جب لاہور بھارت میں شامل ہوتے ہوتے رہ گیا....

مسلمانوں کو میرا شکر گزار ہوناچاہیے ، میں نے لاہور پاکستان میں شامل کرنے کیلئے معمول سے ہٹ کر کوشش کی


سید عاصم محمود August 27, 2026

پاکستان میں کم ہی لوگ اس انوکھی حقیقت سے واقف ہیں کہ 1947ء میں آزادی کے وقت اِس سوال نے بڑا ہنگامہ مچا دیا تھا کہ شہر لاہور بھارت میں شامل کیا جائے یا پاکستان میں۔ وجہ یہ ہے کہ شہر میں گو مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر صنعت وتجارت وکاروبار پر ہندو اور سکھ چھائے ہوئے تھے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ وہی شہر میں 67 فیصد دکانوں اور  80 فیصد کارخانوں کے مالک ہیں۔ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ٹیکس دیتے اور شہر کی تعلیمی و سماجی زندگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اسی لیے ابتدا میں پنجاب کی نئی سرحد بنانے والے سرکاری کمیشن کے انگریز سربراہ، سیرل جان ریڈکلف نے لاہور بھارت میں شامل کر دیا تھا۔

 ریڈکلف نے بعد ازاں مشہور بھارتی صحافی، کلدیپ نائر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا’’مجھے بعد میں احساس ہوا کہ پاکستان میں تو کوئی بڑا شہر شامل ہی نہیں۔اس لیے میں نے لاہور بھارت کے نقشے سے نکال کر پاکستان میں شامل کر دیا۔‘‘اب اللہ ہی جانتا ہے ، ریڈکلف کا یہ دعوی درست ہے یا غلط۔ بہرحال اُس زمانے میں لاہور ہی ہر لحاظ سے ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس باعث ریڈکلف کے دعویٰ میں کچھ سچائی نظر آتی ہے۔

٭٭

دلچسپ بات یہ کہ برطانیہ کا بیرسٹر، سیرل جان ریڈکلف (متوفی 1977ء ) ایک ایسا شخص تھا جو کبھی پیرس سے آگے مشرق کی طرف گیا ہی نہیں تھا۔ 1947ء میں اْسی کو برطانوی پارلیمنٹ میں ’’انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ‘‘ (قانونِ آزادیِ ہند) کی منظوری کے بعد بنی دو سرحدی کمیٹیوں کی سربراہی سونپ دی گئی۔ ریڈکلف کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ پانچ ہفتوں کے اندر پاکستان اور بھارت کی نئی ریاستوں کے لیے اِس طرح سرحدیں بنائے کہ زیادہ سے زیادہ سکھ اور ہندو بھارت میں اور زیادہ سے زیادہ مسلمان پاکستان میں رہ جائیں۔

ریڈکلف نے اگست 1947ء میں تقسیم کا نقشہ پیش کیا جس نے پنجاب اور بنگال تقریباً آدھے طور پر دو حصّوں میں تقسیم کر دیے۔ نئی سرحدوں کا باضابطہ اعلان 17اگست 1947ء کو کیا گیا یعنی پاکستان کی آزادی کے تین دن بعد اور بھارت کی برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے دو دِن بعد۔

اِس تقسیمِ ہند کے دوران ڈیرھ کروڑ سے دو کروڑ لوگوں نے سرحد پار ہجرت کی، جب اْنھیں معلوم ہوا کہ نئی سرحدوں نے اْنھیں ’’غلط‘‘ ملک میں چھوڑ دیا ہے۔ اِس ہجرت کے دوران ہونے والے تشدّد میں دو لاکھ سے بیس لاکھ کے درمیان لوگ مارے گئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ سرحد کے دونوں طرف ہوئی اِس تباہی اور خون خرابے کو دیکھنے کے بعد ریڈکلف نے اپنی چالیس ہزار رْوپے (تب کے تین ہزار پاونڈ) کی تنخواہ لینے سے انکار کر دیا۔

کلدیپ نیّر (متوفی 2018ء ) بھارت کے مشہور صحافی تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب’’ سکوپ: اِن سائیڈ سٹوریز فرام دی پارٹیشن ٹو دی پریزنٹ‘‘ (Scoop!: Inside Stories From The Partition To The Present )کی تیاری کے سلسلے میں سیرل ریڈکلف سے انٹرویو کیا تھا۔ کتاب کا وہ حصّہ پیش خدمت ہے۔ واضح رہے کہ یہ تحریر ایک بھارتی صحافی کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔

٭٭

سیرل ریڈکلف نے مجھے بتایا کہ لاہور میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت تھی اور وْہ جائداد وَ اَثاثوں کے معاملے میں بھی بہت آگے تھے۔ اِس کے باوجود اْن کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ یہ شہر پاکستان میں شامل کر دیں، کیوںکہ پاکستان میں بڑے شہروں کی کمی تھی۔ یہ گفتگو 1972ء کے آخری حصّے میں لندن میں ریڈکلف کے فلیٹ پر ہوئی۔ مَیں ہندوستان کے آخری برطانوی گورنر جنرل، لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملنے لندن گیا تھا۔ مَیں ریڈکلف سے جاننا چاہتا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی سرحدی لکیریں کیسے کھینچی گئی تھیں۔ اگرچہ باؤنڈری کمیشن کے چار اَور اَرکان بھی تھے …. دو بھارت (مہر چند مہاجن اور تیجا سنگھ) اور دو پاکستان سے (دین محمد اور محمد منیر) لیکن وہ سب حاضر سروس جج تھے۔

فیصلہ ریڈکلف کو ہی کرنا تھا کیوںکہ کمیشن تقسیم ہو چکا تھا۔ بھارت کے ارکان ایک طرف تھے اور پاکستان کے دوسری طرف۔ مَیں یہ جاننے کے لیے بہت بیتاب تھا اْنھوں نے کیا معیار اَپنایا تھا؟ مجھے یہ جان کر حیرت اور دَھچکا لگا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدیں کھینچتے وقت ریڈکلف کے پاس عمل کرنے کے لیے کوئی طے شدہ قوانین نہیں تھے۔ اگرچہ جب وہ سرحدوں کا تعیّن کرنے آئے، تو اْس وقت تک اْنھوں نے کافی معلومات اکٹھی کر لی تھیں۔

دونوں فریقین نے اپنا موقف انتہائی تفصیل سے پیش کیا تھا۔ اْنھوں نے ٹنوں کے حساب سے مواد کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ جیسا کہ ریڈکلف نے بتایا، اْن کے کام کا سب سے پیچیدہ اَور مشکل حصّہ پنجاب اور بنگال کے آخری علاقوںکو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا تھا۔ چناںچہ لاہور پہلے بھارت کو دینے اور پھر اپنا فیصلہ بدل کر اْسے پاکستان کے حق میں دینے کا اْن کا فیصلہ قابلِ فہم تھا۔ اْن کے ذہن میں ایک طرح کا توازن قائم کرنے کا خیال تھا۔ پاکستان کے بانی، (قائداعظمؒ ) محمد علی جناح نے ریڈکلف کے نام کی سفارش کی تھی، لیکن اِس بات کا اِس فیصلے کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ لاہور پاکستان کو دے دیا جائے۔

مَیں نے پوچھا ’’کیا آپ اِس طریقے سے مطمئن ہیں جس طرح آپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی لکیریں کھینچیں؟‘‘

ریڈکلف نے کہا ’’میرے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔ میرے پاس وقت اتنا کم تھا کہ مَیں اِس سے بہتر کام نہیں کر سکتا تھا۔ اگر مجھے دوبارہ اِتنا ہی وقت دیا جائے، تو مَیں یہی کچھ کروں گا۔ تاہم اگر میرے پاس دو سے تین سال کا وقت ہوتا، تو شاید مَیں اپنا کیا ہوا کام مزید بہتر بنا سکتا تھا۔‘‘سرحدوں کا اصل تعیّن کرنے سے پہلے اْنھوں نے شمالی ہندوستان کے علاقوں کے اْوپر صرف ایک بار ڈکوٹا طیارے میں اْڑان بھری تھی۔ اْنھوں نے کہا ’’اگر کچھ لوگوں کی خواہشات پوری نہیں ہوئیں، تو اِس کا قصور اْن سیاسی انتظامات میں تلاش کیا جانا چاہیے جن سے میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘

ریڈکلف نے نیک ٹائی کے ساتھ جیکٹ پہن رکھی تھی، جو ایک طرح کا رسمی لباس تھا۔ چوںکہ وہ طویل عرصے تک سابق جج رہے تھے، اِس لیے شاید کسی غیرملکی سے ملتے وقت جیکٹ پہننا اْن کی عادت تھی۔ لیکن اْن کے اخلاق میں کوئی تکلف یا بناوٹ نہیں تھی۔ اپنی گفتگو کے دوران مَیں نے اْنھیں ایک سادہ اَور سچا انسان پایا۔ جب مَیں نے اْن کے فلیٹ کی گھنٹی بجائی، تو اْنھوں نے خود دَروازہ کھولا۔ کمرا پرانے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا، جو اْنھوں نے یقیناً برسوں کے دوران جمع کیا ہو گا۔ اْن کا رہن سہن سادہ اَور زاہدانہ معلوم ہوتا تھا۔ اْن کے ہاں کوئی ملازم یا خادمہ نہیں تھی، کیوںکہ وہ خود چھوٹے سے باورچی خانے (کچنیٹ) میں گئے، ’جسے مَیں نشست گاہ کے صوفے سے دیکھ سکتا تھا‘ تاکہ چائے تیار کرنے کے لیے چولہے پر کیتلی رکھ سکیں۔

تقسیمِ ہند اور رِیڈکلف: پس پردہ حقائق

یہ حقیقت ہے، ریڈکلف کو اَپنا کام مکمل کرنے کے لیے بہت کم وقت ملا تھا۔ تاخیر اِس لیے ہوئی کیوںکہ پنجاب اور بنگال کی صوبائی اسمبلیوں کو دونوں صوبوں کی تقسیم کے لیے ووٹنگ کرنا تھی جو ایک قانونی ذمے داری تھی۔ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف کو باونڈری کمیشن کا چیئرمین نامزد کیا، تو وہ شملہ میں تھے۔

اْنھوں نے مجھے بتایا کہ وہ جولائی میں پنجاب میں کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اْنھوں نے کہا ’’گرمی کی وجہ سے جون میں فیلڈ سروے کرنا ناممکن تھا۔‘‘ لیکن کانگریس کے ایک اعلیٰ رہنما، مولانا ابوالکلام آزادؒکے مطابق ماونٹ بیٹن نے ریڈکلف سے کہا تھا کہ وہ کام میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کر سکتے۔

ریڈکلف نے مجھے بتایا کہ وہ باؤنڈری کمیشن کے ارکان سے خوش نہیں تھے، وہ صرف اپنے نمائندگی والے ملک کا نقطہ نظر پیش کرتے رہے۔ دونوں فریق زیادہ سے زیادہ علاقہ حاصل کرنا چاہتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف بحث کرتے رہتے۔ ریڈکلف نے مجھے بتایا کہ مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان رکن نے نجی طور پر اْن سے درخواست کی کہ دارجلنگ کو پاکستان میں شامل کیا جائے۔ اْن کا کہنا تھا ’’میرا خاندان ہر موسمِ گرما میں دارجلنگ جاتا ہے اور اگر یہ علاقہ بھارت میں چلا گیا، تو ہمارے لیے مشکل ہو گی۔‘‘

ریڈکلف نے مہر چند مہاجن (بھارتی رکن) کی تعریف کی جو بعد میں بھارت کے چیف جسٹس بنے۔ اْن کی علمی قابلیت اور قانونی مہارت نے اْنھیں متاثر کیا۔ مَیں نے ریڈکلف سے کہا ’’پاکستان کے مسلمانوں کو یہ شکوہ ہے کہ آپ نے سرحدوں کا تعیّن کرتے ہوئے بھارت کی حمایت کی ہے۔‘‘

اْن کا جواب تھا ’’اْنھیں میرا شکرگزار ہونا چاہیے کیوںکہ مَیں نے اْنھیں لاہور دَینے کے لیے معمول سے ہٹ کر کوشش کی، حالانکہ وہ شہر بھارت کو جانا چاہیے تھا۔ ویسے بھی مَیں نے ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کا زیادہ ساتھ دیا تھا۔‘‘

ایسا لگتا تھا کہ جب میری اْن سے ملاقات ہوئی، تب تک اْن کے فیصلے (ایوارڈ) پر ہونے والی تنقید ریڈکلف کے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔ جب بھی مَیں پاکستانیوں کی ’’ناراضی‘‘ کا ذکر کرتا، تو وہ جھنجلا جاتے۔ اْنھیں سب سے زیادہ اِس الزام نے دکھ پہنچایا کہ اْنھوں نے ماونٹ بیٹن کے اصرار پر اپنی رپورٹ تبدیل کی تھی۔ پاکستانیوں کا الزام ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف پر دباؤ ڈالا کہ وہ فیروزپور اَور زِیرہ تحصیلیں بھارت کو دے دیں تاکہ جموں و کشمیر کے ساتھ ایک زمینی رابطہ فراہم ہو سکے۔نیز دریائے ستلج کے ہیڈورکس بھی بھارت کو مل جائیں۔

ریڈکلف نے کہا ’’مجھے تو کشمیر کا علم بھی نہیں تھا۔ مَیں نے لندن واپس جانے کے بہت بعد اِس بارے میں سنا۔‘‘ گفتگو کے دوران جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، مَیں نے اْنھیں کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید اختلافات کے بارے میں بتایا۔ وہ اِس سے آگاہ تھے۔ اْنھوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن وہ اِس بات پر قائم رہے کہ اْنھوں نے فیروزپور اَور زیرہ بھارت کو اِس لیے دیے کیوںکہ اْنھیں یہی مناسب لگا۔ اْن پر کسی قسم کا کوئی دباؤنہیں تھا۔ تاہم رپورٹ جلد مکمل کرنے کے لیے اْن پر دباؤضرور تھا۔

خط کتابت کا ریکارڈ

22 جولائی 1947ء کو ماونٹ بیٹن نے ریڈکلف کو لکھا کہ اْنھوں نے لاہور میں پنجاب پارٹیشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اْنھوں نے اِس یقین دہانی کا ذکر کیا جو اْنھوں نے کمیٹی کو کرائی تھی کہ وہ رِیڈکلف کو پنجاب باونڈری ایوارڈ کے لیے جلد از جلد تاریخ کے تعیّن کی اہمیت کے بارے میں لکھیں گے۔ ماؤنٹ بیٹن نے لکھا: ’’اِس بات پر زور دِیا گیا (پنجاب پارٹیشن کمیٹی میں) کہ اگر ایوارڈ کا اعلان 15اگست کے بالکل آخری لمحات میں کیا گیا، تو بدامنی کا خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔ مَیں جانتا ہوں کہ آپ اِس بات کو اَچھی طرح سمجھتے ہیں، لیکن مَیں نے وعدہ کیا تھا کہ مَیں اِس امر کا دوبارہ ذکر کروں گا، اور یہ کہ ہم سب ممنون ہوں گے اگر آپ ایوارڈ کے اعلان کو ہر ممکن حد تک جلدی کر سکیں۔ کیا 10تاریخ تک اِس کے جاری ہونے کا کوئی امکان ہے؟‘‘

اگلے دن جواب دیتے ہوئے ریڈکلف نے کہا: ’’مَیں یقینی طور پر ایوارڈ کے لیے جلد از جلد تاریخ کی اہمیت کو ذہن میں رکھوں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ مَیں 10 تاریخ تک ایسا کر پاؤں گا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ مَیں 21 تاریخ کا وعدہ کر سکتا ہوں اور اگر ممکن ہوا، تو مَیں اِس سے بھی پہلے کام مکمل کر لوں گا۔‘‘

مَیں نے ریڈکلف سے ماؤنٹ بیٹن کے نیول اتاشی، جی ایبل کے اْس خط کی بابت نہیں پوچھا جو اْنھوں نے گورنر پنجاب کے سیکرٹری، ایبٹ کو لکھا تھا کیوںکہ اْس وقت مجھے اْس کے وجود کا علم نہیں تھا۔ 8اگست 1947ء کے اْس خط میں لکھا تھا: ’’مَیں ایک نقشہ منسلک کر رہا ہوں جو تقریباً وہ سرحد دکھاتا ہے جس کا سر سیرل ریڈکلف نے اپنے ایوارڈ میں تعیّن کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اْس کی وضاحت کرنے والا ایک نوٹ بھی ہے۔ اْس سرحد میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی لیکن اْسے لاہور ضلع میں گاؤں اور ضلع کی حدود کے حوالے سے درست طریقے سے متعین کرنا ہو گا۔‘‘

گورنر پنجاب، ایوان جینکنز نے بعدازاں ماؤنٹ بیٹن کو لکھا: ’’منسلکات میں ایک شیڈول (میرے خیال میں ٹائپ شدہ) اور ایک پرنٹ شدہ نقشے کا ایک حصّہ ہے جس پر ایک لکیر کھینچی گئی ہے۔ یہ مل کر ایک ایسی سرحد ظاہر کر رہے ہیں جس میں فیروزپور ضلع کا آگے کو بڑھا ہوا حصّہ (salient) پاکستان میں شامل ہے۔ اْس حصّے میں فیروزپور اَور زِیرہ کی پوری تحصیلیں شامل ہیں۔‘‘

جینکنز نے یہ بھی بیان کیا کہ: ’’دس یا گیارہ اگست کو جب ہم اب بھی 31اگست کو ایوارڈ کی توقع کر رہے تھے، مجھے وائسرائے ہاؤس سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں الفاظ تھے ’’آگے بڑھے حصے کو ختم کریں۔‘‘ اِس تبدیلی نے کچھ حیرت پیدا کر دی، اِس لیے نہیں کہ فیروزپور کے اْس حصّے کی تبدیلی ناگزیر یا متوقع سمجھی گئی ، بلکہ اِس لیے کہ یہ عجیب لگتا تھا کہ کمیشن کی طرف سے کوئی پیشگی معلومات دے دی گئیں حالانکہ ایوارڈ مکمل نہیں ہوا تھا۔‘‘

سندھ طاس معاہدہ اَور پانی کا تنازع

یہ بڑی عجیب بات تھی کہ جس ریڈکلف نے ہندوستان کو دو آزاد ملکوں میں تقسیم کیا تھا، اْسی نے پنجاب کے آبپاشی کے نظام کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے کے معاملے میں ’’کسی قسم کے مشترکہ کنٹرول‘‘ کا مشورہ دِیا تھا۔

اْن کے فیصلے (ایوارڈ) کے تحت آبپاشی کی نہریں پاکستان کو ملی تھیں اور اْنھیں پانی فراہم کرنے والے دریا بھارت کے حصّے میں آئے تھے، جبکہ کنٹرول کرنے والے ہیڈورکس (ہیڈ ریگولیٹرز) کو برابر تقسیم کیا گیا تھا۔ لیکن اْنھوں نے ’’کسی حد تک مشترکہ کنٹرول‘‘ کی طرف اشارہ کیا۔ بھارت کے اْس وقت کے وزیرِاعظم جواہر لال نہرو نے اِسے ایک ’’سیاسی سفارش‘‘ قرار دَے کر مسترد کر دیا تھا۔

چوںکہ کوئی ’’مشترکہ کنٹرول‘‘ قائم نہ ہو سکا، اِس لیے تقسیم کے بعد دونوں ممالک پانی کے سلسلے میں اپنے اپنے حقوق پر لامتناہی بحث کرتے رہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ دریا پورے برِصغیر کے لیے سانجھے ہیں اور اْس کا یہ موقف بھی تھا کہ چوںکہ نہری نظام پاکستان کے علاقے میں ہے، اِسی لیے وہ پانی کا واحد مالک ہے۔ یہ مسئلہ اتنا زیادہ متنازع بن گیا کہ حکومتِ پاکستان نے تجویز دی ، اِس معاملے کو ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں لے جایا جائے۔ لیکن نہرو نے اِس تجویز کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ یہ ’’دوسروں پر ہمارے مسلسل انحصار کا اعتراف‘‘ ہو گا۔

ریڈکلف سے الوداعی ملاقات سے پہلے مَیں نے اْن کے سامنے وہی سوال رکھا جو ماؤنٹ بیٹن سے پوچھا تھا: ’’کیا (قائداعظمؒ)محمد علی جناح پاکستان ملنے پر ہچکچائے تھے؟‘‘ اْنھوں نے کہا تھا ’’نہیں!‘‘ ریڈکلف کا بھی جواب تھا: ’’اِس کا امکان بہت کم ہے۔‘‘

مَیں نے اْن سے ماؤنٹ بیٹن کی جناح کو دی گئی اْس مبینہ وارننگ کے بارے میں بھی تصدیق چاہی کہ ’’اْن کا یہ دیمک زدہ پاکستان پچیس سال سے زیادہ نہیں چلے گا۔‘‘ ریڈکلف نے کہا: ’’آپ پہلے شخص ہیں جس نے مجھے یہ بات بتائی ۔ مَیں نے اِس سے پہلے یہ جملہ کبھی نہیں سنا۔‘‘

جب مَیں اْن کے فلیٹ کی سیڑھیاں اْتر رہا تھا، تو مَیں سوچنے لگا کہ آخر بھارت اور پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر کیسے دستخط کیے ہوں گے؟

1951ء میں جب پاکستان یہ تنازع سلامتی کونسل میں لے جانے کے بالکل قریب تھا، تو اَمریکی میگزین میں شائع ہونے والے ایک مضمون نے صورتِ حال سنبھال لی۔ یہ مضمون امریکی ٹینیسی ویلی اتھارٹی کے سابق چیئرمین، ڈیوڈ ای لِلینتھل (david e lilienthal) نے لکھا تھا۔ اْنھوں نے ایک جامع انجینئرنگ پلان کی تجویز دی جس کے تحت بھارت اور پاکستان پورے سندھ طاس (انڈس بیسن) کو مشترکہ طور پر تیار کر سکتے تھے، ’’شاید عالمی بینک کی مدد سے۔‘‘

بعد میں معلوم ہوا کہ لِلینتھل نے مضمون لکھنے سے پہلے عالمی بینک کے اْس وقت کے سربراہ، یوگین آر بلیک (Eugene Robert Black) سے مشورہ کیا تھا۔ بھارت اور پاکستان، دونوں نے دیکھ لیا تھا کہ اِس تجویز کو اَمریکا کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ سندھ طاس کی ترقی کو قابلِ قبول سمجھا گیا، خاص طور پر اْس وقت جب فنڈز دینے کا وعدہ بھی کیا جا چکا تھا۔ چوںکہ اِس فارمولے نے ایک راستہ دکھایا تھا اور اِس کے ساتھ پیسے کا لالچ بھی تھا، اِس لیے بھارت اور پاکستان، دونوں نے اِسے تسلیم کر لیا۔ 1960ء میں نہرو اَور پاکستان کے حکمران، جنرل ایوب خان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہو گئے۔

عالمی بینک کے سربراہ کی باضابطہ تجویز (نومبر 1951ء ) کے جواب میں انجینئروں کی ایک ’’ورکنگ ٹیم‘‘ تشکیل دی گئی تاکہ یہ مسئلہ سیاسی میدان سے باہر نکل کر حل کیا جا سکے۔ بھارت نے ضمانت دی کہ وہ مذاکرات کے اختتام تک پانی کی فراہمی میں خلل نہیں ڈالے گا اور اْس نے اپنا وعدہ نبھایا، اگرچہ پاکستان اِس کے برعکس الزامات لگاتا رہا۔نو سال تک بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ایک طویل اور پیچیدہ رَاستے سے گزرے۔ آخری مراحل میں بھی جب حکام کے تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بات چیت پٹڑی سے اْترتی ہوئی دکھائی دی، تو نہرو اَور اَیوب خان، دونوں کو مداخلت کر کے مذاکرات دوبارہ بحال کرنا پڑے۔

نہرو کو بھارت میں اِس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اْنھوں نے سندھ طاس کا صرف 19فی صد پانی قبول کیا اور اْس وقت تک پانی کی فراہمی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی جب تک پاکستان متبادل نہریں نہیں بنا لیتا۔ بھارتی انجینئروں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایک مضبوط کیس تیار کیا تھا کہ اگر بھارت دس سالہ عبوری دور کے لیے اپنے ہاتھ روک لیتا ہے، تو پنجاب اور رَاجستھان، دونوں عملی طور پر پانی کی کمی سے برباد ہو جائیں گے۔

نہرو کی کابینہ کے رکن مرارجی ڈیسائی نے سیاسی حلقوں میں اِس معاہدے کی مخالفت منظم کی۔ یہاں تک کہ نہرو کے وفادار، اْس وقت کے مرکزی وزیرِ داخلہ گوبند بلبھ پنت نے بھی انڈس بیسن ڈیویلپمنٹ فنڈ میں بھارت کے ’’بھاری تعاون‘‘ پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اِس رقم کو اْس جائداد کی قیمت کے بدلے ایڈجسٹ کیا جائے جو ہندو پناہ گزین پاکستان میں چھوڑ آئے تھے۔ لیکن نہرو نے تمام اعتراضات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے بیتاب تھے اور پانی کے تنازعات کا حل ایک ایسی بنیاد بن سکتا تھا جس پر وہ پاک-بھارت دوستی کی ایک پائیدار عمارت کھڑی کر سکتے تھے۔ ایسا کیوں نہ ہو سکا؟ اِس کے جواب دہ بھارت اور پاکستان کے بعد میں آنے والے حکمران ہیں۔