا قطر کوئی بیس فٹ اور محیط کوئی ساٹھ فٹ رہا ہوگا، کچھ اس سے کم قطر والے بھی تھے۔ شیر محمد صاحب سے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ گندم سے دانے نکالنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور ان کو ’’خُل‘‘ کہتے ہیں، زمین پر جنس (جو یا گندم) ڈال دی جاتی ہے اور اوپر یاک، گائے یا بیل کو چلا کر دانے الگ کئے جاتے ہیں۔ جدید مشینوں کے رواج سے ان کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے مگر یہ خُل تعداد میں کافی زیادہ ہیں جو کچھ عرصہ تو قدیم طرزِ زراعت کی کہانی ہر نئے آنے والے کو سناتے رہیں گے۔
فرانو کی خواتین بھی کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف گھر کے اندرونی معاملات سنبھالتی ہیں، بلکہ بیج بونے، فصلوں کی دیکھ بھال اور فصل کی کٹائی جیسے تمام زرعی مراحل میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔ پہاڑی معاشروں میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے بنیادی رہا ہے، کیوںکہ سخت موسموں اور دشوار گزار زمین میں خاندان کی بقا کا انحصار اجتماعی محنت پر ہوتا ہے، اور اس محنت میں خواتین کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ قریہ کی سیر کے دوران ہم یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ایک زیرِتعمیر گھر میں بھی خواتین پورا پورا ساتھ دے رہی تھی، انکی مضبوطی اس سے چھلک رہی تھی کہ وہ وزنی سامان کندھوں اور سر پراٹھا کر چھت تک لکڑی کی سیڑھی کے ذریعے پہنچا رہی تھی، وزن اٹھا کر لکڑی کی سیڑھی پر توازن قائم کرنا یقیناً آسان تو نہیں۔
فرانو میں گھوڑے پالنے کا شوق بھی خاص طور پر نمایاں ہے۔ یہاں گھوڑا صرف سواری کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ پہاڑی راستوں، دشوار گزار علاقوں اور طویل روایتی سفر میں گھوڑوں کی اہمیت صدیوں پرانی ہے۔ شیر محمد صاحب نے بتایا کہ گھوڑے ان کی ثقافت کا حصہ ہیں، اور ان کی افزائش نسل اور تربیت کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ جانور یہاں کی زندگی اور ماحول کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اس سرزمین کے محافظ ہوں۔ یہ پولو کے کھیل میں بھی استعمال ہوتے ہیں، شیر محمد خود بھی پولو کے اعلیٰ کھلاڑی رہے ہیں۔

پانی کا تالاب: زندگی کی بنیاد اور اجتماعی اشتراک
شیر محمد صاحب نے ہمیں گاؤں کے وسط میں ایک پرانا تالاب بھی دکھایا، جو مقامی آبادی کے لیے زندگی کا محور ہے۔ پہاڑی علاقوں میں پانی کی قدر عام میدانی علاقوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا آبی ذخیرہ بھی پوری بستی کی خوراک، معیشت اور بقا سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ تالاب نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پہاڑی لوگوں نے محدود وسائل میں کیسے اپنی عقل اور منصوبہ بندی سے زندگی کو ممکن بنایا۔ اوپر پہاڑوں سے برف زاروں اور چشموں کا پانی اس تالاب کے توسط سے کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ نظام کئی نسلوں سے اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے، جہاں کسان مل جل کر اس تالاب کی صفائی اور دیکھ بھال کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ جدید پمپس اور مشینری کے بغیر بھی انسان کس طرح اپنی ذہانت سے قدرتی وسائل کا بہترین استعمال کر سکتا ہے۔
آپو علی شاہ کا گھر اور تاریخی چوبی پل
فرانو میں ہمیں مقامی تاریخ سے جڑی ایک انتہائی اہم نشانی دیکھنے کا موقع ملا۔ شیر محمد صاحب نے ہمیں آپو علی شاہ کا قدیم گھر دکھایا، جو اپنی تعمیراتی مہارت کی وجہ سے مشہور ہے۔ آپو علی شاہ کا نام فرانو کے مشہور تاریخی لکڑی کے پل کی وجہ سے تاریخ میں زندہ ہے۔ مقامی روایت کے مطابق، یہ پل ۱۹۳۰ کی دہائی میں آپو علی شاہ کی نگرانی میں مقامی پاپلر کی لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس پل کی سب سے حیران کن اور منفرد بات یہ ہے کہ اسے تعمیر کرتے وقت کیلوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ مکمل طور پر لکڑی کے جوڑوں، رسیوں اور مقامی کاری گروں کی تجربہ کار مہارت کی بدولت کھڑا کیا گیا تھا۔
