سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین ہونے ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو مسلم دنیا کے لئے ایک تاریخی قدم اور مشرق وسطٰی میں ایک اہم تزویراتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ معاہدہ مسلم دنیا کیلئے کئی دہائیوں کے بعد ایک اہم سنگ میل کی طرف وہ پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے جسکا مطالبہ پوری امت مسلمہ میں عوامی سطح پر طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔اس معاہدہ کو پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کا تسلسل کہا جا سکتا ہے اور توقع کی جا سکتی ہے مستقبل میں امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اس معاہدے میں مصر'قطر کویت اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہو جائیں گے اور یہ نیٹو کی طرح ایک ایسے گرینڈ مسلم بلاک کی شکل اختیار کرسکتا ہے جو کسی بڑی طاقت کی محتاجی کے بغیر باہمی اشتراک و تعاون سے جہاں اپنے دفاعی معاشی علاقائی سیاسی و سفارتی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہو وہیں دنیا کے دیگر معاملات کے بارے میں اس کے موقف اور اقدامات کا وزن ہو۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکہ اسرائیل یورپ اور ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک اس کو کیسے دیکھتے ہیں اور اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔
قطر کویت صومالیہ نے تو اسے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم یو اے ای سمیت دیگر مسلم ممالک اور امریکہ اور یورپی ممالک کی کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان ترکیہ اور سعودیہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدہ کا کسی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ ڈیزائن نہیں ہے یہ باہمی دفاعی معاشی اور علاقائی تعاون و اشتراک پر مبنی ہے۔اس کے باوجود اسرائیل اور بھارت میں اس معاہدہ کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسرائیل نے تو اسے اپنے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔
اس معاہدے کے حوالے سے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ آیا یہ معاہدہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائے گا یا محض کاغذوں تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا ؟مزید یہ کہ اس پر عملدرآمد کن صورتوں میں ہوگا، اسکی حدود اور طریقہ کار کیا ہوگا ؟۔ان سوالات کا جواب حاصل کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاہدے کے اہم نکات کیا ہیں۔
اس معاہدے کے سب سے اہم نکتے کے مطابق معاہدے میں شریک تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی عسکری حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انھیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں ہیں تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کرنے کی باقاعدہ تقریب سے قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں تینوں ملکوں کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔ بیان کے مطابق تینوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر تینوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کی خاطر اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن ، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔
اس معاہدے کے حوالے سے خبریں اور قیاس آرائیاں کافی عرصے سے جاری تھیں اور رواں برس جنوری میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ فیدان نے اس وقت کہا تھا کہ صدر اردوغان کی یہ سوچ ہے کہ ایک وسیع اور جامع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے۔ اس کے بعد جنوری میں ہی پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا چکا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔
یہ پہلو اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور سفارتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے جبکہ ترکی غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کو اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے جو دشمن قوتوں کی جارحیت کے خلاف ڈیٹرنس کے طور پر کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ یہ معاہدہ ان تینوں ممالک اور خطے کیلئے کیا کردار ادا کرسکتا ہے ؟
اس بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے مابین ہونے والا یہ معاہدہ اہم ضرور ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے بعد سب کچھ بدل جائے گا۔ ترک اخبار ’ ڈیلی صباح ‘ سے وابستہ صحافی ’مہمت چلیک‘ کہتے ہیں کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گذشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ یوکرین، روس جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے کئی ممالک کے لیے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ خاص طور پر رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔
مہمت کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی بات کریں تو اْسے 28 فروری کے بعد امریکہ سے وہ سکیورٹی تحفظ نہیں ملا جس کی اسے اْمید تھی۔ اسی طرح پاکستان کی بات کریں تو جوہری طاقت ہونے کے باوجود وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بھارت کے خلاف معاملات میں ممالک اس کے پیچھے کھڑے ہوں۔ اْن کے بقول اسی طرح ترکی بھی ایسے ہمسائیوں میں گھرا ہوا ہے جہاں سکیورٹی مسائل ہیں۔ لہذا اسے بھی اپنی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید وسائل اور فوجی تعاون کی ضرورت ہے۔ مہمت کہتے ہیں کہ ترکی یہ بھی چاہتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے جانب سے کیے جانے والے غیر متوقع جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں ایک سکیورٹی میکنزم موجود ہو تاکہ ان ممالک کی جانب سے پیدا کیے گئے عدم استحکام سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں: ’’میرے نزدیک اس معاہدے میں شریک ممالک کی خطے میں اہمیت کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے مضوط فوج، جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان، معاشی قوت اور بڑا بھائی سمجھے جانے والے سعودی عرب کے رہنماؤں کا مکہ میں دفاعی معاہدہ کیلئے جمع ہونا بہت اہم اور تاریخی واقعہ ہے‘‘۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور اسرائیل کے عزائم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔ اسرائِیل کے سابق وزیرِ اعظم نے کچھ ماہ پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل دْشمن وہ سْنی الائنس ہے جو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔ یروشلم میں امریکی یہودی تنظیموں کے صدور کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے سابق اسرائیلی وزیراعظم کے پاکستان سے متعلق بیان کو قیاس آرائی قرار دیا تھا۔
بین القوامی امور کے ماہرین کے مطابق فوری طور پر تو نہیں لیکن مستقبل میں امریکہ بتدریج مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے پر غور کر رہا ہے اور بظاہر یہ تینوں ممالک ایک مضبوط اتحاد بنا کر اس کے متبادل کے طور پر یہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں. مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اتحاد اس حوالے سے مسلمان ممالک کا فطری ردِعمل ہے۔یہ تینوں ممالک بہت اہم ہیں۔ ترکی کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے پاکستان مسلم دْنیا کی واحد جوہری طاقت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔
اس معاہدے کا مقام اور اس کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔ آگے چل کر اس معاہدے میں مصر اور قطر بھی شامل ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کچھ برسوں بعد ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔ مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کے ذریعے بظاہر یہ پیغام دینا مقصود ہو گا کہ کسی کو بھی خطے میں جارحیت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف آنکھ اْٹھا کر دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دراصل سعودی عرب ترکی کے جدید دفاعی نظام اور پاکستان کی میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی کو اسرائیل اور ایران کے خلاف ایک حفاظتی شیلڈ سمجھتا ہے۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ پاکستان ایران کے معاملے میں سفارتی سطح پر ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایران کو پاکستان اور دیگر دونوں ممالک کی طرف سے یہ یقینی دہانی کروائی جانی ضروری ہے کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف نہیں ہے۔ اگر ایران نے اس اتحاد کو اپنا دْشمن سمجھا تو پھر اس اتحاد کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے اْن کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، بالکل اْسی طرح جیسے برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ طور پر ساتھ دینے سے بھی انھیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔ پاکستان کے سٹریٹیجک تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھارت نے گذشتہ برس مئی کی لڑائی میں ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور اب معاہدے پر تو اسے شدید اعتراض ہو گا۔
بھارتی مبصرین گذشتہ دو ہفتے سے کہہ رہے تھے کہ یہ معاہدہ عملی شکل اختیار نہیں کرے گا کیونکہ اْن کا خیال تھا کہ ترکی باضابطہ طور پر اس معاہدے میں شامل نہیں ہو گا۔لیکن ترکی نے بھارتی مبصرین کو غلط ثابت کردیا۔اسکی دفاعی پیدواری صلاحیت اور جدید ڈرونز اس اتحاد میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس دفاعی معاہدے سے مسلم امہ کے خلاف غزہ ایران کشمیر روہنگیا بھارت اور دیگر خطوں میں ہونے والی ظلم و بربریت سے دل گرفتہ مسلم امہ کے دل میں ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب ظلم کے ان ہاتھوں کو روکنے اور توڑنے کیلئے کوئی آہنی اور عملی اقدامات کرنے والی طاقت وجود میں آنے جا رہی ہے۔ میں تو کہوں گا اب او آئی سی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے سفارتی محاذ کے ساتھ اسی طرح کے دفاعی اتحاد میں بھی تبدیل کردینا چاہئے تاکہ دنیا کو بقول علامہ اقبال یہ پیغام جا سکے کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر