ڈاکٹر روتھ فاؤ۔۔۔محبت کی پیام بر

ہزاروں افراد کو نئی زندگی اور اُمید دینے والی عظیم شخصیت کا قائدانہ کردار


ایاز مورس August 27, 2026

نرم گو، دھیمی آواز، شائستہ لہجے کی مالک، گہری آنکھیں جن میں انسانوں کی خدمت کا جذبہ اور انسانیت سے پیار کی جھلک بخوبی دیکھی جاسکتی ہے۔ شفیق منظم، دُعاگو راہبہ، بہترین ساتھی۔ جب بھی ملتیں چہرے پر معصوم مسکراہٹ ہوتی اور آواز میں محبت کا جذبہ عیاں ہوتا۔ زندگی کی الجھنوں اور پریشانیوں سے بے خبر، اپنے خالق کی محبت اور عقیدت میں زندگی ایسے انسانوں کی دیکھ بھال میں بسر کر گئیں جنھیں ان کے اپنے بھی نہ پوچھتے تھے۔

خودغرض، حرص اور مادہ پرستی کے عالم میں مشین کی رفتار سے چلنے والے شہر میں بے سہارا، کوڑھ کے مرض میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال اورخدمت آسان کام نہیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ سے جب بھی ملا، وہ ہمیشہ محبت اور شفقت کی دیوی محسوس ہوئیں۔ اُن کی وفات کے کئی سال بعد آج بڑی ہمت کرکے ان کے بارے میں کچھ لکھنے کی کوشش کی۔ صرف یہ سوچ کر لکھنے سے رک جاتا کہ سسٹرڈاکٹر روتھ فاؤ جیسی شخصیات تو ہمارے معاشرے سے اب ناپیدا ہوچکی ہیں۔

اُن کی کام یابیوں پر تو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن ان کے جذبہ ٔ محبت اور احساسٍ انسانیت کے بارے میں ہم جیسے انسان کیا لکھیں گے۔ ویسے بھی ڈاکٹر روتھ فاؤ جیسی قدآور شخصیات کو ہم جیسے انسانوں کے خراجِ تحسین پیش کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ خیر ڈاکٹر روتھ فاؤ کو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے! وہ انسانوں کے دِلوں میں زندہ ہیں اور ان کا محبت کا پیغام بھی زندہ رہے گا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ جیسے لوگ

سوچتا ہوں یہ کیسے انسانوں سے محبت کرلیتے ہیں اُن سے شفقت سے پیش آتے ہیں۔ دِل یہ ہی جواب دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنے خالق کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں اور اس کی محبت کا عملی مظاہرہ انسانوں سے کرتے ہیں۔ زمانے میں ہمیشہ ایسی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے انسانیت کی خدمت کی۔ اُن کے نزدیک رنگ، نسل، ذات پات، خطے، زبان اور مذہب کی تفریق نہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری دھرتی اور سر زمین پر ایک ایسی شخصیت ڈاکٹر روتھ فاؤ تشریف لائیں جنھوں نے ساری زندگی جذام کے مریضو ں کی خدمت کی۔ اُنھیں حکومت اور معاشرے کی جانب سے مختلف ایوارڈز دیے گئے۔ اُن کی زندگی پر چند ایک کتب بھی تحریر کی گئیں ہیں۔اُنہیں پاکستان کی مدر ٹریضہ کا لقب بھی دیا جاتا ہے۔

 ڈاکٹر روتھ فاؤ؛ پاکستان کی عالمی پہچان

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی اور خدمات پر جتنا لکھا جائے وہ کم ہے، ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کی عالمی سطح پر پہچان کا ایک محرک بن چکی ہیں۔ اُن کی زندگی، خدمات اور قربانیوں سے بڑھ کر اُن کی موت نے اُنھیں امر کردیا ہے۔ ایسے لوگ مرتے نہیں بلکہ صرف اِس جہاں سے انتقال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ جیسے انسان مر کر بھی زندہ جاوید رہتے ہیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنی کتاب''To Light a Candle and Keep it Burning'' میں جرمن شاعرہ ماریہ لوئس کا ایک جملہ دہرایا، جو اُنھوں نے اپنی قبر پر لکھوایا۔ ''Blessed are those who lived before they die''۔جو بالکل اُن کی زندگی پر پورا اُترتا ہے لیکن اگر میں اُن کیلئے یہ جملہ یوں لکھوں۔

ؓ ؓ''Blessed are those who live forever in the Hearts of People''۔ اُنھوں نے اپنی زندگی سے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ایک انسان معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔ حمید ہنری کی کتابTribute to Dr. Ruth Pfau, The Savior of Lepers in Pakistan  میں جنھوں نے بڑی عرق ریزی اور محنت کے ساتھ تمام آرٹیکلز، تصاویر اور رپورٹس جمع کیں اور اُنہیں کتابی شکل دی۔ یہ نہایت عمدہ اور بہترین کاوش ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات میں ڈاکٹر روتھ فاؤ پر بے شمار مواد دست یاب ہے لیکن اُس کا انتخاب اور چُناؤ ایک اہم مرحلہ تھا۔

 ڈاکٹر روتھ فاؤ کے لیے القاب

میں یہ مضمون لکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اس مضمون کا عنوان کیا رکھوں، کیوںکہ میرے ذہن میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے لیے مختلف القاب آرہے تھے۔ جیسے کہ’’ماڈرن مقدس‘‘،’’عشقِ کامل‘‘،’’محبت کی معراج‘‘،’’خدمت کا پیکر‘‘،’’پاکستان کی روتھ فاؤ‘‘، ’’رَدکیے ہوؤں کی مسیحا‘‘،’’زندہ ہیں وہ مرکر بھی‘‘،’’جیتی رہیں وہ دوسروں کے لیے۔‘‘ میرے خیال میں اُن کے لیے یہ تمام ٹا ئیٹلز کم تر ہیں۔ اس مضمون میں ہم ڈاکٹر ڈاکٹر روتھ فاؤ کی قیادت کی وہ خوبیاں اور کچھ اہم واقعات کے متعلق بات کریں گے جو انھیں ایک بہترین لیڈر ثابت کرتے ہیں اور ان تمام لوگوں کے لیے جو قیادت کے منصب پر فائز ہے۔

آگے بڑھ کر قیادت کرنا

میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے کارڈینل جوزف کوٹس سے گفتگو کا موقع ملا۔ اُنھوں نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے ساتھ کافی وقت گزارہ ہے اور اُن کے دُور میں اُن کے بہت سے کاموں میں بھی شامل رہے۔ کارڈینل جوزف کوٹس نے کہا وہ ایک بہت اچھی راہ نما تھیں۔ میرے خیال میں ایک راہ نما وہ ہوتا ہے جو جب کسی کو کہتا ہے کہ یہ کرو، تو اسے خود بھی اس کام کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ اورڈاکٹر روتھ فاؤ ایسی ہی تھیں۔ جب اُن کے کارکن دیکھتے تھے کہ ڈاکٹر صاحبہ خود آگے جا رہی ہیں، تو وہ بھی اس کام میں خوشی سے شامل ہوجاتے تھے۔ انھیں محسوس ہوتا تھا کہ یہ صرف ہمیں حکم نہیں دے رہیں بلکہ خود بھی تیار ہیں۔ اگر وہ خود کر رہی ہیں تو ہم کیوں نہ کریں؟ یہ خوبی میں نے دیگر لوگوں میں بھی دیکھی ہے، جیسے ایدھی صاحب۔ انگریزی میں کہتے ہیں،’’آگے بڑھ کر قیادت کرنا۔‘‘ اس قسم کے راہ نما وہ ہوتے ہیں، جو ان لوگوں کو بہت اچھے طریقے سے قبول کرتے ہیں جو ان کی پیروی کرنا یا ساتھ چلنا چاہتے ہوں۔

نصب العین

 میرے خیال میں ہر راہ نما کے سامنے کوئی نصب العین، مقصد اور منزل ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ اس معاملے میں بہت واضح تھیں۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر تھیں، ایک بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر۔ جب وہ 1960 میں کراچی میں پہنچیں تو انھوں نے اپنی ساتھی سسٹرز سے پوچھا کہ آپ کا کیا کام ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہمارا اسکول ہے اور ہم غریب لوگوں کے پاس بھی جاتی ہیں اور جو کچھ ہم کر سکتی ہیں، کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا،’’مجھے بھی لے جائیں۔‘‘ جس سسٹر کے ساتھ وہ گئی تھیں، اس کا تعلق میکسیکو سے تھا۔ وہ فارماسسٹ تھی اور ایک اور سسٹر بھی ساتھ تھی، جو نرس تھی۔ ڈاکٹر روتھ فاؤان دونوں سسٹرز کے ساتھ اُس وقت کے میکلوڈ روڈ، جس کا نام آج کل آئی آئی چندریگر روڈ ہے، گئیں، وہاں جذام کے مریضوں کی ایک بہت بڑی بستی تھی، جس میں ہر طرف گندگی پھیلی تھی ۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے ان مریضوں کو دیکھتے ہی کہا کہ ان لوگوں کو جذام کی بیماری ہے۔ انھیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ آپ فارماسسٹ ہیں، آپ نرس ہیں، آپ اچھا کام کر رہی ہیں، لیکن ان لوگوں کو پیشہ ورانہ طبی امداد کی ضرورت ہے ۔‘‘ پھر انھوں نے اپنے دل میں کہا،’’خُدا نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔

خُدا نے مجھے اس لیے ڈاکٹر بنایا تاکہ ایسے لوگوں کے لیے میں کچھ کرسکوں۔‘‘ دراصل انھیں بھارت جانا تھا، اور ان کا ویزا نہیں لگ رہا تھا۔ اسی جماعت کی سسٹرز بھارت میں بھی کام کر رہی تھیں اور آج بھی کر رہی ہیں۔ ان سسٹرز نے اپنی اعلیٰ ذمے دار کو خط لکھا کہ ہمیں ایک ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ یہاں بہت غریب لوگ ہیں جو طبی امداد سے محروم ہیں۔ ان کی اعلیٰ ذمے دار نے ڈاکٹر روتھ فاؤکو بھیجا۔ لیکن بھارت انھیں ویزا دینے میں دیر کررہا تھا۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والی روتھ فاؤ بہت پُرجوش تھیں کہ میں ان غریبوں کی جلدازجلد مدد کو پہنچوں جن کے لیے مجھے بلایا گیا ہے۔ ان کی اعلیٰ ذمے دار نے کہا کہ آپ جرمنی میں بیٹھنے کے بجائے پاکستان چلی جائیں۔ ویزا جب آجائے گا تو وہاں سے بھارت جانا آسان ہوگا۔ جب وہ یہاں آئیں اور انھوں نے دیکھا کہ جن مریضوں کے آبادی سے الگ تھلگ ایک بستی میں رکھا گیا ہے انھیں جذام کی بیماری ہے، تو انھوں نے محسوس کیا کہ آپ دونوں سسٹرز نیک کام تو کر رہی ہیں، لیکن پیشہ ورانہ طبی کام کی ضرورت ہے۔

انھوں نے دوبارہ اپنی اعلیٰ ذمے دار کو لکھا،’’خُدا کی مرضی یہ ہے کہ میں یہاں (پاکستان میں) رہوں۔ خُدا مجھ سے یہی چاہتا ہے۔ شاید میرا ویزا اسی لیے تاخیر کا شکار ہوا تاکہ میں ادھر کی حالت دیکھوں کہ اتنے بڑے شہر کراچی میں کیا ہورہا ہے۔‘‘ اعلیٰ ذمے دار نے کہا، چلیں ٹھیک ہے، آپ کراچی میں رہیں۔ اور یوں جب وہ کام میں لگ گئیں تو ان کے سامنے ایک نصب العین تھا۔ ان کے پاس کام کرنے کے لیے وقت بھی تھا۔ انھوں نے تاخیر نہیں کی۔ وہ مسلسل سوچتی رہیں کہ آگے کیا کرسکتے ہیں، کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں، کیوںکہ وہ بہت واضح تھیں کہ یہ جذام کی بیماری ہے، یہ پھیل سکتی ہے اور اس کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ وہ اپنے مقصد کے بارے میں بہت واضح تھیں۔

 منصوبہ بندی اور تنظیم کی صلاحیت

وہ پہلے ہی ایک اچھی اور قابل ڈاکٹر تھیں، لیکن ایک ٹیم راہ نما کے طور پر وہ بہت اچھی تھیں۔ وہ مختلف لوگوں کو ایک ساتھ لے کر چل سکتی تھیں۔

