امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکی فوج کو ایران پر سخت حملے کرنے کا حکم دوں گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اور گہرے مذاکرات کررہے ہیں ، اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو وہ سخت فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے تیار ہیں۔صدر ٹرمپ کے بیانات میں ایک دلچسپ تضاد بھی نمایاں ہے۔
ایک طرف وہ مذاکرات کو سنجیدہ، مفصل اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہیں، دوسری جانب یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سفارت کاری کے لیے وقت محدود ہے اور ناکامی کی صورت میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی زبان مذاکرات کے ماحول کو اعتماد نہیں دیتی بلکہ مخالف فریق کو یہ احساس دلاتی ہے کہ بات چیت ایک برابر کے فریق کے طور پر نہیں بلکہ دباؤ کے سائے میں کی جا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دھمکی کے زیر اثر ہونے والے معاہدے دیرپا اعتماد پیدا کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔
ایران کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی تردید اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا اعتراف اس بحران کی پیچیدگی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ سفارتی دنیا میں ایسے غیر اعلانیہ رابطے کوئی نئی روایت نہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار خاموشی، صبر اور باہمی اعتماد پر ہوتا ہے۔ جب ہر دوسرے دن میڈیا کے ذریعے سخت بیانات سامنے آئیں تو ثالثی کی کوششیں بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے موجودہ بحران میں اصل امتحان صرف مذاکرات کا نہیں بلکہ اعتماد سازی کا بھی ہے۔
دنیا کی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں الفاظ اور بارود کے درمیان فاصلہ لمحہ بہ لمحہ سمٹتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی رقابتوں اور سفارتی آزمائشوں کا مرکز بن چکی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بحری راستوں، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری تک پھیلتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کا حکم دیا جائے گا، اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید دنیا میں سفارت کاری کے دروازے اگرچہ کھلے رہتے ہیں، مگر ان کے عقب میں عسکری قوت کی پرچھائیاں ہمیشہ موجود ہوتی ہیں۔
یہ امر غیر معمولی نہیں کہ طاقتور ریاستیں مذاکرات اور دباؤ کو بیک وقت استعمال کرتی ہیں۔ تاہم موجودہ منظرنامے میں تشویش کی اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی داخلی سیاست، علاقائی اتحادوں اور عالمی حیثیت کے تقاضوں کے باعث کسی واضح پسپائی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ امریکا اپنی برتری کے تاثر کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جب کہ ایران برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے باوجود یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کی خودمختاری کسی بیرونی حکم کی محتاج نہیں۔ یہی باہمی ضد ہر نئی پیش رفت کو امید اور اندیشے کے سنگم پر لا کھڑا کرتی ہے۔
خطے کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ اس حقیقت سے ہے کہ تنازع اب صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہا۔ بحیرہ احمر، باب المندب، آبنائے ہرمز، یمن، عراق، شام، لبنان اور اسرائیل سب اس کشیدگی کے دائرے میں آتے ہیں۔ حوثیوں کے حملے، سعودی تنصیبات پر ڈرون کارروائیاں، بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور سرحدی فضاؤں میں ڈرونز کی مسلسل موجودگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ آج روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہی۔ اب تجارتی راستے، توانائی کی ترسیل، بندرگاہیں اور فضائی حدود بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔
باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف جغرافیائی مقامات نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار انھی سمندری راستوں سے گزرتی ہے، اگر ان گزرگاہوں میں عدم استحکام پیدا ہو تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتیں بھی اس کی زد میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ڈرون حملہ، ہر بحری رکاوٹ اور ہر عسکری بیان مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دیتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں کمی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ معیشت اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جیسے ہی یہ تاثر پیدا ہوا کہ فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے، سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے اور قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی اقتصادی نبض اب صرف پیداوار سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایک بیان قیمتیں بڑھا سکتا ہے اور ایک سفارتی پیش رفت انھیں نیچے لا سکتی ہے۔