امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی اور واشنگٹن کو کوئی جلدی نہیں، موجودہ بحران کی سمت کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کو ہیں، جب کہ ابتدا میں اسے چند ہفتوں میں ختم ہونے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔ اب اگر واشنگٹن خود مذاکرات کے لیے کوئی مدت مقرر کرنے سے گریز کر رہا ہے تو یہ اس امر کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ فوجی دباؤ کو طویل المدت سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا گیا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ جتنی طویل ہوتی ہے، فتح اور حل کے درمیان فاصلہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ موقف کہ ایران پر معاشی اقدامات اور فوجی حملے دونوں موثر ہیں، دراصل جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ آج کسی ملک کو صرف بموں سے نہیں، مالیاتی نظام، تجارت، توانائی اور رسد کے راستوں پر دباؤ ڈال کر بھی کمزور کیا جا سکتا ہے۔ پابندیاں بظاہر میزائلوں کی طرح دکھائی نہیں دیتیں، مگر ان کے اثرات کبھی کبھی زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ بینکنگ روابط محدود ہوں تو درآمدات مہنگی ہوتی ہیں، کرنسی دباؤ میں آتی ہے، کاروباری اعتماد کم ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ ریاست سے زیادہ شہری اٹھاتے ہیں۔
ایران میں یہی منظر اب زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 20 لاکھ ریال کی سطح تک پہنچنا محض مالیاتی منڈی کی خبر نہیں، یہ عوام کے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی علامت ہے۔ جب ایک ہی رقم میں پہلے کے مقابلے میں نصف خوراک خریدی جا سکے تو افراطِ زر کسی اقتصادی رپورٹ کا عدد نہیں رہتا بلکہ گھر کے چولہے، بچوں کے کھانے اور ماہانہ بجٹ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جولائی میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ایک سال کے مقابلے میں 128 فیصد سے زیادہ اضافہ اسی بحران کی شدت ظاہر کرتا ہے۔
ایرانی حکومت نے اس صورت حال کا مقابلہ داخلی وسائل اور خود انحصاری کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پابندیوں کے ماحول میں یہ پالیسی بلاشبہ ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی ملک ہمیشہ بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتے ہوئے معاشی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ ایران کے پاس وسیع زرعی زمین، توانائی کے ذخائر، صنعتی بنیاد اور ایک بڑی افرادی قوت موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسے پابندیوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ بھی حاصل ہے، لیکن خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی تجارت سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی جائے۔ جدید معیشت میں اصل خود مختاری یہ ہے کہ ملک بحران کے باوجود ضروری درآمدات جاری رکھ سکے، برآمدی راستے متبادل بنا سکے، پیداوار بڑھا سکے اور قیمتوں کو قابو میں رکھ سکے۔
ایران کا غذائی شعبہ اس حقیقت کی اچھی مثال ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک اپنی زرعی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کرتا ہے اور اسے مزید بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن گندم، مکئی، چاول، خوردنی تیل اور جانوروں کی خوراک جیسی بنیادی اشیاء میں درآمدی ضرورت اب بھی موجود ہے۔ یہی وہ کمزوریاں ہیں جنھیں جنگ اور پابندیاں نمایاں کر دیتی ہیں۔ سمندری راستوں میں رکاوٹ، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور زمینی راستوں کی محدود گنجائش اشیاء کی دستیابی اور قیمت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ چنانچہ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں، رسد کے پورے نظام کا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی تشویش بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ درآمدی اخراجات اور ترسیلی مشکلات ایران میں غذائی مہنگائی بڑھا رہی ہیں۔ کسی بھی ملک کی غذائی سلامتی صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اس کے کھیتوں میں کتنا اناج پیدا ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ فصل بازار تک کس لاگت سے پہنچتی ہے اور شہری اسے کس قیمت پر خرید سکتے ہیں، اگر آمدنی وہیں رہے اور خوراک کی قیمتیں دگنی سے زیادہ ہو جائیں تو سرکاری اعداد میں پیداوار برقرار رہنے کے باوجود معاشرتی سطح پر غذائی عدم تحفظ بڑھ سکتا ہے۔
ادویات کی صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ حساس ہے۔ ایران اپنی زیادہ تر ادویات مقامی طور پر تیار کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن دواسازی کے شعبے میں درآمد شدہ خام مال، مخصوص اجزا اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ تقریباً ایک ہزار ادویات کی کسی نہ کسی سطح پر قلت کی اطلاعات اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ مقامی پیداوار کا بلند تناسب بھی مکمل خود کفالت نہیں ہوتا۔ بیماری اور جنگ کے درمیان کوئی نظریاتی فاصلہ نہیں رہتا، جس مریض کو دوا درکار ہو، اس کے لیے عالمی سیاست کا ہر فیصلہ براہِ راست انسانی مسئلہ بن جاتا ہے۔
توانائی کا بحران ایران کی معاشی مشکلات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ یہ ایک عجیب مگر تلخ تضاد ہے کہ وسیع تیل اور گیس کے ذخائر رکھنے والا ملک بجلی کی بندش، ایندھن کی قطاروں اور مستقبل میں گیس کی قلت کے خدشات سے دوچار ہو۔ جنگ سے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے موجود مسائل پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے، اگرچہ نئی ریفائنریوں کے ذریعے ایندھن کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور توانائی کی مستقل فراہمی کے لیے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور طویل المدت منصوبہ بندی درکار ہوگی۔
ایندھن کی قیمت میں اضافہ یہاں ایک انتہائی حساس فیصلہ ہوگا۔ معاشی ماہرین بجا طور پر متنبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں سبسڈی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے، مگر دوسری طرف پٹرول مہنگا کرنے سے نقل و حمل، خوراک اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ یوں حکومت کو دو مشکل راستوں میں سے انتخاب کرنا ہوگا، مصنوعی طور پر سستی قیمت برقرار رکھ کر مالیاتی دباؤ بڑھایا جائے یا اصلاحات کے ذریعے قیمتیں حقیقت کے قریب لائی جائیں اور ساتھ ہی کم آمدنی والے طبقات کو تحفظ دیا جائے۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ اصلاحات ہوں، مگر ان کا بوجھ معاشرے کے کمزور طبقے پر نہ ڈالا جائے۔
ایران کے لیے بھی یہ حقیقت نظرانداز کرنا ممکن نہیں کہ قومی مزاحمت کی سب سے مضبوط بنیاد ایک فعال معیشت اور مطمئن معاشرہ ہوتا ہے۔ ریاست طویل عرصے تک بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکتی ہے، لیکن اگر مہنگائی بے قابو ہو، کرنسی مسلسل گرے، ادویات نایاب ہوں، توانائی غیر یقینی ہو اور روزگار کے مواقع سکڑنے لگیں تو معاشی بحران بالآخر سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ عوام سے قربانی مانگنے کے ساتھ انھیں یہ یقین بھی دلانا پڑتا ہے کہ قربانی منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہی ہے اور اس کا کوئی واضح اختتام بھی موجود ہے۔
اسی پس منظر میں آبنائے ہرمز، پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ چھ ماہ کی جنگ کے بعد اگر سفارتی حل اب بھی ناگزیر ہے تو یہ سوال بجا ہے کہ اس حل تک پہنچنے میں مزید کتنی انسانی اور معاشی قیمت ادا کی جائے گی۔ جنگ مذاکرات کو ختم نہیں کرتی، اکثر صرف ان کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ دانش مندانہ سفارت کاری کا تقاضا یہی ہے کہ فریقین اپنے بنیادی مفادات محفوظ رکھتے ہوئے ایسے سمجھوتے کی طرف بڑھیں جس میں کسی کو مکمل فتح اور کسی کو مکمل شکست کے تصور سے آزاد ہونا پڑے۔
ایران کا بحران صرف ایران کا بحران نہیں۔ خلیج کی سلامتی، عالمی توانائی منڈیاں، سمندری تجارت، خوراک کی قیمتیں اور خطے کی سیاسی کشیدگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کا اثر ان ممالک تک بھی پہنچتا ہے جو براہِ راست فریق نہیں۔ تیل مہنگا ہو تو درآمدی بل بڑھتا ہے، سمندری راستے متاثر ہوں تو رسد مہنگی ہوتی ہے اور عالمی مہنگائی کا دباؤ ان معیشتوں تک پہنچتا ہے جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
بالآخر ایران اور امریکا دونوں کے لیے اصل سوال طاقت کے مفہوم کا ہے، اگر طاقت کا مطلب صرف زیادہ عرصہ تک جنگ جاری رکھنا ہے تو اس بحران کا کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوگا۔ طاقت میں معیشت کو زندہ رکھنا، عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا، سفارتی راستے کھلے رکھنا اور اپنے مخالف کے ساتھ ایسا سمجھوتہ کرنا بھی شامل ہے جو جنگ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہو۔ ایران کو اپنی مزاحمت کی معاشی قیمت کا حقیقت پسندانہ حساب کرنا ہوگا، جب کہ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی کمزوری ہمیشہ سیاسی اطاعت پیدا نہیں کرتی۔ چھ ماہ کی جنگ اگر اب بھی اختتام کی واضح سمت نہیں دکھا رہی تو شاید سب سے بڑی حکمت ِ عملی یہی ہے کہ میزائلوں کے بعد مذاکرات کو موقع دیا جائے، کیونکہ جنگ کی سب سے مہنگی قیمت وہ نہیں جو ریاستی خزانے سے ادا ہوتی ہے، سب سے بھاری قیمت وہ ہے جو ایک عام شہری اپنی روٹی، دوا، بجلی اور اپنے بچوں کے مستقبل سے ادا کرتا ہے۔