آج بھی اگر جذام کے مرکز جائیں تو وہاں ہندو، مسلمان، مسیحی، ہر قسم کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ سندھی، بلوچی، پنجابی، ہر قسم کے لوگ ہیں اور پتا نہیں چلتا کون کیا ہے، سب مل جل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک بڑی اچھی بات ہے کہ مختلف لوگوں کو ایک ساتھ لے کر چلیں، تاکہ وہ بھی محسوس کریں کہ ہاں، یہ ہم سب کا نصب العین ہے۔ پھر ایک اور بات جو میں نے ان میں دیکھی، وہ تھی لگن اور مکمل وابستگی ار اپنے پورے دِل و جان سے کام کرنے کا چلن۔ وہ نہ صرف طبیب تھیں بلکہ ایک راہبہ بھی تھیں۔ مدر ٹریسا بھی بالکل ایسی تھیں۔ ایک راہبہ ہوتے ہوئے انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر کام میں ڈبو دیا تھا۔ وہ مکمل طور پر اپنے کام کے لیے وقف تھیں۔

دُعا؛ کام میںبرکت

 ڈاکٹر رتھ فاؤ، ہر روز صبح پونے چھ بجے پیٹرکس کیتھڈرل (چرچ) پہنچ جاتی تھیں۔ تقریباً دس سال تک یہ معمول جاری رہا۔ گرمی ہو یا سردی وہ ہمیشہ اسی وقت چرچ میں داخل ہوتیں۔ وہ نجی طور پر بھی دُعا کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی سکھاتی تھیں کہ کام کرنے سے پہلے کیسے دُعا کرنی چاہیے، تاکہ ہمارے کام پر خدا کی برکت ہو۔ جیسا کہ میں نے کہا، اپنے کام کے بارے میں ان کا علم بہت وسیع تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں، لوگوں کو کہاں لے کر جا رہی ہیں، یہ ایک بہت واضح مقصد تھا۔

انتظامی صلاحیتیں، ٹیم کو منظم کرنا

اس وقت پورے پاکستان میں میری ایڈیلیڈ کے تقریباً 147 مراکز ہیں ۔ پنجاب میں کم ہیں، کراچی میں ایک دو ہیں، بلوچستان میں ہیں، آزاد کشمیر میں بھی ہیں۔ یہ ان کی انتظامی صلاحیت ہو یا قابلیت، وہ اپنے سارے مراکز کا مکمل ریکارڈ رکھتی تھیںکہ کہاں کتنے مریض ہیں، زیرِعلاج ہیں مریضوں میں کوئی بہتری ہوئی یا نہیں۔ وہ جو کام کرتی تھیں، بہت باریک بینی سے کرتی تھیں۔

1975-76 کے دنوں میں، جب افغانستان میں جنگ شروع ہوگئی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آگئے۔ ایک دن ڈاکٹر صاحبہ مریضوں سے متعلق اعداد و شمار دیکھ رہی تھیں کہ انھوں نے محسوس کیا کہ اس سال جذام اور جلد کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ اتنے سالوں سے ہم نے کوشش کی اور یہ تعداد کم ہو گئی تھی، تو یہ اب کیوں بڑھ رہی ہے؟ جب انھوں نے جائزہ لیا تو پتا چلا کہ یہ اضافہ کیوں ہورہا ہے اور کہاں سے ہورہا ہے۔ زیادہ تر شمال مغربی علاقوں کی طرف سے مریض آ رہے تھے۔ وہ سمجھ گئیں کہ یہ افغانستان سے آنے والے مہاجرین ہیں، جواپنے ساتھ بیماری لے کر آئے ہیں۔