امریکی صدر کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثوں، جنگی اخراجات اور مالی تلافی سے متعلق بیانات بھی قابلِ غور ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا استعمال اگر معاشی مفادات کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ جنگ صرف سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی حکمت عملی بھی بن سکتی ہے۔ یہی سوچ عالمی نظام میں اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے کیونکہ چھوٹی ریاستیں خود کو انصاف کے بجائے طاقت کے ترازو میں تولے جانے کا احساس کرتی ہیں۔روس کا ممکنہ کردار بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ سیٹلائٹ معلومات کی فراہمی سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے اگرچہ امریکی صدر نے خود ہی اس امکان کو کمزور قرار دیا، تاہم اس بیان نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ موجودہ تنازع صرف علاقائی نہیں بلکہ بڑی عالمی طاقتوں کی رقابتوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یوکرین کی جنگ کے بعد پہلے ہی عالمی سیاست دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہو رہی ہے، ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کا ہر بحران اس تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم کی امریکا آمد اور ایران کو مذاکراتی ایجنڈے میں سرفہرست قرار دینا بھی معمولی واقعہ نہیں۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری اور عسکری پروگرام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ہر سفارتی یا عسکری پیش رفت اسرائیل کی قومی سلامتی کی پالیسی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں کسی بھی فیصلے کے اثرات کئی ریاستوں کے مفادات سے ٹکرا جاتے ہیں۔اس تمام صورتحال میں پاکستان کے لیے سفارتی ذمے داری بھی ہے اور آزمائش بھی۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مسلم دنیا اور عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں، خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور چین جیسے اہم شراکت دار کے ساتھ قریبی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتا ہے۔پاکستان کو اس بحران میں غیر جانبدار دانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف ایران ہمسایہ ملک ہے، دوسری جانب امریکا عالمی سیاست اور معیشت کا اہم کردار ہے، جب کہ خلیجی ریاستیں پاکستان کے لاکھوں شہریوں کے روزگار اور ملکی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جذباتی وابستگیوں کے بجائے قومی مفادات، علاقائی امن اور متوازن سفارت کاری کو بنیاد بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ چین کی موجودگی بھی اس منظرنامے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنے اقتصادی منصوبوں اور تجارتی راہداریوں کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی یاد دہانی ہے کہ ترقی کا سفر صرف اس ماحول میں ممکن ہے جہاں جنگی بادلوں کے بجائے اقتصادی شراکت داری کی فضا قائم ہو۔ یہی سوچ مستقبل کے ایشیا کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بے شمار انسانی المیوں، مہاجرین کے بحران، فرقہ وارانہ کشیدگی اور اقتصادی مشکلات سے گزر رہا ہے، اگر اس ماحول میں ایک نئی وسیع جنگ چھڑتی ہے تو اس کی قیمت صرف متعلقہ حکومتیں نہیں بلکہ عام شہری ادا کریں گے، وہ بچے جن کا مستقبل امن سے وابستہ ہے، وہ خاندان جن کی روزی علاقائی تجارت سے جڑی ہے اور وہ معاشرے جو مسلسل عدم استحکام کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔دانش مند قیادت کی پہچان صرف عسکری قوت نہیں بلکہ وہ بصیرت بھی ہے جو طاقت کے استعمال کو آخری چارہ کار بناتی ہے۔ سفارت کاری کی کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب تمام فریق اپنی فوری سیاسی کامیابی سے زیادہ طویل المدت استحکام کو ترجیح دیں۔ دھمکی وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتی ہے مگر پائیدار امن صرف باوقار مکالمے، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی وجود میں آتا ہے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن لمحے سے گزر رہی ہے جہاں ایک غلط اندازہ، ایک اشتعال انگیز بیان یا ایک غیر متوقع فوجی اقدام پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے شعلے عالمی معیشت، توانائی، سلامتی اور انسانی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ یہی وہ گھڑی ہے جب طاقت کے مظاہرے سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے، اتحادوں سے زیادہ اعتماد کی اہمیت ہے اور جنگی تیاریوں سے کہیں بڑھ کر امن کی سیاست کی ضرورت ہے، اگر عالمی قیادت اس نکتے کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئی تو شاید آنے والی نسلیں ایک اور تباہ کن تصادم سے محفوظ رہ سکیں، وگرنہ تاریخ ایک مرتبہ پھر یہی لکھے گی کہ انسان نے مکالمے کے دروازے کھلے ہونے کے باوجود بارود کی راہ اختیار کی۔