گلگت بلتستان محض بلندبالا پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، گلیشیئرز اور شور مچاتے دریاؤں کا نام نہیں، یہ خطہ دراصل انسانی تہذیب کے ان قدیم ابواب کا امین بھی ہے جن کے بہت سے صفحات ابھی تک وقت کی گرد میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ خاموش ضرور ہیں، مگر اگر ان کی خاموشی کو غور سے سنا جائے تو صدیوں پرانی بستیاں، اجڑے ہوئے قلعے، گم شدہ راستے، قدیم آب رسانی کے نظام، علمی مراکز اور انسان کے خوف و امید سے جڑی داستانیں سنائی دینے لگتی ہیں۔
ملک کے انتہائی شمال میں واقع یہ خطہ اپنی تہذیبی تاریخ کے اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کی تہذیب اتنی ہی قدیم دکھائی دیتی ہے جتنے یہاں کے دریا اور پہاڑ۔ زمانہ بدلتا رہا، بستیاں آباد اور ویران ہوتی رہیں، حکم راں آتے اور جاتے رہے، مگر ماضی کے نقوش چٹانوں، کھنڈرات، قدیم ناموں اور زمین کے اندر دفن آثار کی صورت میں آج بھی موجود ہیں۔
قدیم آبادیوں کے کھنڈرات سے پکی اینٹیں، مٹی کے پکے برتن، گھریلو استعمال کی اشیا اور تعمیرات کے آثار ملتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر زیرِزمین مٹی کی پکی نالیوں کے ذریعے پانی پہنچانے اور نکاسی آب کا باقاعدہ انتظام بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان علاقوں میں آباد لوگ اپنے زمانے کے لحاظ سے تعمیرات، آب رسانی اور شہری نظم و نسق کے بارے میں خاصا شعور رکھتے تھے۔
یہی کہانی داریل کی وادی سے لے کر ’’مڈوری‘‘ وادی یاسین کے بعض قدیم مقامات تک پھیلی ہوئی ہے۔
داریل۔۔۔ جہاں پہاڑوں کے درمیان علم کی مشعل روشن تھی
وادی داریل صدیوں سے زرخیز اور مردم خیز خطہ رہی ہے۔ مقامی روایات اور تاریخی حوالوں میں اس وادی کو علم و دانش کے ایک اہم مرکز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک قدیم درس گاہ کے آثار کا ذکر ملتا ہے جسے مقامی لوگ آج ’’فوگوچی‘‘ کہتے ہیں، جب کہ بعض اہلِ تحقیق کے نزدیک اس نام کی قدیم صورت ’’فوکوشی‘‘ ہوسکتی ہے۔
لفظ کی لسانی تشریح اپنی جگہ ایک دل چسپ بحث ہے، تاہم مقامی روایت اسے روشنی، آگ یا علم کی مشعل سے جوڑتی ہے۔ یہ تصور بذاتِ خود ایک خوبصورت تاریخی منظر ہمارے سامنے لاتا ہے: پہاڑوں میں گھری ہوئی ایک بلند جگہ، جہاں کبھی علم کے چراغ روشن ہوتے ہوں گے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے یہاں قیام کرتے ہوں گے۔
چینی سیاح فاہیان کے سفرنامے میں بھی داریل کے ایک قدیم علمی مرکز کا ذکر ملنے کی روایت بیان کی جاتی ہے۔ اگر یہ روایت اور اس سے متعلق تاریخی شواہد مزید مستند تحقیق سے ثابت ہوجائیں تو داریل کی علمی تاریخ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے خطے کی تہذیبی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام حاصل کرسکتی ہے۔
قدیم زمانے میں بلند مقامات پر آگ روشن کرنا پیغام رسانی کا ایک معروف طریقہ بھی رہا ہے۔ خطرے، کسی اہم واقعے یا آمدورفت کی اطلاع دینے کے لئے پہاڑوں کی چوٹیوں پر الاؤ روشن کیے جاتے تھے۔ ایسے میں کسی بلند مقام پر واقع قدیم درس گاہ یا بستی کا نام روشنی اور آگ سے وابستہ ہونا اپنے اندر ایک علامتی معنویت بھی رکھتا ہے۔
شاید اسی لئے بعض پہاڑ آج بھی ہمیں یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اندھیرے میں صدیوں پرانے چراغوں کی روشنی تلاش کر رہے ہوں۔
ناموں میں چھپی ہوئی تاریخ
داریل کی وادی میں سفر کریں تو بعض ایسے مقامات کے نام سننے کو ملتے ہیں جن کے اندر ماضی کے نقوش محسوس ہوتے ہیں۔ شاہیمل، یشوٹ اور گماری جیسے نام محض جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ مقامی لسانی ورثے کے حصے بھی ہیں۔
شاہیمل کے بارے میں مقامی مفہوم اسے کسی مخصوص فرد یا نسبت سے منسوب کھیتوں سے جوڑتا ہے، جب کہ ’’گماری‘‘ کے بارے میں بعض لسانی آرا اسے ایک قدیم صورت ’’گیؤمار‘‘ سے جوڑتی ہیں، جس کے معنی پررونق، دل افزا یا خوش کن مقام کے بیان کئے جاتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے۔ مقامی ناموں کی لسانی تشریح کو حتمی تاریخی حقیقت قرار دینے سے پہلے باقاعدہ لسانی اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق ضروری ہے۔ لیکن یہ نام اس لیے اہم ضرور ہیں کہ زبان اکثر وہ تاریخی یادداشت محفوظ کر لیتی ہے جو عمارتیں اور تحریری ریکارڈ کھو جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔
گویا کبھی کبھی ایک لفظ بھی ایک پورا کھنڈر ہوتا ہے۔
رجوکوٹ۔۔۔۔ خاموش قلعہ اور پانی کی زیرِ زمین راہیں
شاہیمل سے کچھ بلندی پر ایک ابھری ہوئی جگہ کو مقامی لوگ رجوکوٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہاں قدیم قلعے کے کھنڈرات کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ بڑے بڑے پتھروں سے بنائی گئی فصیل کے نشانات اور اندرونی حصے میں رہائشی تعمیرات کے آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کبھی یہاں ایک مضبوط آبادی یا قلعہ موجود تھا۔
شاید یہ کسی مقامی حکم راں یا شاہی خاندان کی رہائش گاہ رہی ہو۔ شاید یہ دفاعی مرکز تھا۔ یا ممکن ہے اس کے کئی مقاصد ہوں۔ حتمی جواب آثارِ قدیمہ کی منظم تحقیق ہی دے سکتی ہے۔

قلعے کے گرد کھیتوں اور پانی کی نالیوں کے نشانات بھی مقامی تاریخ کا ایک دل چسپ باب ہیں۔
قلعے سے اوپر دو نالے واقع ہیں جنہیں مقامی لوگ کوٹوگہ اور بچھے گہ کہتے ہیں۔ ایک نالے میں پانی رواں رہتا ہے جب کہ دوسرا نسبتاً خاموش یا خشک دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بالائی حصے میں ایک چشمہ بھی موجود ہے۔
مقامی روایت کے مطابق چشمے سے قلعے تک مٹی کی پکی نالیوں کے ذریعے پانی پہنچانے کا انتظام تھا اور زیرِ زمین راستوں سے پانی کھیتوں اور باغات تک بھی پہنچایا جاتا تھا۔
اگر یہ روایات آثارِقدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوجائیں تو یہ اس علاقے کے قدیم باشندوں کی انجنیئرنگ اور آب رسانی کے علم کا ایک حیرت انگیز نمونہ ہوگا۔
آج وہاں آبادی نہیں، مگر زمین کے نیچے شاید کسی زمانے کی زندگی اب بھی سو رہی ہے۔
زمین کے سینے میں دفن خزانے
شاہیمل کے مقامی باشندے نسل در نسل یہ روایت بیان کرتے آئے ہیں کہ زمین کی کھدائی کے دوران قدیم نوادرات اور بعض اوقات قیمتی اشیا بھی برآمد ہوتی رہی ہیں۔ مختلف چٹانوں پر قدیم نقوش اور یادگاروں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
