اسوٹہ میگالتھس (صوابی)

جہاں خاموش کھڑے پتھر ایک گمشدہ ماضی کی کہانی سناتے ہیں



پاکستان کی سرزمین ہزاروں برس پر محیط تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ یہاں وادیٔ سندھ کی شہری تہذیب، گندھارا کی بدھ مت روایت، اسلامی عہد کے شان دار آثار اور متعدد علاقائی ثقافتوں کے نقوش آج بھی محفوظ ہیں۔

تاہم ان معروف آثار کے علاوہ کئی ایسے مقامات بھی موجود ہیں جو اپنی غیرمعمولی تاریخی اہمیت کے باوجود عوامی توجہ اور سائنسی تحقیق سے بڑی حد تک محروم رہے ہیں۔ ضلع صوابی، خیبرپختونخوا کے تاریخی علاقے شیوا میں واقع اسوٹہ میگالتھس بھی ایسا ہی ایک نادر مقام ہے، جو پاکستان میں قدیم سنگی یادگاروں کی روایت کی نمایاں مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مقام اپنی منفرد ساخت اور پراسرار نوعیت کی وجہ سے محققین، ماہرینِ آثارِقدیمہ اور تاریخ کے طالب علموں کے لیے کھلی دعوت ہے۔ اگرچہ عوامی ذرائع ابلاغ میں اسے بعض اوقات پاکستان کا اسٹون ہینج کہا جاتا ہے، لیکن علمی اعتبار سے یہ محض ایک تشبیہ ہے، جس کے ذریعے عام قارئین کو اس مقام کی نوعیت سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسوٹہ کی تاریخی حیثیت، تعمیر، زمانۂ تعمیر اور اصل مقصد کے بارے میں اب بھی متعدد سوالات تحقیق طلب ہیں۔

میگالتھ کیا ہیں؟ بڑے پتھروں کی قدیم دنیا

میگالتھ کا لفظ یونانی زبان کے دو الفاظ سے نکلا ہے، جن میں ایک کے معنی بڑا اور دوسرے کے معنی پتھر کے ہیں۔ آثارِ قدیمہ میں اس اصطلاح سے مراد ایسی یادگاریں یا تعمیرات ہیں جو بڑے تراشیدہ یا غیرتراشیدہ پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہوں۔ میگالتھک یادگاروں کی نمایاں اقسام میں بلند سنگی ستون، پتھروں سے بنے تدفینی ڈھانچے، سنگی حلقے اور دیگر منظم پتھریلی تعمیرات شامل ہیں۔ بعض مقامات پر یہ تدفینی یادگاروں کے طور پر استعمال ہوئیں، بعض پر مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں، جبکہ کچھ مقامات ممکنہ طور پر فلکیاتی مشاہدات یا موسمی تقویم سے متعلق تھے۔ کئی یادگاروں کے اصل مقاصد آج بھی یقینی طور پر معلوم نہیں ہوسکے۔

میگالتھک روایت صرف یورپ تک محدود نہیں رہی بلکہ ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں بھی اس کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ برطانیہ کا اسٹون ہینج، فرانس کے کارناک کے سنگی ستون، آئرلینڈ، اسپین، پرتگال، جنوبی کوریا، ہندوستان اور سعودی عرب کے متعدد مقامات اس روایت کی مختلف شکلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تمام مقامات میں اگرچہ ظاہری مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن ان کی تاریخ، ثقافت اور استعمال ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں قدیم سنگی یادگاروں کی روایت

پاکستان میں میگالتھک آثار کی تعداد یورپ یا جنوبی ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم ہے، تاہم شمال مغربی پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور شمالی پہاڑی علاقوں میں چند اہم مقامات ایسے ضرور موجود ہیں جہاں بڑے سنگی ستون یا پتھروں کی منظم ترتیب دیکھی جا سکتی ہے۔ ان میں اسوٹہ میگالتھس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اسوٹہ کے علاوہ ایسے آثار غذر (گلگت)، باوٹا (بلوچستان) اور تھوہر کنارو (سندھ) وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔

محلِ وقوع اور جغرافیائی اہمیت: صوابی کی تہذیبی سرزمین

اسوٹہ میگالتھس ضلع صوابی کے تاریخی علاقے شیوا کے قرب میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ دریائے سندھ اور وادیٔ پشاور کے درمیان ایک ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جو قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں، تجارتی راستوں اور انسانی آبادیوں کی آمدورفت کا مرکز رہا ہے۔ گندھارا، باختر، وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان رابطے کی وجہ سے یہ پورا خطہ ہمیشہ تہذیبی تبادلوں کی راہداری رہا ہے۔ یہی جغرافیائی حیثیت اسوٹہ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے، کیونکہ یہ امکان موجود ہے

کہ یہاں کی سنگی یادگاروں کی روایت مقامی ثقافتی ارتقا کے ساتھ ساتھ بیرونی اثرات سے بھی متاثر ہوئی ہو۔ تاہم موجودہ شواہد اس بارے میں کوئی قطعی فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

دریافت اور ابتدائی تحقیق: ایک خاموش یادگار کی تلاش

برطانوی دور میں شمال مغربی سرحدی علاقوں کے آثارِقدیمہ کی ابتدائی نشاندہی کے دوران اس مقام کا ذکر مختلف سرویز میں سامنے آیا، لیکن اس پر باقاعدہ سائنسی تحقیق نہیں ہو سکی۔ آزادی کے بعد بھی زیادہ تر توجہ گندھارا کے بدھ مت آثار اور ٹیکسلا جیسے عالمی شہرت یافتہ مقامات پر مرکوز رہی۔ پاکستان کے ممتاز ماہرِآثارِ قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی نے شمالی پاکستان اور گندھارا کے تاریخی جغرافیے پر اپنی تحقیقات کے ذریعے اس پورے خطے کی قدامت کو اجاگر کیا۔ اگرچہ انہوں نے اسوٹہ میگالتھس کی مکمل کھدائی نہیں کی، تاہم ان کی علمی کاوشوں نے شمال مغربی پاکستان میں قبل از اسلام آثار کے مطالعے کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ حال ہی میں اطالوی محققین اور خیبر پختونخوا کے محکمۂ آثارِقدیمہ کے اشتراک سے شروع ہونے والے خیبر پاتھ پراجیکٹ نے اس مقام کی جدید دستاویز بندی، نقشہ سازی اور سروے کا آغاز کیا۔ امید ہے اس سے ہم کو اس مقام کی تاریخ کو جاننے کا موقع ملے گا۔

ساخت اور تعمیراتی خصوصیات

اسوٹہ میگالتھس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کے بڑے سنگی ستون ہیں، جنہیں آثارِقدیمہ کی اصطلاح میں مینہیر کہا جاتا ہے۔ مطلب مینہیر ایسے بڑے پتھروں کو کہا جاتا ہے جو عمودی حالت میں زمین میں گاڑھ کر نصب کیے گئے ہوں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی ساخت، تعداد اور مقصد مختلف رہا ہے، لیکن اسوٹہ کے یہ سنگی ستون اپنی ترتیب اور مقام کے اعتبار سے پاکستان میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔

سروے کے مطابق یہاں تیس سے بتیس سنگی ستون یا مینہیر موجود تھے، اگرچہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ان کی تعداد کے بارے میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے، قدرتی عوامل اور انسانی مداخلت کے باعث ان میں سے کئی ستون گر چکے ہیں یا مکمل طور پر ضائع ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ستون مختلف حالتوں میں آج بھی موجود ہیں۔ مقامی روایت ہے کہ ان کو گنا نہیں جاسکتا کہ ہر بار گننے والا گنتی بھول جاتا ہے، میں جب سن دو ہزار سترہ میں دورہ کیا تو میں انکو ہر مینہیر کی الگ الگ تصویر لے کر گنا۔ چودہ مینہیر تو تقریباً مکمل ایستادہ تھے جبکہ سات ایسے تھے جن کی صرف بنیاد ہی زمین سے باہر جھانکتی نظر آرہی تھی یا کچھ ایک فٹ تک ابھی موجود تھے، مطلب تقریباً دائرہ کی شکل میں، میں جو مینہیر گنے ان کی تعداد اکیس بنتی ہے۔

