سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
پاکستان کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت پسند گروپوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور مسلسل یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ طالبان عبوری رجیم اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ اس سلسلے میں دوست ممالک نے دونوں ممالک کے مابین مزاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن افغان حکومت کی بد نیتی اور ہٹ دھرمی کے باعث یہ مزاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اسکے بعد افغان حکومت کی حمایت سے ٹی ٹی پی کے حملوں کے باعث صورتحال نے سنگینی اختیارکی اور پاکستان نے ٹی ٹی پی کی طرف سے پاکستان میں کئے جانے والے حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس کیں اور افغان حکومت کو پیغام دیا کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے آنے والے ٹی ٹی پی کی دہشت گردوں نے یہ حملے جاری رکھے تو پاکستان بھی اپنا حق دفاع استعمال کرتا رہے گا۔
طالبان عبوری حکومت ہمیشہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور ان حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے افغان طالبان حکام کی حمایت جاری ہے جس کے نتیجے میں پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے کے ردعمل میں دونوں ملکوں افغانستان اور پاکستان کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم نے تیار کی ہے جسے 10 اگست کو شائع کیا گیا ہے اور اسے نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش)، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے متعلق قائم کردہ سلامتی کونسل کی کمیٹی میں جمع کرایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب 15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے پانچ سال مکمل ہونے جا رہے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں جنوبی ایشیا میں شدت پسند گروہوں کا خطرہ بڑھا ہے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی بلند سطح پر رہی ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملے جاری ہیں۔
افغانستان میں عملی طور پر اقتدار میں موجود حکام طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے اپنی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رْکن ممالک نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ یہ تنازع دہشت گرد گروہوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتا ہے جس سے خطے کے لیے اضافی سکیورٹی چیلنجز جنم لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے لیے افغان طالبان کی حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔
فروری 2026 میں بھی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان حکام کی طرف سے آزادی اور حمایت حاصل ہے۔ پاکستان نے اس رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا اصل ہدف پاکستان ہے اور یہ خطرہ افغانستان سے جنم لیتا ہے۔ پاکستان نے گذشتہ مہینوں کے دوران بھی اپنی سرزمین پر ہونے والے متعدد حملوں اور خاص طور پر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے پر ٹی ٹی پی اور افغانستان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ چھ اگست کو سلامتی کونسل نے سوات میں خودکش حملے پر جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا تھا کہ دہشتگردی کی ان کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والوں، منصوبہ سازوں، مالی معاونت فراہم کرنے والوں اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق جولائی 2026 کے دوران مختلف حملوں میں 112 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 205 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو لاحق شدت پسندی کے خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے جنم لینے والا دہشت گردی کا خطرہ بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا۔ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیا کے خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں جو بنیادی طور پر شمالی علاقوں اور کابل سمیت بڑے شہروں میں کی گئیں نے داعش خراسان کی صلاحیتوں کو کمزور کیا اور افغانستان میں اس کے حملوں میں کمی آئی۔ تاہم پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا۔
خطے کے رْکن ممالک نے رپورٹ کیا کہ داعش خراسان کے پاس جدید ٹیکٹیکل سازوسامان موجود ہے جس میں ڈرون، نائٹ وڑن آلات اور تھرمل امیجرز شامل ہیں اور شدت پسندوں کو شہری علاقوں میں لڑائی اور ڈرون کے استعمال کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ ایک رکن ملک نے رپورٹ کیا کہ داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی لاجسٹکس کے لیے معاونتی نیٹ ورکس مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ عرصے میں القاعدہ نے پہلی بار پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔ 28 اپریل کو القاعدہ کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم اسحاب میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں طالبان کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کی گئی۔ اگرچہ القاعدہ اس سے قبل پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور معاونت فراہم کرتی رہی تھی تاہم عوامی سطح پر اظہارِ حمایت کا یہ بیان براہِ راست تھا۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی صلاحیت ممکنہ طور پر بڑھنے کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی بڑی مقدار میں جدید ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی دستیابی برقرار ہے۔ افغان حکام ان ہتھیاروں کو ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک نے تشویش ظاہر کی ہے کہ جدید ہتھیاروں کے نظام جن میں نائٹ وڑن چشمے بھی شامل ہیں، کے پھیلاؤ نے کالعدم تنظیموں کی لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور انھیں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر مبصرین کہتے ہیں کہ کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے اِن پانچ برسوں میں سلامتی کونسل سمیت دیگر اداروں کی متعدد رپورٹس میں پاکستان کے اس موقف کی تائید ہوئی ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد کا موقف شروع سے یہ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف حملوں اور ان کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اِنہی پناہ گاہوں کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں کواڈ کاپٹرز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے جیسے ہنگو میں جدید کواڈ کاپٹر استعمال کیا گیا تھا۔ افغانستان کی پناہ گاہوں میں دہشتگرد گروہوں کو نئے ہتھیاروں کی آزمائش کا بھی موقع مل جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اْس وقت تک تناؤ کا شکار رہیں گے جب تک طالبان ٹی ٹی پی کے لیے اپنی حمایت ختم نہیں کرتے اور اس کے ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق جولائی 2026 کے دوران مختلف حملوں میں 112 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 205 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فروری 2026 میں العربیہ کو دیے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی نہ تو افغانستان میں آپریٹ کرتی ہے اور نہ ہی افغان سرزمین استعمال کرتی ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان اپنی سکیورٹی کی ناکامی کو چھپانے اور بیانیہ بنانے کے لیے ان حملوں کا قصوروار افغانستان کو قرار دیتا ہے۔
افغان امور کے ماہرین اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ وہ بارہا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار میں آئے پانچ برس مکمل ہونے پر بھی عالمی برداری کا یہی خیال ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی جمود برقرار ہے تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت بند ہے جبکہ ثالثی کی کوششیں بھی دیرپا کامیابی نہیں دلا سکی ہیں۔ اسلام آباد ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر چکا ہے مگر اس وقت تک پاکستان طالبان کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے غیر مطمئن ہے۔ ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں کچھ اقدامات اکئے گئے ہیں جیسے اسے سرحدوں سے دور کیا گیا ہے اور اصلاحی کمیشن کے نام سے حکومتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر کسی گروہ کے خلاف کوئی ایسی فوجی کارروائی نہیں کرنا چاہتے جو افغانستان میں ایک اور تنازع کھڑا کرے۔ حالانکہ اگر طالبان امیر چاہیں تو وہ اپنے تعلقات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روک سکتے ہیں۔ اسلام آباد افغانستان کے ’دارالافتا‘ کی جانب سے جاری کردہ فتوی سے مطمئن نہیں اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں کی باضابطہ مذمت بھی کی جائے۔ افغانستان میں اب ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ اسلام آباد کی جانب سے سرحد پار کی جانے والی فضائی کارروائیوں پر وہاں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ دونوں جانب اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے اور توقع نہیں کہ طالبان عوامی سطح پر ٹی ٹی پی کے خلاف کسی اقدام یا کارروائی کا اعلان کریں گے۔ ادھر افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ جہاں دو مختلف اضلاع میں طالبان کے اہم ٹھکانوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف اہم مسلح اور سیاسی مزاحمتی تحریکوں میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) شامل ہیں جو بنیادی طور پر پنجشیر، اندراب اور شمال کے دیگر حصوں میں سرگرم ہیں۔ یہ گروہ گوریلا کارروائیاں کرتے ہیں اور طالبان کی حکومتی پالیسیوں، بشمول خواتین کے حقوق کی پامالیوں، کی مخالفت کرتے ہیں۔
اہم مزاحمتی گروہ
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) احمد مسعود کی قیادت میں پنجشیر اور اندراب میں سرگرم سب سے بڑا مسلح گروپ ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) جنرل یاسین ضیاء کی سربراہی میں طالبان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والا دوسرا بڑا عسکری گروپ ہے۔
مختلف مقامات پر طالبان کی چوکیوں اور قافلوں پر اچانک حملے اور دیسی ساختہ بم (IED) کا استعمال کیا جارہا ہے۔
یہ کارروائیاں زیادہ تر کوہستانی علاقوں، خصوصاً پنجشیر، پروان، کاپیسا اور بغلان میں کی جارہی ہیں۔
جبکہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں خواتین کو وسیع پیمانے پر ملازمتوں' تعلیم اور شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال میں طالبان کے طرزِ حکومت، نسلی امتیاز اور کرپشن کے خلاف بھی افغان عوام احتجاج کرتے ہوئے ہوئے نظرآتے ہیں۔
ان حالات کے پس منظر میں افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے تعلقات کی استواری اور کشیدگی کے خاتمے کی خواہش کرتے ہوئے آپسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اگر اس پیشکش میں افغانستان کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں روکنے کی مخلصانہ کوشش کی جائے تو مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو سکتا ہے۔ جو دونوں ممالک اور خطے کیلئے امن اور ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔n