سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں پوا، اجلاس میں ڈپٹی کلکٹر کسٹم پشاور کی عدم موجودگی پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جان بوجھ کر کمیٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گیارہ سو بیس ارب روپے کا خام مال آیا، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ اسٹاف میں بھی ایک مافیا بیٹھا ہوا ہے، ایف بی آر اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور سمجھتا ہے پارلیمنٹ میں ان پڑھ لوگ بیٹھے ہیں۔ میرے لیے بہت آسان ہے کہ ٹیکس کھانے والوں سے مل جاؤں گا۔ سینیٹر دلاور نے اپنے کسی فائدے کی بات نہیں کی۔ سینیٹر دلاور خان کو خصوصی دعوت پر کمیٹی میں بلایا جاتا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سینیٹر دلاور کو بلانے کے دعوت نامے کمیٹی کو دکھائے۔
کنوینر کمیٹی نے کہا کہ جس دن کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے اسی دن چھاپہ پڑتا ہے اور سگریٹ کے ٹرک پکڑے جاتے ہیں۔ چکوال میں ایک فیکٹری پر چھاپہ مار کر 211 ملین کا سامان پکڑا، چکری کے قریب نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے 11 ٹرک پکڑے گئے۔ بتایا جائے یہ موٹروے پر کہاں سے آئے، موٹروے پر لگے کیمروں کی ویڈیوز کمیٹی کو دیں۔ ایف آئی اے چیک کرکے بتائے یہ ٹرک کہاں سے نکلے۔ فیکٹریوں میں کسٹم افسران، رینجرز بیٹھی ہے، یہ سامان کیسے نکل آئے؟ بائیس لوگ پکڑے گئے، ایف آئی آر گیارہ لوگوں پر دی گئی۔ یہ پتہ کریں ایف بی آر نے بندے چھوڑے یا موٹروے پولیس نے؟
اجلاس میں کنزمپشن سرٹیفکیٹس کی فہرست طلب کرلی گئی۔ کنوینر کمیٹی نے کہا کہ مجھے بتائیں ابڑو کی فاٹا یا پاٹا کے علاوہ ملک میں کوئی بھی فیکٹری ہے؟ نوے فیصد لوگ جنہوں نے فاٹا پاٹا ٹیکس چھوٹ لی وہ وزیرستان کے مقامی نہیں ہیں۔ پتہ کریں لال جی گھی مل کے مالکان کون ہیں۔ میں سینیٹ میں ٹاپ ٹیکس پئیر ہوں، میں نے کبھی امپورٹڈ کپڑا نہیں پہنا۔ کسی بندے کو حق نہیں کوئی کراچی یا پنڈی میں بیٹھا ہے اور فیکٹری فاٹا پاٹا میں لگائے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ 214 ملین کا اسٹیل اگر فاٹا میں استعمال ہوتا تو سارا علاقہ اسٹیل کا بنا ہو، ملک کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔
کمیٹی نے 20 فیکٹریوں کو کنزمپشن سرٹیفکیٹس جاری کیے جانے کی تفصیلات طلب کرلیں۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمیں 223 میں سے صرف 20 فیکٹریوں کی تفصیلات فراہم کردیں۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو 20 کمپنیوں کا ریکارڈ متعلقہ اداروں سے حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔
اجلاس میں سگریٹ پر ٹیکسز کے معاملے پر بھی بحث جاری ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق سگریٹ پر 18 فیصد کاسٹ ٹیکس ہے، ایک ہزار اسٹکس پر 16 ہزار 500 ایف ای ڈی ہے۔ سستے برانڈز پر 12,500 پر 5,500 ٹیکس ہے جبکہ ایف ای ڈی لیکوئڈ پر 16,500 ہے۔ ڈن ہل لائٹ کی قیمت 583 روپے ہے، اس پر سیلز ٹیکس 89 روپے ہے، اس کی قیمت 494 روپے ہے۔ کیپسٹن سلٹ کی قیمت 172 روپے ہے، 26 روپے سیلز ٹیکس ہے۔ کنوینر کمیٹی کے مطابق 95 فیصد امپورٹ 2 بڑی کمپنیوں کی ہے۔