امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں

ایک لکھاری کی تحریر میں یہ خوبی ضرور ہونی چاہیے کہ اس کے الفاظ سے امید کی کوئی نہ کوئی کرن پھوٹتی نظر آئے۔


اطہر قادر حسن July 28, 2026

ایک لکھاری کی تحریر میں یہ خوبی ضرور ہونی چاہیے کہ اس کے الفاظ سے امید کی کوئی نہ کوئی کرن پھوٹتی نظر آئے۔ حالات چاہے کتنے ہی مایوس کن کیوں نہ ہوں، تحریر کو مکمل ناامیدی کا آئینہ نہیں بننا چاہیے۔ الفاظ اگر دلوں میں امید جگا سکیں، حوصلہ دے سکیں اور مشکل وقت میں راستہ دکھا سکیں تو شاید یہی تحریر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

والد صاحب کی تحریروں اور گفتگو میں ہمیشہ ایک مثبت سوچ اور امید کی جھلک نظر آتی تھی۔ وہ پاکستانیت کے سچے داعی تھے اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف ان کی کاٹ دار تحریریں آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ شاید وہ ایک ایسے دور میں جیئے تھے جب پاکستان کے معاشی حالات عام آدمی کی زندگی کو آج کی نسبت کم متاثر کرتے تھے اور آج کے دور کی بے شمار سہولیات، آسائشیں اور رنگینیاں زندگی کا لازمی حصہ نہیں بنی تھیں۔ لوگ قناعت پسند تھے اور دستیاب وسائل میں خوش رہنے کا ہنر جانتے تھے۔

لیکن آج کی جدید دنیا میں انسانی زندگی میں سہولیات کا اس قدر دخل ہو گیا ہے کہ کس آسائش کو اپنایا اور کس کو چھوڑا جائے ۔ ہر شخص انھیں للچائی نظروں سے دیکھتا ہے، چاہے وہ انھیں حاصل کرنے کی استطاعت رکھتا ہو یا نہیں، لیکن چاہتا ہے کہ دنیا میں دستیاب ہر آسائش اس کی دسترس میں ہو۔ یوں ضرورت اور خواہش کے درمیان ایک ایسی دوڑ شروع ہو گئی ہے جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا۔

مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب ملک کے معاشی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ کاروبار محدود ہو جائیں، روزگار کے مواقع سکڑ جائیں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ایک باعزت ملازمت کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے۔ لاکھوں روپے خرچ کرنے اور برسوں کی محنت کے بعد جب ایک نوجوان اپنی ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں در بدر پھرتا ہے اور اسے اپنی صلاحیت کے مطابق کوئی موقع نہیں ملتا تو اس کے اندر بے چینی اور ناامیدی کا جنم لینا فطری امر ہے۔پھر یہی نوجوان ملکی حالات سے مایوس ہو کر اس تگ و دو میں مصروف ہو جاتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان چھوڑ کر ایسے ملک منتقل ہو جائے جہاں روزگار کے مواقع ہوں، زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہو اور ریاست اپنے شہریوں کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا موقع دے۔

 آج ہمارے قابل نوجوان ان ممالک کا رخ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں جہاں انھیں روشن مستقبل کی امید دکھائی دیتی ہے۔ اسے ’برین ڈرین‘ کہتے ہیں۔ پاکستان کی اشرافیہ تو اپنے بچوں کے مستقبل کا بندوبست پہلے ہی کر چکی ہے، اب ہمارے جیسے مڈل کلاسیے بھی اسی سوچ کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ اگر بچوں کو بہتر مستقبل دینا ہے تو انھیں بیرون ملک منتقل کر دینا چاہیے کیونکہ آنے والا وقت مزید مشکل اور سخت نظر آتا ہے۔ ہماری نئی نسل جسے ’جنریشن زی‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں خواہشات بہت بڑی اور مواقع بہت محدود ہیں۔

 شاید وہ قناعت پسندی، جو ہمارے بزرگوں کا خاصہ تھی،بزرگوںکے ساتھ ہی وہ بھی اٹھ گئی، جب زندگی سے برکت کا احساس کم ہونے لگے تو خواہشیں بڑھتی جاتی ہیںاور مایوسیاں زندگی پر سایہ ڈال دیتی ہیںلیکن میں آج بھی مایوس نہیں ہوں۔ سکون صرف بڑی گاڑی، بڑے گھر اور بیرون ملک بینک اکاؤنٹ میں نہیں ہوتا، سکون ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر ملنے والی اس خوشی کا نام بھی ہے جسے دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔آخر یہ کیسی زندگی ہے کہ جس اولاد کے لیے انسان اپنی زندگی داؤ پر لگا دے، بہترین تعلیم دے، اپنی بساط سے بڑھ کر آسائش فراہم کرنے کی کوشش کرے اور جب ان کے ساتھ زندگی کے خوبصورت دن گزارنے کا وقت آئے توانھیں سات سمندر پار رخصت کردے ۔آج ہمارے اردگرد ایسے بے شمار بزرگ والدین موجود ہیں جو بڑے بڑے گھروں میں تنہا اور کرب ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر کشادہ ہیں مگر دل ویران ہیں۔ سہولیات بے شمار ہیں مگر اپنوں کی آواز سننے کو کان ترستے ہیں۔

اولاد کامیاب ہے مگر والدین کی آنکھیں دروازے پر لگی رہتی ہیں۔میں نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے کہا کہ کسی ملک کی شہریت لے لیتے ہیں، اس طرح ویزوں کے جھنجھٹ سے آزاد ہو جائیں گے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ پاکستان سے باہر جانا ہی نہیں چاہتا اور نہ ہی اپنی زندگی میں یہ آپشن رکھنا چاہتا ہے کہ کبھی بیرون ملک منتقل ہو سکے۔شاید اس کے اندر بھی اپنے دادا کی پاکستانیت، اپنی دھرتی سے محبت اور قناعت کی وہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے جو کبھی ہماری نسل کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ اس کے جواب نے مجھے ایک لمحے کے لیے یہ احساس ضرور دلایا کہ شاید امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں، شاید ہماری نئی نسل میں وطن سے جڑے رہنے کی خواہش زندہ ہے، شاید ہم نے ابھی سب کچھ نہیں کھویا۔ بیرون ملک زندگی بھی کوئی آسان نہیںہے، بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کی مشقت ہے، کوئی تفریح نہیں ، تنہائی ہے، اجنبیت ہے اور اپنے وطن سے دوری کا ایک مستقل کرب بھی ہے۔

اگرہماری حکومت اپنے نوجوانوں کو مواقع دے، کاروبار کو سہارا ملے، میرٹ کو فروغ دیا جائے اور عام آدمی کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے تو ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس نازک اور مشکل دور کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ہم ایک ایسی قوم ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ ضرورت صرف وسائل کو درست سمت دینے، نظام میں ترتیب پیدا کرنے اور قیادت میں اخلاص پیدا کرنے کی ہے جس دن حکمران عوام کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمے داری سمجھنے لگے، جس دن نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے پاسپورٹ کے بجائے اپنے وطن پر بھروسہ محسوس ہونے لگا، اس دن پاکستان کے آسمان پر چھائے مایوسی اور ناامیدی کے بادل چھٹنا شروع ہو جائیں گے اور وہ دن ضرور آئے گاکیونکہ قومیں صرف وسائل سے نہیں، امید سے زندہ رہتی ہیںاور جب تک اس ملک کے لوگوں کے دل میں پاکستان کے لیے امید کا ایک چراغ بھی روشن ہے تب تک پاکستان کا مستقبل تاریک نہیں ہو سکتا۔