امریکا۔ایران جنگ کے عام پاکستانی گھرانوں اور کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت تجاوز کرنے کے ساتھ ہی شہری ایک بار پھر حقیقی چیلنجوں کا سامنا کرنے لگے۔ ایک ایسا ملک جس نے حال ہی میں 40 فی صد کی بلند ترین شرحِ مہنگائی کا سامنا کیا ہے۔
اْس کے لیے یہ تنازع اِس سے بدتر وقت پر نہیں آ سکتا تھا۔ لیکن یہ بحران پاکستان کے لیے خود کو تبدیل کرنے کا ایک موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے اور گزشتہ چند سال کے دوران ملک میں نچلی سطح پر آنے والا شمسی توانائی (سولر) انقلاب مدِنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے تیاری کے بنیادی اجزا پہلے سے موجود ہیں۔
اِس بات پر بحث کرنے سے پہلے کہ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ حکومت کا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ محدود مالی گنجائش والے ملک میں وسیع پیمانے پر سبسڈی دینا ایک ایسی آسائش ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ سبسڈی کا طویل پروگرام گھرانوں اور کاروباروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے کیوںکہ کرنسی نوٹ چھاپ کر مالیاتی خسارہ پورا کرنے سے مہنگائی کا شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے اور جو کہ ہوا۔
لیکن مالیاتی حقیقت تسلیم کرنے کا مطلب انسانی تکالیف سے آنکھیں چرانا نہیں۔ کراچی کے پلمبر سے لے کر پنجاب کے اْس کسان تک جو گندم کی کٹائی کے لیے ٹریکٹر استعمال کر رہا ہے، شہریوں کی جیبوں پر ایندھن کی قیمت میں اضافے کا اثر تباہ کن پڑا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی تکلیف کا سامنا کر تے ہیں۔ اب حکومت کی توجہ اِس بات پر ہونی چاہیے کہ اِن شہریوں کو اَیسی دنیا میں منتقل کیا جائے جہاں وہ دْوسرے ممالک کی مہم جوئی کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں کے جھٹکوں کا شکار نہ رہیں۔
حل کیا ہے؟
دلیل سادہ ہے: پاکستان جیسے ممالک اب درآمدی رکازی ایندھن (تیل و گیس) پر مبنی توانائی کے پرانے ماڈل سے بندھے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔آج دنیا عدم استحکام کا شکار ہے۔ اب کوئی بھی ایک تنازع 26 کروڑ لوگوں کی روزمرہ زندگی اپاہج کر سکتا ہے۔ جغرافیائی سیاسی رقابتوں اور محدود سپلائی چینز (chains) کی دنیا میں یہی چلن اب معمول بن رہا ہے۔ اِس خرابی کا واحد پائیدار حل یہ ہے کہ نقل و حمل اور دَرآمدی ایندھن کے درمیان تعلق ختم کر دیا جائے۔ اور اَیسا کرنے کا بہترین طریقہ پاکستان میں نقل و حمل کو بجلی پر منتقل کرنا ہے۔
اِس منتقلی کے لیے سب سے اہم جز پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہے: ’’اضافی بجلی‘‘۔ ملک میں تقریباً 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی اضافی صلاحیت موجود ہے۔ اِس کا گرڈ 40 فی صد قابلِ تجدید توانائی پر مشتمل ہے اور 2030ء تک اْسے 60 فی صد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ حالیہ برسوں میں سولر پینلز کی درآمدات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے کیوںکہ بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں بیوروکریسی کی بدانتظامی ہے۔
پاکستان میں نچلی سطح پر آنے والا شمسی انقلاب جو کسی حکومتی حکم کے بجائے لاکھوں گھرانوں اور کاروباروں کی سستی اور قابلِ بھروسا بجلی کی تلاش کا نتیجہ ہے، اْس نے خاموشی سے ملکی توانائی کا منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اور یہی وہ اِنقلاب ہے جو جاری بحران کے دوران درآمدی توانائی کے اخراجات میں پاکستان کے اربوں ڈالر بچاتا رہا۔ نقل و حمل اور ٹرانسپورٹ کی برقی منتقلی بھی ہو رہی ہے، اگرچہ رفتار سست ہے۔ حالیہ مہینوں میں تھر کول مائننگ پراجیکٹ میں 70 ٹن کے الیکٹرک ٹرک متعارف کرائے جا چکے۔
اِسی کے متوازی ایک پالیسی ڈھانچہ بھی اْبھر رہا ہے۔ ’’نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی‘‘ نے 2030ء تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا 30 فی صد ہدف مقرر کیا ہے جس میں الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے 65 ہزار رْوپے اور تھری وہیلرز کے لیے چار لاکھ روپے تک کی سبسڈی شامل ہے۔ وزارتِ توانائی نے چارجنگ سٹیشن آپریٹرز کے لیے تقریباً 70.93 روپے فی کلو واٹ آور کا رعایتی ٹیرف جاری کیا ہے جو 44 فی صد کمی ہے۔ یہ چارجنگ انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کے لیے کاروباری ترغیب کو ڈرامائی طور پر بہتر بناتی ہے۔ 58 مینوفیکچرر پہلے ہی الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلرز کے لائسنس حاصل کر چکے اور مقامی پیداواری صلاحیت سالانہ بیس لاکھ گاڑیوں تک پہنچ چکی۔
لیکن پالیسی فریم ورک اور پیداواری صلاحیت اْسی وقت معنی رکھتی ہے، جب اْن پر تیزی سے عمل درآمد ہو۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں آنے والا بجٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔
برقی نقل و حمل (الیکٹرک موبلٹی)
پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کی خاطر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بجٹ کے ذریعے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے اخراجات کا ایک بڑا حصّہ برقی نقل و حمل کی طرف موڑ دیں۔ اِس میں خاص توجہ دو اَور تین پہیوں والی گاڑیوں (موٹر سائیکلوں اور رِکشوں) پر ہونی چاہیے کیوںکہ یہی وہ گاڑیاں ہیں جو روزمرہ کے شہری سفر اور اِیندھن کے استعمال میں سب سے بڑا حصّہ رکھتی ہیں اور اْن کے سوار اِیندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اِس عمل کے ذریعے عوامی وسائل کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے بہ طور محرک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے مالیاتی طریقہِ کار وضع کیے جا سکتے ہیں جو گھرانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک گاڑیاں خریدنے میں مدد دیں۔جبکہ چارجنگ سٹیشن قائم کرنے والے کاروباری افراد کو کیپیٹل سبسڈی فراہم کی جا سکتی ہے۔ کریڈٹ گارنٹی جو بینکوں سے پہلی بار قرض لینے والوں (مثلاً وہ موٹر سائیکل مکینک جو اَپنی ورکشاپ تبدیل کرنا چاہتا ہے) کو قرض دینے کی ترغیب دے، حکومتی سرمایہ کاری کا اثر کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔
حکومتی مراعات کا پیمانہ کاروباری اداروں کو اْن گاڑیوں کی طلب کا اندازہ لگانے میں مدد دَے سکتا ہے جس سے وہ نئی مینوفیکچرنگ اور اَسمبلی کی صلاحیت کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں گے۔ پیداوار بڑھانے کی مراعات کے حصّے کے طور پر مقامی پْرزہ جات کی فراہمی کے ضوابط اِس طرح طے کیے جا سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملکی صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔
پٹرول کی قیمت میں اضافے سے شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ اِس لیے برقی نقل و حمل کی طرف منتقلی کا رجحان گھریلو سطح پر پہلے ہی جنم لے چکا۔ اب ضرورت ایک ایسی پالیسی کی ہے جو اِس عوامی سوچ سے فائدہ اْٹھائے۔
اِس منتقلی کے سپلائی پہلو والے حالات بھی سازگار ہیں کیوںکہ دنیا میں سولر پینلوں، بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز اور اِلیکٹرک گاڑیوں کی پہلے ہی وافر مقدار موجود ہے۔ پاکستان کا تزویراتی اتحادی، چین اِس شعبے میں عالمی رہنما ہے جو قیمتوں میں کمی اور جدید ترین الیکٹرک گاڑیاں اور بیٹری سٹوریج سسٹم عام لوگوں کی پہنچ میں لا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ پاکستان اور چین اپنے شہریوں اور کاروباریوں کے لیے مفید نتائج حاصل کرنے کی خاطر سٹریٹجک تعلقات بروئے کار لاسکتے ہیں۔
اِس عمل کی خوبصورتی اْس کے مسلسل فوائد میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرک گاڑی کا ہر قرض ایک ایسے شہری کی باضابطہ ’’کریڈٹ ہسٹری‘‘ تخلیق کرتا ہے جس کے پاس شاید پہلے کبھی ایسی کوئی دستاویز نہ ہو۔ ہر چارجنگ سٹیشن ایک چھوٹا کاروبار ہے جس کا بینک اکاؤنٹ، ٹیکس کی رسیدیں اور ملازمین ہوں گے۔ اِس کا نتیجہ توانائی کی ایک ایسی منتقلی کی صورت نکلے گا جس کے ساتھ مالیاتی شمولیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا اور یہ بالکل وہی نچلی سطح کی معاشی باقاعدگی ہے جسے حاصل کرنے کی پاکستان دہائیوں سے کوشش کر رہا ہے۔ جہاں درآمدی ایندھن کے لیے دی گئی سبسڈی لفظی طور پر ہوا میں جل کر ضائع ہو جائے گی، وہاں برقی نقل و حمل کے لیے دی جانے والی سبسڈی پاکستان کو طویل مدت کے لیے توانائی کے لحاظ سے محفوظ بنا سکتی ہے۔
اِس طرزِ عمل کے بڑے پیمانے پر فوائد بھی اِتنے ہی پْرکشش ہیں۔ بجلی کی زیادہ طلب خاص طور پر ای وی چارجنگ اور بیٹری سٹوریج کے اشتراک سے گرڈ کو زیادہ مستحکم اور پائیدار بنانے میں مدد دَے گی۔ یہ عمل اْس اْلٹے نظام کو درست کرنے میں بھی مدد دَے گا جہاں اضافی پیداواری صلاحیت بیکار پڑی رہتی ہے جبکہ صارفین فکسڈ کیپیسٹی پیمنٹس پورا کرنے کے لیے مسلسل زیادہ ٹیرف ادا کرتے ہیں۔
زیادہ طلب کا مطلب ہے بجلی کا بہتر استعمال، جس کا مطلب ہے ہر ایک کے لیے اوسط ٹیرف میں کمی۔ پاکستان اِس وقت ایک ایسے ممکنہ ’’بجلی کے شعبے کی تباہی کے چکر‘‘ میں پھنسا ہوا ہے جہاں سولر پر منتقل ہونے والے صارفین کے جانے سے اخراجات گرڈ کے باقی صارفین پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ وہ ’’طلب کا سہارا‘‘ ثابت ہو سکتی ہے جو پورے نظام کو بچا لے۔
پھر فضائی آلودگی کا بحران بھی ہے۔ پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آلودہ ملک ہے۔ لاہور کا شمار مسلسل دنیا کے تین آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لاکھوں موٹر سائیکلوں اور رِکشوں کو بجلی پر منتقل کرنا عوامی صحت کے لیے ایک بڑا اِقدام ہو گا جو پاکستان کے شہری مراکز میں معیارِ زندگی بہتر بنادے گا۔
مختلف سوچنے کا ایک موقع
یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ پاکستان کے سولر انقلاب نے پہلے ہی ثابت کر دیا ہے کہ جب عام شہریوں کو صحیح مراعات اور مارکیٹ کے حالات فراہم کیے جائیں، تو وہ کسی بھی حکومتی پروگرام سے زیادہ تیزی سے تبدیلی لاتے ہیں۔
یہی توانائی اور کاروباری جذبہ برقی نقل و حمل کی طرف بھی موڑا جا سکتا ہے، لیکن صرف تب ہی جب پالیسی سازوں کے پاس وسائل کو درست سمت دینے کا وژن اور ہمت ہو۔ موجودہ بحران پاکستان میں نقل و حمل کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ جب ملک میں سورج پہلے ہی لاکھوں چھتوں کو روشن کر رہا ہے، تو اَب وقت آ گیا ہے کہ اِس توانائی کو سفر اور نقل و حمل کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
ایک تحقیقی ادارے،انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی (IRENA) سے منسلک ماہر ِ توانائی، کامران صدیقی پاکستان میں سولر کی منتقلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’انفراسٹرکچر کی سطح پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، خاص طور پر گرڈ کی سطح پر۔ ان کا مزید کہنا ہے ، ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کو کس طرح استعمال میں لایا جائے گا، آیا یہ بیہائنڈ دی میٹر (ذاتی استعمال کے لیے) ہوگی یا نیٹ میٹرنگ کے ذریعے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ تین سال کے دوران سولر بیٹریوں کی درآمد میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شمسی توانائی کے اس رجحان نے ’’حکومت کے لیے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں کیونکہ گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘ان کا دعوی ہے کہ گزشتہ دس سال میں سولر کی قیمت میں 87 فیصد کمی آئی ہے اور اس دوران بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج سسٹم ملک کے سولر انقلاب میں ایک’’گمشدہ کڑی‘‘ تھے، اور اب بیٹریوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے بقول سولرائزیشن کی وجہ سے صارفین اب گرڈ کے ’’محتاج‘‘ نہیں رہے ہیں۔ اب شمسی توانائی جیسے دیگر متبادل اختیارات کی موجودگی میں سرکاری گرڈ کو اپنے صارفین برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرنی پڑے گی۔