مقامی روایات میں ’’دفن خزانے‘‘ کی باتیں تقریباً ہر قدیم بستی کے ساتھ جڑی ہوئی ملتی ہیں۔ مگر آثارِقدیمہ کے ماہرین کے لیے اصل خزانہ سونا یا قیمتی دھات نہیں، بلکہ وہ مٹی کے برتن، اینٹیں، سکے، تحریریں، انسانی آبادی کے نقشے یا تعمیراتی باقیات ہیں جو کسی بھولی ہوئی تہذیب کی کڑی دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مقامات پر غیرسائنسی کھدائی کے بجائے ماہرینِ آثارقدیمہ کو باقاعدہ تحقیق کا موقع دیا جائے۔
نپورہ۔۔۔ خاموش کھنڈرات اور چھٹی صدی کے مخطوطات
گلگت شہر کے قریب نپورہ بھی قدیم تہذیبی آثار کے اعتبار سے اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں ہونے والی کھدائیوں کے دوران قدیم مکانات کے آثار اور نوادرات سامنے آنے کی اطلاعات رہی ہیں۔ چھٹی صدی سے منسوب مخطوطات کی دریافت نے اس خطے کی تاریخی اور لسانی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔
یہ مخطوطات گپتا دور کے بعد کے زمانے سے متعلق قرار دیئے جاتے ہیں اور تاریخ و لسانیات کے طالب علموں کے لئے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔
لیکن سوال وہی ہے جو اس پورے خطے کے آثارِقدیمہ کے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم نے اپنے ماضی کو محفوظ کرنے کے لئے وہ کچھ کیا جو کرنا چاہئے تھا؟
آزادی کے بعد کئی دہائیاں گزر گئیں، مگر گلگت بلتستان میں ایک ایسا جامع اور مؤثر عجائب گھر قائم نہ ہو سکا جہاں اس خطے کے بکھرے ہوئے تہذیبی شواہد ایک مربوط داستان کی صورت میں محفوظ کیے جاسکیں۔
یہ محض عمارت کا فقدان نہیں، یہ اجتماعی یادداشت کے تحفظ کا سوال ہے۔
گاہکوچ۔۔۔۔ جہاں پہاڑ میں ایک خوف ناک راز چھپا ہے
اب ذرا رخ کرتے ہیں ضلع غذر کے صدر مقام گاہکوچ کی طرف،
یہاں خوب صورت پہاڑوں کے درمیان ایک ایسا غار موجود ہے جس کے بارے میں مقامی روایات سن کر آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس غار کو مقامی لوگ ’’جڑاؤملک‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
کبھی یہ غار اپنی اصل حالت میں زیادہ گہری اور خوف ناک بتائی جاتی تھی، مگر وقت کے ساتھ اس میں مٹی اور پتھر بھرنے سے اس کی گہرائی کم ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود مقامی لوگوں کے ذہنوں میں اس کا خوف اور اس سے جڑی داستان آج بھی زندہ ہے۔
روایت ہے کہ قدیم مقامی حکم رانوں کے دور میں ریاستی مجرموں یا مخالفین کو اس تاریک اور گہری غار میں ڈال دیا جاتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق انہیں زندہ یہاں چھوڑ دیا جاتا، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
اسی لئے اسے کبھی ’’موت کا کنواں‘‘ بھی تصور کیا گیا۔
غار ایک کھڑی چٹان پر واقع ہے۔ اوپر سے ایک تنگ اور دشوار گزار پگڈنڈی اس کے دہانے تک پہنچتی ہے، جبکہ غار کا منہ تقریباً عمودی انداز میں نیچے کی طرف کھلتا ہے۔ ذرا سی لغزش انسان کو سنگین حادثے سے دوچار کر سکتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے پہاڑ کے سینے میں ایک ایسا دروازہ بنا دیا ہو جس کے پار جانے والے کے لئے واپسی کا راستہ خود پہاڑ نے بند کر دیا ہو۔
کیا غار میں انسانی ہڈیاں واقعی موجود تھیں؟
اس غار کی داستان کو مزید پراسرار بنانے والی ایک روایت یہ بھی ہے کہ چند برس قبل جامعہ پنجاب کے شعبہ تاریخ سے وابستہ اساتذہ نے غار کا جائزہ لیا تھا۔ ان کے ہم راہ پروفیسر امیر تاج، گورنمنٹ ڈگری کالج اسکردو، بطور معاون راہ نما بھی تھے۔
