پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت پر زور دیتے ہوئے مغربی ایشیا کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے اور کہا ہے کہ چند روز کی پرامن صورتحال کے بعد ایک بار پھر صورتحال پھر دگرگوں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ فریقین کو اسلام آباد ایم او یو کی جانب دوبارہ لانے کی کوشش کر رہے ہیں، خطے بالخصوص آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر لانے کے لئے فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سلمان سے بات چیت ہوئی، وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کے رابطے کے بعد نائب وزیراعظم اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان بھی بات چیت ہوئی۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور اردنی ہم منصب کی درمیان فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات چیت ہوئی، خطے اور دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں کویتی وزیر خارجہ کا دورہ اسلام آباد اہم تھا۔
نائب وزیراعظم نے کویت کی جانب سے دفاعی تعلقات کو ادارہ جاتی سطح پر منظم کرنے کے لئے دفاعی معاہدے کی توثیق کو سراہا، پاکستان اور کویت نے کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے، پاکستان سمیت 8 عرب اسلامی ممالک نے فلسطین کی تشویشناک صورتحال پر مشترکہ بیان جاری کیا۔
نائب وزیراعظم کی مصری وزیر خارجہ کے ساتھ بھی مسئلہ فلسطین پر گفتگو ہوئی، پاک مصر وزرائے خارجہ نے فلسطین کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے انسانی امداد کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ مشاورت کا دور ورچوئلی منعقد کیا گیا، 24 جولائی کو وزارت خارجہ نے کامسٹیک کے تعاون سے جریدے کا اجرا کیا، 2026 کے جریدے میں سیکریٹری خارجہ سمیت وزارت خارجہ کے عہدیداروں کے آرٹیکلز شامل ہیں۔
پاکستان نے جرمن نشریاتی ادارے کی دستاویزی فلم مسترد کر دی، دستاویزی فلم میں جان بوجھ کر پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے بارے غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی، ڈی ڈبلیو کو بنیادی صحافتی اقدار پر عمل کرنا چاہئے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے جامع کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر اعتماد ہے، پاکستان کا نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی لگانا بھارتی حکومت کی عدم برداشت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال تشویشناک ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی پاکستان نے مذمت کی، پاکستان فریقین کو اسلام آباد ایم او یو کی جانب واپس لانے کی بھرپور کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، ہمیں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی امید ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کارگل کے حوالے سے کئی بار موقف کا اظہار کر چکا ہے، کارگل کا معاملہ اب تاریخ کا حصہ ہے، سابق ریاستی جموں کشمیر کے خطوں پر بھارتی قبضے کو معمول ظاہر کرنا اور قانونی کور دینا ناقابل قبول ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔
بطور میزبان پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کے لئے تمام رکن ممالک کو دعوت دینے کا پابند ہے، آئندہ برس ایس سی او سربراہ اجلاس کے لئے پاکستان کی جانب سے تمام رکن ممالک کو دعوت دی جائے گی، سعودی عرب کو اپنے دفاع کا مکمل حق ہے، عراقی حکومت کے موقف سے آگاہ نہیں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دفتر خارجہ ہر صورت پر بیان دینے کا پابند نہیں، ہم ضرورت اور حالات کے مطابق موقف کا اظہار کرتے ہیں، پاک کویت دفاعی معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا، کویت پاکستان دفاعی معاہدہ دوطرفہ تعلقات کی 4 دہائیوں کے بعد طے پایا۔
انہوں نے کہا کہ پاک کویت دفاعی معاہدہ پاک سعودی دفاعی معاہدے سے مختلف ہے، اردن اور بحرین سے بھی ہمارے دفاعی تعلقات ہیں، مقبوضہ کشمیر میں کسی نہ کسی طرح پیلٹ گنز کا استعمال آج بھی جاری ہے، ایمنسٹی اور دیگر تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال کو رپورٹ کیا، پیلٹ گنز کا استعمال کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آزار کشمیر میں انتخابات معمول کے آئینی عمل کا حصہ ہیں، انہوں نے پاک بھارت ہائی کمیشنز کے اہلکاروں کے لئے ویزے کے اجرا کی تصدیق کی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ہائی کمیشنز کے اہلکاروں کے ویزا کا اجرا انتظامی نوعیت کا ہے، افغانستان میں موجود دہشت یونیفارم نہیں پہنتے، پاکستانی حملوں میں سویلین ہلاکتوں کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں، ان ٹھکانوں اور ماسٹر مائنڈز کو نشانہ بناتا ہے اور بناتا رہے گا، پاکستان نے قانونی دستاویز کے حامل کسی افغان شہری کو ڈیپورٹ نہیں کیا، افغانستان سے آنے والی معلومات کی زمینی تصدیق انتہائی مشکل ہے، افغانستان میں متعدد مسلح گروہ موجود ہیں، افغانستان میں اگر کوئی مسلح گروہ کسی علاقے پر قبضہ کر لیتا ہے تو یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ثالثی اور دفاعی معاہدہ متضاد نہیں، دفاعی معاہدے بطور ثالث ہمارے کردار سے متصادم نہیں، وزیراعظم، سی ڈی ایف اور نائب وزیراعظم کی قیادت میں تمام حقیقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کام کر رہے ہیں، آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بھارت کے تمام بیانات مسترد کرتے ہیں، آزاد کشمیر کے آئین میں تبدیلی کا معاملہ قانون سازی سے طے ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سابق ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے سے طے ہونا ہے، پاکستان کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے کیا بھارت بھی کشمیریوں کے حقوق کا حامی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قونصلر خدمات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس ہوا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو عوامی سہولت کے لیے قونصلر خدمات میں بہتری کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، قونصلر خدمات کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے پر اجلاس میں تفصیلی غورکیا گیا۔
ترجمان کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے قونصلر خدمات میں صبح اور شام کی شفٹیں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، قونصلر خدمات کو مزید مؤثر، شفاف اور بروقت بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، نائب وزیراعظم نے شہریوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی، نائب وزیراعظم نے قونصلر خدمات میں شفافیت، رفتار اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شہریوں کو زیادہ آسان اور مؤثر قونصلر سہولیات کی فراہمی کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں، قونصلر خدمات میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرا کے عوامی سہولت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