یہ ستون مقامی پتھروں سے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کی اوسط اونچائی تقریباً تین میٹرہے، جبکہ بعض ستون اس سے بھی زیادہ بلند محسوس ہوتے ہیں۔ ہر ستون کا وزن کئی ٹن بتایا جاتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں تراشنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور پھر عمودی حالت میں نصب کرنا ایک نہایت پیچیدہ تعمیراتی عمل تھا۔ یہ بات خاص توجہ کی مستحق ہے کہ ان پتھروں کی تنصیب ایسے دور میں ہوئی جب جدید مشینری، بھاری آلات اور کرینیں موجود نہیں تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان یادگاروں کے معماروں کو اجتماعی محنت، منصوبہ بندی اور بھاری پتھروں کی نقل و حمل کے مؤثر طریقوں پر غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ اگرچہ اس عمل کی تفصیلات معلوم نہیں، لیکن دنیا کے دیگر قدیم سنگی مقامات کی مثالوں کی روشنی میں یہ امکان ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ لکڑی کے گول شہتیروں، رسیوں، مٹی کے ڈھلوانی راستوں اور اجتماعی انسانی قوت سے یہ کام انجام دیا گیا ہوگا۔

اسوٹہ کے ستونوں کی ترتیب محض بے ترتیب پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہے۔ متعدد ستون تقریباً دائرہ نما ترتیب میں نصب کیے گئے تھے، دائرے کا قطر تقریباً بارہ میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ یہی منظم ترتیب اس مقام کو محققین کے لیے خاص دل چسپی کا باعث بناتی ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ موجودہ منظر وہ نہیں جو تعمیر کے وقت تھا۔ صدیوں کے دوران متعدد ستون گر گئے، بعض اپنی اصل جگہ سے ہٹ گئے، جبکہ کچھ ممکنہ طور پر زرعی سرگرمیوں یا دیگر انسانی مداخلت کے باعث ضائع ہو گئے۔ اسی لیے موجودہ ترتیب کی بنیاد پر اس یادگار کی اصل منصوبہ بندی کو مکمل یقین کے ساتھ بحال کرنا ممکن نہیں۔

اسوٹہ کی تاریخ: کب تعمیر ہوا؟

یہ اس مقام سے متعلق سب سے اہم اور پیچیدہ سوال ہے۔ اب تک ایسی کوئی باقاعدہ سائنسی کھدائی نہیں ہوئی نہ ہی کوئی مکمل سائنسی مطالعہ کہ جس سے اسوٹہ میگالتھس کی قطعی تاریخ متعین کی جا سکے۔ چونکہ یہ یادگار بنیادی طور پر پتھروں پر مشتمل ہے، اس لیے صرف خود پتھروں کی بنیاد پر ان کی عمر معلوم نہیں کی جا سکتی۔ آثارِقدیمہ میں ریڈیو کاربن تاریخ بندی صرف نامیاتی مواد، مثلاً لکڑی، ہڈی، کوئلے یا بیج وغیرہ پر کی جا سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں اس مقام سے ایسا محفوظ نامیاتی مواد دریافت ہوتا ہے تو اس کی مدد سے زیادہ قابلِ اعتماد تاریخ حاصل کی جا سکے گی۔

موجودہ شواہد کی بنیاد پر بین الاقوامی ماہرین اس یادگار کو عمومی طور پر پہلی ہزاری قبل مسیح سے منسلک کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ واضح تاریخ دینا موجودہ شواہد کی روشنی میں ممکن نہیں۔ سلمان رشید صاحب لکھتے ہیں ’’قریب ہی واقع گاؤں ادینہ میں 1990ء کی دہائی کے وسط میں قدیم آریائی قبروں کی دریافت نے اس علاقے کو خاصی شہرت دی۔ گاؤں کے باہر ایک کم اونچائی والی پہاڑی پر ایسی قبریں موجود ہیں جن میں انسانی ہڈیوں یا راکھ کے برتنوں کے علاوہ دیگر آثار بھی دریافت ہوئے تھے۔ ان آثار کی تاریخ 14ویں سے 12ویں صدی قبل مسیح کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آریائی برصغیر میں تقریباً پانچ سو سال سے موجود تھے۔ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ادینہ کی پہاڑی پر اپنے مردوں کو سونے اور تانبے کے زیورات اور مٹی کے برتنوں کے ساتھ دفن کیا، ممکن ہے اسوٹہ کے پتھر کھڑے کرنے والے لوگ بھی وہی ہوں۔ اگر میرا یہ قیاس درست ہے تو پھر اسوٹہ کا یہ پتھریلا دائرہ تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قدیم ہونا چاہیے۔‘‘

اسوٹہ میگالتھس کی تاریخ کے بارے میں بعض تحریروں میں اسے ہخامنشی عہد سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم اس نسبت کے حق میں فی الحال کوئی ایسا براہِ راست اور قطعی آثارِقدیمہ کا ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر اس مقام کو یقینی طور پر ہخامنشی دور کی یادگار قرار دیا جاسکے۔ اس لیے اس نسبت کو ایک ممکنہ مفروضے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر نہیں۔

اسوٹہ کے مقاصد و استعمال: عبادت گاہ، رسوماتی مقام یا کچھ اور؟

قدیم سنگی یادگاروں کے بارے میں ایک عام سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا ان کا تعلق فلکیات سے تھا یا نہیں۔ اسوٹہ کے بارے میں بھی بعض محققین نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ستونوں کی ترتیب سورج کے طلوع و غروب یا موسمی تبدیلیوں سے کسی نہ کسی حد تک مربوط ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی قدیم سنگی مقامات، خصوصاً برطانیہ کے اسٹون ہینج، میں سورج کی مخصوص سمتوں کے ساتھ تعمیراتی مطابقت پائی گئی ہے۔ اسی وجہ سے اسوٹہ کے بارے میں بھی یہی مفروضہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب تک اس نظریے کے حق میں کوئی فیصلہ کن ثبوت دست یاب نہیں۔ نہ کسی ستون پر فلکیاتی علامات ملی ہیں، نہ ایسی مستقل پیمائشیں شائع ہوئی ہیں جو واضح کریں کہ تمام ستون سوچ سمجھ کر مخصوص فلکیاتی سمتوں کے مطابق نصب کیے گئے تھے۔ اس لیے موجودہ علمی موقف یہی ہے کہ فلکیاتی استعمال ممکن تو ہے، لیکن ثابت نہیں۔

ایک خیال یہ ہے کہ اسوٹہ کسی مذہبی یا رسوماتی مقام کے طور پر استعمال ہوتا ہوگا۔ دنیا کے دیگر قدیم سنگی مقامات پر بھی ایسے شواہد ملے ہیں جہاں بڑے پتھر مذہبی اجتماعات، اجتماعی رسومات یا مقامی قبائل کی اہم تقریبات سے وابستہ تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مقام مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہو۔ دنیا کے کئی آثار میں ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی مقام نے وقت کے ساتھ اپنی مذہبی، سماجی یا ثقافتی حیثیت تبدیل کی۔ اس لیے اسوٹہ کے اصل مقصد کا تعین کرنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق اور آثارِقدیمہ کی کھدائی ضروری ہے۔

مقامی لوک روایات اور عوامی یادداشت: پتھر بنی بارات کی کہانی

قدیم آثار کے گرد لوک روایات کا جنم لینا ایک فطری امر ہے۔ جب کسی یادگار کی اصل تاریخ اور مقصد وقت کے ساتھ لوگوں کی یادداشت سے محو ہو جائے تو مقامی آبادی اس کی تشریح اپنے ثقافتی تصورات، مذہبی احساسات اور اجتماعی یادداشت کی روشنی میں کرنے لگتی ہے۔ اسوٹہ میگالتھس بھی اس روایت سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

صوابی سے میرے مقامی دوست اور جامعہ گجرات کے استاد ڈاکٹر عادل زمان کے بقول، جس کی دعوت پر میں شیوا اڈہ اور اسوٹہ شریف کا دورہ کیا، شیوا اور اس کے گردونواح میں ایک معروف روایت بیان کی جاتی ہے کہ قدیم زمانے میں ایک شادی کا جلوس اس مقام سے گزر رہا تھا۔ راستے میں کسی غیر معمولی واقعے یا الٰہی آزمائش کے نتیجے میں پوری بارات پتھر بن گئی۔ اسی روایت کی بنیاد پر بعض لوگ مختلف ستونوں کو دلہا، دلہن، قاضی، باراتیوں یا دیگر افراد سے منسوب کرتے ہیں۔ اس روایت کو اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس مقام سے بارات گزر رہی تھی اور لٹیروں نے حملہ کیا تو خواتین نے عزت و حرمت کی وجہ سے پتھر ہوجانے کی دعا کی جو قبول ہوئی۔

تاریخی اعتبار سے اس روایت کی کوئی بنیاد دریافت نہیں ہوئی، لیکن ثقافتی اعتبار سے اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لوک داستانیں کسی مقام کی اصل تاریخ تو بیان نہیں کرتیں، البتہ وہ اس بات کی عکاسی ضرور کرتی ہیں کہ مقامی آبادی صدیوں سے ان آثار کو غیر معمولی اور قابلِ احترام سمجھتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ آثارِقدیمہ ایسی روایات کو تاریخی ثبوت نہیں بلکہ غیر مادی ثقافتی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔

پاکستان میں اسوٹہ کی انفرادیت و درپیش مسائل

پاکستان میں ہڑپہ، موئن جودڑو، ٹیکسلا، تخت بھائی، جمال گڑھی اور گندھارا کے متعدد آثار عالمی شہرت رکھتے ہیں، لیکن اسوٹہ میگالتھس ان تمام مقامات سے مختلف نوعیت کے آثار ہیں۔ یہ مقام کسی شہری تہذیب، خانقاہ، بدھ مت کے اسٹوپا یا اسلامی عمارت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی قدیم روایت کا مظہر ہے جس کے بارے میں ابھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ یہی پہلو اسوٹہ کو آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت عطا کرتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ اسوٹہ میگالتھس کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کے یہ مستحق ہیں۔ قدرتی عوامل، موسمی تغیر، بارش، زلزلے، زرعی سرگرمیاں اور انسانی مداخلت نے وقت کے ساتھ ان ستونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بعض ستون گر چکے ہیں، کچھ اپنی اصل جگہ سے ہٹ گئے ہیں، جبکہ اردگرد کی زمین میں تعمیرات کی وجہ سے مسلسل تبدیلیوں نے آثار کے اصل منظرنامے کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے اس مقام کی اصل ساخت کو سمجھنا مزید مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس مقام کی مکمل دستاویز بندی کی جائے، سائنسی طرز پر کھدائی، حفاظتی باڑ اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ اس نادر ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔

نتیجہ: خاموش پتھروں سے ماضی کی صدا تک

اسوٹہ میگالتھس پاکستان کے ان نادر آثارِقدیمہ میں شامل ہیں جو اپنی خاموشی میں بھی ماضی کی ایک طویل داستان سموئے ہوئے ہیں۔ یہ صرف چند بڑے پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، اجتماعی تنظیم اور قدیم سماجی زندگی کی ایک اہم علامت ہیں۔ آج ہمارے پاس اس مقام کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں اور نسبتاً کم جوابات۔ یہی کسی عظیم آثارِ قدیمہ کی پہچان بھی ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کے محققین کو مسلسل تحقیق کی دعوت دیتا رہے۔ اسوٹہ بھی ایک ایسا ہی مقام ہے، جہاں ہر نئی سائنسی تحقیق ماضی کے کسی نئے باب کو روشن کر سکتی ہے۔ لہٰذا اس تاریخی ورثے کی حفاظت صرف ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ قومی فریضہ بھی ہے۔ اگر ہم نے آج اس یادگار کو محفوظ رکھا اور اس پر سنجیدہ تحقیق کی تو آنے والی نسلیں نہ صرف پاکستان کی ایک کم معروف تہذیبی روایت سے آگاہ ہوں گی بلکہ عالمی آثارِقدیمہ میں بھی اس خطے کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