روایت کے مطابق غار کے اندر انسانی ہڈیاں بھی دیکھی گئیں جنہیں پرانا قرار دیا گیا۔
یہاں بھی ایک سائنسی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ان ہڈیوں کی باقاعدہ عمر معلوم کی گئی؟ کیا ان کا سائنسی تجزیہ ہوا؟ اگر ہوا تو نتائج کیا تھے؟
ایسے سوالات کے جواب ہی اس غار کی داستان کو روایت سے تاریخ اور تاریخ سے مستند تحقیق میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
گاہکوچ۔۔۔ ایک نام، کئی کہانیاں
گاہکوچ کے نام کی لسانی تشریح بھی اپنے اندر ایک دل چسپ بحث رکھتی ہے۔ بعض مقامی لسانی آرا کے مطابق یہ نام قدیم صورت ’’گہ کژ‘‘ سے تبدیل ہو کر موجودہ شکل تک پہنچا، جسے برفانی بستی یا برف سے وابستہ لوگوں کے مفہوم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں یہاں برف باری زیادہ ہوتی تھی، اسی مناسبت سے بستی کا نام رکھا گیا ہوگا۔
تاہم زبانوں کی تبدیلی، صوتی تغیر اور مقامی بولیوں کے ارتقا کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی تشریحات کے لیے باقاعدہ لسانی تحقیق ناگزیر ہے۔
گاہکوچ کے قریب ایک اور گاؤں ’’ایشی‘‘ بھی واقع ہے۔ مقامی لسانی روایت میں اسے قدیم صورت ’’عیشی‘‘ سے جوڑا جاتا ہے اور اس کے معنی آسمان جیسی بلندی کے بیان کئے جاتے ہیں۔ واقعی یہ بستی بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے گردونواح کا دلکش منظر پیش کرتی ہے۔
یوں ایک نام جغرافیہ بتاتا ہے، دوسرا تاریخ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور تیسرا شاید کسی قدیم قوم یا زبان کی باقی ماندہ آواز ہو۔
پہاڑوں کی زبان پڑھنے کی ضرورت
گلگت بلتستان کے پہاڑ صرف معدنیات، برف اور پتھروں کا ذخیرہ نہیں۔ یہ انسانی تاریخ کے محافظ بھی ہیں۔
داریل کی قدیم علمی روایت ہو، رجوکوٹ کے قلعے کے کھنڈرات، زیرِزمین آب رسانی کے ممکنہ نظام، نپورہ کے مخطوطات، چٹانوں پر قدیم نقوش یا گاہکوچ کی پراسرار غار—یہ سب ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
کیا گلگت بلتستان کی تاریخ ابھی مکمل طور پر لکھی ہی نہیں گئی؟
شاید جواب ہاں میں ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ داں، ماہرینِ آثارِقدیمہ، ماہرینِ لسانیات اور مقامی بزرگ ایک مشترکہ تحقیقی منصوبے کے تحت ان مقامات کا سروے کریں۔ مقامی روایات کو محفوظ کیا جائے، قدیم ناموں کی دستاویز بندی کی جائے، چٹانوں اور کھنڈرات کا سائنسی جائزہ لیا جائے، زیرِزمین تعمیرات کو محفوظ کیا جائے اور جو نوادرات ابھی تک لوگوں کے گھروں یا زمینوں میں محفوظ ہیں، انہیں قانونی اور محفوظ طریقے سے قومی ورثے کا حصہ بنایا جائے۔
کیونکہ ماضی صرف کتابوں میں نہیں ہوتا۔
کبھی ماضی ایک پرانی اینٹ میں ہوتا ہے، کبھی کسی بھولی ہوئی نالی میں، کبھی پہاڑ کے دامن میں پڑے ہوئے پتھر میں، کبھی زبان کے کسی اجنبی لفظ میں اور کبھی ایک ایسی غار میں جس کے اندھیرے سے صدیوں پرانی چیخیں آج بھی سنائی دیتی محسوس ہوتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی میں ایک پوری تہذیب سانس لے رہی ہے۔
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شور سے کچھ دیر دور ہو کر پہاڑوں کی زبان سنیں۔
شاید وہ ہمیں اپنے بارے میں نہیں، ہمارے اپنے ماضی کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