یہ پل مقامی تعمیراتی مہارت اور فن کا شان دار نمونہ ہے۔ آج جب ہم جدید مشینری، ویلڈنگ اور انجینئرنگ کے دور میں جی رہے ہیں، تب بھی ماضی کے ان بے نام کاری گروں کی یہ صلاحیت ہمیں حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ انہوں نے اتنی محدود ٹیکنالوجی کے باوجود کیسے اتنے مضبوط اور پائیدار ڈھانچے تعمیر کر لیے۔ شیوک دریا کے اوپر قائم یہ پل کبھی قریبی کئی دیہات کو آپس میں ملاتا تھا اور مقامی تجارت اور روزمرہ زندگی کا اہم ذریعہ تھا، مگر تاریخ کے بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات نے اس خطے کی اہمیت کو نئی سمت دے دی۔ آج یہ پل زنگ آلود نہیں، بلکہ وقت کی گواہی دے رہا ہے کہ یہاں کبھی ایک ترقی یافتہ مہارت کا رواج موجود تھا۔ سن اکہتر سے قبل یہ پل عام استعمال میں تھا، جب اسی برس لائن آف کنٹرول پل کے قرب میں آگئی تو یہ پل اجڑ گیا، آج بھی مسافروں کا منتظر ہے۔
مسجد اور خانقاہ: امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی روحانی یادگار
فرانو میں قیام کے دوران ہم نے ایک بہت قدیم مسجد بھی دیکھی، جس کے بارے میں مقامی روایت ہے کہ اس کی بنیاد حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ نے رکھی تھی۔ مقامی لوگ اس جگہ کو مسجد کے ساتھ ساتھ خانقاہ بھی کہتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں صرف عبادت نہیں ہوتی تھی بلکہ روحانی تعلیم اور تصوف کا مرکز بھی تھا۔
شیر محمد صاحب نے بتایا کہ فرانو میں نوربخشی فرقے کے کافی لوگ آباد ہیں اور یہ مقام ان کی مذہبی روایت میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ چودہویں صدی کے ایک عظیم صوفی بزرگ، عالم، فلسفی اور مبلغ تھے۔ آپ کا تعلق ایران کے شہر ہمدان سے تھا، اور آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کشمیر اور شمالی علاقوں کے اسفار میں گزارا۔ آپ نے نہ صرف اسلام کی تعلیمات کو فروغ دیا بلکہ علم، تصوف، اخلاقیات اور تہذیبی روایات کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کے خلیفہ خواجہ اسحاق ختلانی تھے اور ان کے شاگرد و مرید تھے شاہ سید محمد نور بخش، جن کی وجہ سے نوربخشیہ فرقہ یا روحانی سلسلہ وجود میں آیا، یہی وجہ ہے کہ فرانو، چھوربٹ اور بلتستان کے دیگر علاقوں میں نوربخشی کافی تعداد میں آباد ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت امیر کبیر کے ہمراہ آنے والے بہت سے کاری گروں اور دست کاروں نے کشمیر اور بلتستان کے فن تعمیر، قالین بافی، اور دیگر دست کاریوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فرانو کی یہ خانقاہ اسی عظیم تاریخی روایت کی ایک زندہ یادگار ہے، جہاں مذہب، ثقافت اور روحانیت آپس میں اس خوب صورتی سے جڑ جاتے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔ مسجد کی لکڑی پر بنے قدیم نقش و نگار اور اس کا سادہ مگر روح پرور ماحول ہر آنے والے کو ماضی کی علمی اور روحانی فضا میں لے جاتا ہے۔ اسی گاؤں حضرت امیر کبیر کا عصا بھی موجود ہے جو ہم دیکھ نہ سکے کہ جن صاحب کے پاس عصا تھا وہ اسکردو گئے ہوئے تھے۔
سن اکہتر کی جنگ اور بچھڑے ہوئے خاندان:
دل کو چیر دینے والی داستان
فرانو کی سب سے دردناک کہانی سن اکہتر کی پاک بھارت جنگ اور اس کے نتیجے میں سرحدوں کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔ یہ وہ باب ہے جہاں تاریخ محض نقشوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسانی جسموں، رشتوں اور پہچان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وادی چھوربٹ تاریخی طور پر ایک مربوط ثقافتی خطہ تھا۔ یہاں کے لوگ آپس میں رشتہ داریوں، روزمرہ تجارت اور سماجی تعلقات کے ذریعے مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے۔ مگر سن اکہتر کے الم ناک واقعات نے اس خطے کی جغرافیائی اور سماجی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ترتوک، تییاکشی، چلونکھا اور تھانگ جیسے گاؤں، جو پاکستان کا حصہ تھے، سرحد کے دوسری جانب بھارتی قبضے میں چلے گئے۔ یہ تقسیم محض زمین کی نہیں تھی، بلکہ ان خاندانوں کی جسمانی اور جذباتی تقسیم تھی جو صدیوں سے ایک تھے۔ شیر محمد صاحب نے جب یہ کہانی سنائی تو ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دو بھائی اور دادا دریائے شیوک کے اس پار تھانگ میں رہتے ہیں اور پتا بھی نہیں چلا کہ کب ہمارے بیچ لکیر کھنچ گئی، وہ ادھر رہ گئے اور ہم ادھر۔ تقریباً چالیس برس کی طویل جدائی کے بعد جب بڑا بھائی پہلی بار دوبارہ فرانو آیا تو یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی؛ یہ وقت، سرحد اور سیاست کے درمیان کچلے گئے رشتوں کا احیاء تھا۔
جب تقسیم ہوئی تو شیر محمد صاحب صرف چھے ماہ کے تھے۔ ان کا بڑا بھائی گوبا علی، جن کا اصل نام محمد علی تھا، پانچ سال کا تھا، جبکہ چھوٹے بھائی احمد شاہ کی عمر صرف تین سال تھی۔ چھوٹی سی عمر میں بچھڑے یہ بھائی کئی دہائیوں تک ایک دوسرے سے بچھڑے رہے۔ گوبا علی کی زندگی بھی اپنے آپ میں ایک متاثر کن داستان ہے۔ تھانگ جیسے دور افتادہ اور پس ماندہ سرحدی گاؤں میں انہوں نے نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا بلکہ قدرت، نباتات اور مقامی ثقافت سے اپنا ایک انوکھا تعلق قائم رکھا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کے زخم گہرے ضرور ہوتے ہیں لیکن انسان اپنی امید، محبت اور برداشت کے ذریعے ان زخموں کو بھی سہہ سکتا ہے اور زندگی کی شمع جلائے رکھ سکتا ہے جیسا کہ دریائے شیوک کے دونوں پار شمع فروزاں ہے۔
فرانو اور سیاحت کا مستقبل: امکانات اور ذمے داریاں
فرانو پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں سیاحت کے بے شمار پوشیدہ امکانات موجود ہیں۔ یہاں صرف پہاڑوں کی خاموش خوبصورتی نہیں، بلکہ ایک مکمل انسانی تجربہ موجود ہے۔ یہاں آنے والا سیاح قراقرم کی وادیوں اور برف پوش چوٹیوں کا نظارہ کر سکتا ہے، مقامی لوگوں کی صدیوں پرانی روایات کو سمجھ سکتا ہے، آپو علی شاہ جیسے تاریخی پل کو دیکھ سکتا ہے، اور اُن کہانیوں کو سن سکتا ہے جو کسی بھی کتاب میں درج نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات جیسے صحت کا مرکز، بجلی کا مستقل نظام، پینے کے پانی کا صاف انتظام، اور تعلیم کے مواقع کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیاحت کو اس طرح پروان چڑھایا جائے کہ مقامی ثقافت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں، بلکہ اس کے برعکس، سیاحت اس گاؤں کی معیشت کو مستحکم کرے اور نوجوانوں کو اپنی ثقافت پر فخر کرنے کا موقع دے۔ ذمہ دارانہ سیاحت ہی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ فرانو کی اپنی پہچان برقرار رہے۔
آخری الفاظ: واپسی پر ساتھ لے جانے والے جذبات
جب ہم فرانو سے واپس روانہ ہوئے تو میرے ذہن اور دل میں صرف پہاڑوں کے خوب صورت مناظر نہیں تھے۔ میرے ساتھ شیر محمد صاحب کی مہمان نوازی اور ان کی بے ساختہ باتیں تھیں، آپو علی شاہ کے اس پل کی کاریگری تھی جو بغیر کیلوں کے صدیوں تک کھڑا ہے، قدیم مسجد اور خانقاہ کی روحانی فضا تھی، اور سب سے بڑھ کر سن اکہتر میں بچھڑنے والے اور چالیس سال بعد گلے ملنے والے بھائیوں کی کرب ناک داستان تھی۔
فرانو پاکستان کا آخری سرحدی گاؤں ہے، لیکن یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تاریخ اپنے تمام تر حسن اور الم کے ساتھ زندہ ہے۔ یہ ہمیں یوگی بابا نے اک بار کہا تھا، ’’اصل سفر صرف منزل کو پہنچنا نہیں، بلکہ راستے میں ملنے والے انسانوں کی کہانیوں کو سننا، ان کے دکھ سکھ کو محسوس کرنا اور ان کی ثقافت کا احترام کرنا ہے جو ہمیں اپنے بچپن کی مٹی سے زیادہ قیمتی ورثہ دیتی ہے۔‘‘ فرانو کی یہ کہانیاں اس وقت تک زندہ رہیں گی جب تک اس وادی کے پہاڑوں پر شام کا سنہری سورج طلوع ہوتا رہے گا۔