انھوں نے خود سے کہا،’’نہیں، لیکن اُدھر سے کیوں؟ تو اس کا مطلب ہے کہ جلد کی بیماری افغانستان میں ہے۔ جڑ وہاں ہے۔ہم صرف مہاجرین کا علاج کرنے سے مسئلہ حل نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں افغانستان جانا پڑے گا۔‘‘یہ بات انہوں نے خود بتائی تھی۔ وہ افغانستان جانے کے لیے بے تاب ہوگئیں۔ اس مقصد کے لیے ان کی ملاقات جنرل ضیاء الحق سے کروائی گئی، جو صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ جنرل ضیاء الحق ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جانتے تھے، کیوں نہ جانتے، سارا پاکستان انھیں جانتا اور ان کی عزت کرتا تھا۔ اس ملاقات کے بارے میں ڈاکٹرروتھ فاؤ بتاتی ہیں۔’’جنرل ضیاء نے کہا، ڈاکٹر صاحبہ! میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ میں نے کہا، صدر صاحب! اگر ہم پاکستان میں جذام پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں افغانستان کے اندر بھی کام کرنا ہوگا۔ ضیاء الحق صاحب خاموش رہے کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ وہاں جنگ ہورہی ہے ، اس کا کیا جواب ہوگا؟کچھ لمحوں کے بعد وہ بولے، ڈاکٹر صاحبہ! آپ جائیں۔ میں آپ کو مکمل اجازت دیتا ہوں اور انھوں نے حکومت کی طرف سے ایک بڑی چار پہیوں والی گاڑی بھی دی، تاکہ وہاں کام شروع کیا جاسکے۔‘‘ یوں ڈاکٹرصاحبہ نے افغانستان میں بھی کام شروع کردیا۔ افغانستان میں جذام پر قابو پانے کا جو پروگرام انھوں نے شروع کیا، اس وقت اس کی کام یابی کتنی رہی، یہ الگ بات ہے ، لیکن انھوں نے وہاں جا کر ڈاکٹروں کو تربیت دی اور انھیں تیار کیا۔ یہ ایک راہ نما کے طور پر بہت اہم بات ہے۔

قیادت کی تیاری

وہ تقریباً 85 سال کی عمر میں فوت ہوئیں، لیکن تقریباً دس سال پہلے سے وہ یہ سوچ رہی تھیں،’’میرے بعد یہ کام کون جاری رکھے گا؟ مجھے خود بھی تیاری کرنی ہے۔‘‘آج بھی میری ایڈیلیڈ مرکز کا بورڈ موجود ہے ، وہ عملہ موجود ہے جسے انھوں نے تربیت دی تھی۔ جب وہ فوت ہوئیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ کون ذمے داری سنبھالے گا، کام کیسے ہوگا۔ سب کچھ پہلے سے منصوبہ بندی کے ساتھ تیار تھا۔ یہی ایک اچھے راہ نما کا کام ہے۔

آپ ہمیشہ زندہ نہیں رہیں گے، چناں چہ اپنا کام آگے بڑھانے کے لیے آپ کو لوگ اور منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ ہمارے لیے ایک مثالی شخصیت اور نمونہ ہیں۔ ہم نے ان سے سیکھا ہے کہ آپ کو دوسروں کے لیے بھی راستہ تیار کرنا چاہیے۔ جو سفر میں نے شروع کیا ہے ، ہوسکتا ہے میں منزل تک نہ پہنچ سکوں، تو میں دوسروں کو بھی تیار کروں کہ کوئی اسی کام کو آگے لے جائے۔ یہ ایک بہت اچھی مثال ہے۔ انھوں نے جس طریقے سے کام کیا، سب لوگ بہت متحد ہو کر اور ایک ہو کر ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔

پاکستان سے محبت

 انھوں نے کبھی اپنے آپ کو لوگوں سے دُور نہیں رکھا۔ یہ نہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں، میں جرمنی سے آئی ہوں اور یہ غریب لوگ ہیں۔ انھوں نے ایک دفعہ کہا تھا:

”I don't just give medicines to people, I want to give healing to people.“

ڈاکٹر روتھ فاؤ اور عبدالستار ایدھی صاحب جیسے لوگوں نے اپنی ذات کو پیچھے رکھا اور انسانیت کی خدمت کی۔ انھوں نے انسانیت کے لیے ایسے مثالی کردار قائم کیے جو آنے والی نسلوں تک نوجوانوں اور راہ نماؤں کے لیے مثال ثابت ہوں گے، اور ہمیشہ وہ ان لوگوں کے لیے روشنی کے مینار کی طرح سامنے رہیں گے جو انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