کیا آپ زندگی کے ایسے موڑ سے گزر رہے ہیں، جہاں آپ کو اپنے قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں؟ اور اپنا وجود ہی بھاری اور بے مقصد لگتا ہے؟ زندگی بے مقصد، ہر کوشش رائیگاں اور ہر فیصلہ پہلے سے طے شدہ لگتا ہے۔
آپ کو اپنی محنت اور قابلیت پر شک ہوتا ہے، جب کہ لوگ آپ پر رشک کرتے ہیں۔ آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی کام یابی محض ایک اتفاق اور قسمت کی مہربانی تھی۔ آپ کا یہاں تک کا سفر ایک حادثہ تھا، یا آپ صحیح وقت، صحیح راہ نمائی اور کسی خوش قسمتی کے سبب یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس میں آپ کا کوئی کمال نہیں ہے۔ آپ اس کام یابی اور مقام کے مستحق نہیں تھے، بلکہ حالات کا کرشمہ ہے۔اس لئے آگے کا سفر آسان نہ ہوگا، کیوں کہ آپ کے پاس نیکسٹ لیول پر جانے کے لیے وہ قابلیت، مہارت، تربیت اور وسائل نہیں ہیں جو اس مقام تک پہنچنے کے لیے درکار ہیں۔ آپ اپنی کام یابی کے خوف سے خوف زدہ ہیں اور مستقبل کے خدشات نے آپ کے اعتماد کو بری طرح گھائل کردیا ہے۔ آپ ماضی کے گرداب، مستقبل کے دھندلے پن اور اپنے حال سے نالاں ہیں۔ تو آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ اکیلے ایسی صورتِ حال سے نہیں گزر رہے اور نہ ہی آپ غلط سوچ رہے ہیں۔
نفسیات میں ایسی اور اس سے ملتی جلتی صورتِ حال کو امپوسٹر سنڈروم (Imposter Syndrome)کہتے ہیں۔ یہ کیا ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے۔ معروف جریدے سائیکولوجی ٹوڈے کے ایک مضمون کے مطابق’’وہ لوگ جو امپوسٹر سنڈروم کا سامنا کرتے ہیں، اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی کام یابیوں اور اس عزت و احترام کے مستحق نہیں ہیں جو حقیقت میں انھیں حاصل ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اتنے قابل یا ذہین نہیں جتنا دوسرے لوگ انھیں سمجھتے ہیںاور انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ بہت جلد لوگ ان کی ’’حقیقت‘‘ جان لیں گے۔ امپوسٹر سنڈروم کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں ہے۔ اس کا سامنا کرنے والے افراد اکثر بہت کام یاب ہوتے ہیں؛ وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں یا ان کے پاس متعدد تعلیمی ڈگریاں ہوسکتی ہیں۔ امپوسٹر سنڈروم کو سمجھنا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں اور اپنی محنت کو تسلیم کرنے کے بجائے، امپوسٹر سنڈروم کا شکار افراد اکثر اپنی کامیابیوں کو بیرونی یا عارضی عوامل سے منسوب کرتے ہیں، مثلاً قسمت، صحیح وقت پر صحیح موقع مل جانا، یا ایسی غیر معمولی محنت جسے وہ مستقل طور پر جاری رکھنے کے قابل نہیں سمجھتے ہیں۔ چاہے معاملہ تعلیمی کام یابی کا ہو یا پیشہ ورانہ ترقی کا، کوئی بھی انسان کام یابی کے ساتھ ساتھ اپنے اُوپر موجود دباؤ اور ذاتی توقعات کے باعث بھی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔‘‘
بہرحال ہمارا یہ موضوع نہیں، بلکہ ایسی صورتِ حال سے نکلنا کیسے ہے، اس مڈ کیریئر کے سفر کو کیسے بہتر بنانا ہے اور اپنی قدرتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے، اپنے حقیقی پوٹینشل کو استعمال کرتے ہوئے، اپنی کارکردگی اور اثرات کا ازسرِنو جائزہ لینا، اپنی سوچ، ارادوں اور سب سے بڑھ کر اپنے نقطہء ظر کو پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارا ماحول، ہمارے اِردگرد موجود لوگ اور راہ نما کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ہم اس صورتِ حال سے کیسے نکلیں؟ ان نکات پر بات کریں گے۔
اپنی زندگی کا ازسرِنو جائزہ لیں
یاد رکھیں کہ جو جوش، جذبہ، نقطہ آغاز اور مقصد ہمیں اپنے سفر کے آغاز میں حاصل تھا، اس کی آدھی سے کم توانائی ہمیں اس وقت اس مقام تک لے کر جانے کے لیے درکار تھی، جس کا ہم نے اپنے آغاز سے تعین کیا تھا۔اس ساری صورتِ حال میں بہترین حکمتِ عملی موثر اختیار ہے۔ اس لیے اگر آپ کو اپنے مستقبل پر خدشات ہیں تو یاد رکھیں کہ ہماری موجودہ کارکردگی اور سوچ پر دھندلی دھول اور وقت کی گرد پڑ چکی ہے، جسے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو جھاڑنے، اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔جس کے لیے ہمیں خود احتسابی اور مؤثر نظام، اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایسے پیمانے اور معیار مقرر کرنے ہوں گے۔
