معروف کاروبیار شخصیت ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ ہم صرف 3 ارب ڈالر کی برآمدات پر رکے ہوئے ہیں، اس لیے کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی مسئلہ موجود ہے۔
پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرم شیخ نے کہا ہے کہ یہ سمٹ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی گئی، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا۔
عاطف اکرم شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان اہم تجاویز کو فروغ دیا اور کاروباری طبقے کے مسائل پالیسی سازوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاملے پر نظرثانی پر زور دیا اور ایف بی آر کو دیے گئے مکمل اختیارات کے حوالے سے بھی حکومت سے بات کی، تاکہ ایف بی آر اپنے دائرہ اختیار سے باہر اقدامات نہ کرے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا صنعتی برآمدی پیکج کاروباری برادری کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن میں آئے ہوئے ڈھائی سال ہو چکے ہیں اور بجلی کی قیمت 17 سینٹ سے کم ہو کر 12 سینٹ رہ گئی ہے، جس کا کریڈٹ ایف پی سی سی آئی کی کوششوں کو جاتا ہے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کے 170 اضلاع میں غیر معمولی برآمدی صلاحیت موجود ہے اور اگر ہر ضلع سے ایک ارب ڈالر کی برآمدات ہوں تو مجموعی طور پر 170 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف تین ارب ڈالر کی برآمدات پر رکے ہوئے ہیں، اس لیے کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی مسئلہ موجود ہے۔ انہوں نے تمام صوبوں سے کھل کر تجاویز دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں متفقہ قرارداد پیش کی جائے گی۔