خود اعتمادی سب سے اہم اور بنیادی خوبی
یاد رکھیں، خوداعتمادی ہی وہ خوبی ہے جو بہت سارے عام لوگوں اور کام یاب لوگوں میں فرق پیدا کرتی ہے۔ جب ہم اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو ہم بالکل نئے ہوتے ہیں اور اپنے اعتماد کی وجہ سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خدشات، طعنے، منفی تجربات وباتیں اور دوسروں کے ساتھ موازنے کی وجہ سے ہم اپنا اعتماد، خود پر اپنا بھروسہ کھو دیتے ہیں۔ اور خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھی بھروسا نہیں رہتا ہے۔ اور ہم غیرمتزلزل اور بے ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایسی صورتِ حال میں یاد رکھیں، خوداعتمادی ہی وہ سب سے بنیادی اور اہم خوبی ہے جو ہمارے اس سفر میں مزید کام یابی کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
کہانی کا دوسرا رخ
کوچ عباس حیدر لکھتے ہیں’’لیکن یہاں کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جس پر ہم کم بات کرتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو خود کو غیرمحفوظ محسوس کر رہا ہو، ضروری نہیں کہ وہ Imposter Syndrome کا شکار ہو۔کبھی کبھی مسئلہ خوداعتمادی کا نہیں، تیاری کا ہوتا ہے۔ ایک طالب علم اچھے نمبروں کی وجہ سے اگلے مشکل مرحلے میں پہنچ جاتا ہے، مگر نئے مرحلے کے تقاضوں کے لیے خود کو تیار نہیں کرتا۔ ایک بہترین employee manager بن جاتا ہے، مگر یہ نہیں سیکھتا کہ اب صرف اپنا کام اچھا کرنا کافی نہیں؛ اسے دوسروں سے کام بھی لینا ہے۔ ایک کام یاب businessman کاروبار بڑھا لیتا ہے، مگر اپنے پرانے طریقوں کو ہی نئے حجم پر استعمال کرتا رہتا ہے۔ پھر فیصلے رکنے لگتے ہیں، ٹیمیں الجھنے لگتی ہیں اور انسان سوچتا ہے:’’شاید میں اس کام کے قابل ہی نہیں ہوں۔‘‘ حالانکہ شاید مسئلہ قابلیت کا نہیں بلکہ نئے کردار کے لیے نئی تیاری کا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کا بھی ہے کہ آخر بدلا کیا ہے؟ اور کیا اس بدلاؤ کے ساتھ میں نے خود کو بدلا؟ زندگی میں جب ذمہ داری بڑھتی ہے تو صرف اعتمادنہیں، learning، adaptability اور خود سے صحیح سوال پوچھنے کی صلاحیت بھی بڑھانا پڑتی ہے۔ خود سے پوچھیں: مجھے اس نئے مرحلے میں کیا سیکھنا ہے؟ Learn مجھے کیا چھوڑنا ہے؟ Unlearn کون سی پرانی عادت اب میرے کام نہیں آ رہی؟اور مجھے کس طرح کا انسان بننا ہوگا تاکہ اس نئی ذمہ داری کو بہتر طریقے سے نبھا سکوں؟ Relearn۔
یاد رکھیں، غلطی کا مطلب ہمیشہ نااہلی نہیں ہوتا۔ کبھی یہ صرف اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کو کچھ نیا سیکھنا ہے۔اور ہاں، اگر آپ واقعی قابل ہیں تو اپنی کامیابی کو قسمت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو چھوٹا نہ کریں۔لیکن اگر کسی نئے مقام پر پہنچ کر واقعی کچھ کم پڑ رہا ہے تو اسے بھی تسلیم کریں۔ خود کو کمتر سمجھنا بھی غلط ہے، جیسا کہ خود کو مکمل سمجھ لینا بھی۔ اصل ترقی شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہے؟ اپنی قابلیت پر یقین رکھیں، اپنی کمزوری کو پہچانیں، اور سیکھنے سے کبھی ریٹائر نہ ہوں۔
واضح ہدف، کامیابی کی ضمانت
بہت سارے لوگ سفر کے آغاز میں اپنے مقاصد مقرر کرتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی کے تجربات اور زندگی کے نشیب و فراز ہمیں اپنا انداز بدلنے کی ضرورت پر مجبور کرتے ہیں۔ بہت سارے لوگ ایسی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو ہی چھوڑ دیتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں، وقت، تجربات اور حالات ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنے مقصد کو نہیں، اپنے طریقہ کار کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے اگر آپ کا ہدف پہلے دن کی طرح آج بھی واضح اور آپ کی نظروں کے سامنے ہے تو یہ آپ کے لیے کام یابی کی ضمانت ہے۔ بہت سارے لوگ اپنے خواب کی واضح تصویر نظر نہ آنے پر مستقبل سے بے دِل ہو جاتے ہیں۔
راہ نما اور کوچ کی ضرورت و افادیت
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ُدنیا میں ہر کام یاب کاروباری انسان، پیشہ ور افراد، کھلاڑی اور دیگر کام یاب لوگ اپنی فیلڈ کے ماہر افراد کو اپنا کوچ مقرر کرتے ہیں؟ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ انہیں اپنی صلاحیتوں یا اپنی کارکردگی پر بھروسا نہیں ہوتا ہے، بلکہ وہ جانتے ہیں کہ انسانی دماغ کو ایسے راہ نما، راہ نمائی اور کوچ کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف اسے راہ نمائی دے سکے بلکہ اپنے زندگی کے تجربے سے اسے درست سمت بھی دے سکے۔اور ساتھ ہی ساتھ اس کی خود احتسابی کرنے، اپنے ہدف پر قائم رہنے اور سب سے بڑھ کر اپنے قدرتی پوٹینشل کو عملی طور پر بروئے کار لانے میں مدد اور معاونت کرسکے۔ اگر آپ زندگی کے اس مرحلے میں جدوجہد کر رہے ہیں تو آپ کو ایک اچھے مینٹور اور کوچ کی ضرورت ہے۔
نئے چیلنجز کے مطابق صلاحیتوں اور اپروچ میں تبدیلی
بہت سارے لوگ نئے وقت کے ساتھ ساتھ نئے چیلنجز، ذمہ داریاں اور عہدے ملنے پر اپنی صلاحیتوں اور اپروچ میں تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نئی اسکلز اور نئی مہارتوں کو سیکھنے کی ضرورت کو مسلسل نظرانداز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مدِمقابل اور بعد میں آنے والے لوگ اُن سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔وہ اپنی ماضی کی کام یابیوں کو بنیاد بنا کر، اپنی انا کی وجہ سے، اکثر کچھ نیا اور منفرد کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ماضی سے کٹنا اور روایت سے ہٹنا
بہت سارے لوگ اپنی ماضی کی کام یابی اور روایتی طریقوں کے ساتھ چمٹے رہنا ہی کام یابی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ بے شک، مستقبل کی کام یابی کے لیے ماضی کے تجربات کارآمد ثابت ہوتے ہیں، لیکن ہر بدلتے دن اور وقت کے ساتھ ہمیں نئے چیلنجز اور نئی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے ماضی سے اپنے آپ کا تعلق توڑنا اور روایت سے ہٹنا ہمارے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ آج کے جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے دُور میں ہر روز نئی چیز سیکھنا اور نئے دُور کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
وقت کی رفتار اور معیار کے مطابق چلنا
وقت سب سے بڑا استاد ہوتا ہے، اس لیے جو لوگ وقت کے مطابق خود کو ڈھالتے اور وقت کے ساتھ چلتے ہیں، وہ کبھی وقت کی مار نہیں کھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم میں سے بہت سارے لوگ اپنے آپ کو وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ نہیں کرتے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ خود کو اپ گریڈ کریں۔ یاد رکھیں، ہم وہی رہتے ہیں۔ ہمارے چیلنجز، توقعات اور کام کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، جس کے مطابق ہمیں بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے۔زندگی، رشتے، پیشہ ورانہ زندگی اور وقت مسلسل بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں بدلنے پر متحرک کرتے ہیں۔ لیکن ہم آسانی سے خود کو بدلنا نہیں چاہتے، کیوںکہ تبدیلی ایک تکلیف دہ عمل ہے، لیکن ناگزیر ہے۔
مسلسل تبدیلی زندگی کی اصل حقیقت
ہمارے افکار تازہ نہیں رہتے، اور ہم میں رسک لینے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، مائنڈ سیٹ بدلنے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے رویے بدلیں اور اپنے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نئے معیار اور عہدے کے ساتھ خود کو اپ ڈیٹ اور اپ گریڈ رکھنا سب سے اہم ہے، مگر پرانے طریقوں کو چھوڑنا اس سے بھی زیادہ لازمی امر ہے۔ ہم کامل نہیں بلکہ نامکمل اور زیرِتعمیر ہیں، بلکہ مسلسل تکمیل کے سفر پر گام زن ہیں۔ کام یابی منزل نہیں، سفر ہے اور مسافروں پر لازم ہے کہ وہ چلتے رہیں۔ چلیں گے تو منزل پر ضرور پہنچیں گے، آغازِ سفر سے حصولِ منزل ممکن نہیں ہے۔ اور آپ تو اس کا آغاز کب کا کرچکے ہیں۔ اس کی کاملیت پر نہیں، تکمیل پر توجہ مرکوز کریں۔ اپنا دوسروں سے موازنہ چھوڑیں۔ کسی نے کیا، خوب صورت پیغام دیا۔’’منزل تو ملے ہی ملے گی، چاہے راستہ ہی کیوں نہ بھٹک جائیں۔ غافل تو وہ ہیں جو گھر سے نکلے ہی نہیں۔‘‘