پہلے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران گئے۔ اس کے بعد عمان کے وزیر خارجہ ایران گئے۔ ان دو دوروں کے بعد ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہر مز کے انتظام پر ایک معاہدہ بھی سامنے آگیا۔ لیکن ابھی سب کچھ حل نہیں ہوا۔ ابھی آبنائے ہر مز کھلی نہیں ہے۔ اس معاہدہ کے بعد بھی بند ہے۔ اس لیے ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ کو ایک پہلی سیڑھی تو کہا جا سکتا ہے لیکن یہ حتمی حل نہیں ہے۔ اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران گئے اور انھوں نے وہاں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کی ایک تصویر بھی سامنے آئی جس میں سب نقشہ کو سامنے رکھ کر گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک عمومی خیال یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے نقشہ پر بات ہو رہی تھی۔ قطر کے وزیر اعظم بھی ایران پہنچے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے ایران جانے سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر وینس سے بھی بات کی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر جو معاہدہ ہوا ہے اس کو امریکی اور عربوں کی آشیر باد حاصل ہے۔ عمان نے امریکا اور عرب ممالک کی مرضی سے یہ معاہدہ کیا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے جب بھی ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر بات چیت کی کوشش کی وہ ناکام ہو گئی۔ لیکن اب شائد حالات بدل گئے ہیں۔
آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اب کیا رکاوٹ ہے۔ اب ایک ہی رکاوٹ ہے وہ ہے امریکی نیول بلاکیڈ۔ اگر امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا نیول بلاکیڈ ہٹا لے تو جواب میں ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ یہی جنگ کا اختتام ہوگا۔ ابھی تو یہی نظر آرہا ہے کہ فوری طور پر کوئی اور حل نہیں ہے۔ مذاکرات کی بحالی آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد کے اقدامات ہیں۔ اور اس ضمن میں جو ایران کی شرائط ہیں وہ شائد مڈٹرم تک ٹرمپ پوری نہیں کر سکتے۔ اس لیے پابندیاں برقرار رہیں گی۔ وہ ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کا بیانیہ چلاتے رہیں گے۔ رہا آبنائے ہرمز تو وہ بھی چل جائے گا۔ ابھی یہی ممکن ہے۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان بھی سامنے آگیا ہے کہ امریکا ایران پر مزید حملے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جب امریکا مزید حملے نہیں کرے گا تو جواب میں ایران بھی حملے نہیں کرے گا۔ اس طرح ایک غیر علانیہ سیز فائر بھی قائم رہا۔ یہ سب کچھ امریکی صدر کی مڈٹرم تک چل سکتا ہے۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ شائد ٹرمپ سمجھ گئے ہیں کہ آبنائے ہر مز طاقت کے زور سے نہیں کھلوایا جا سکتا۔ اس لیے آبنائے ہرمز پر ایران کی بات ماننی پڑے گی۔ ویسے بھی عرب بہت پریشان ہیں۔ قطر کی گیس کی برآمد 95فیصد کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح سارے عربوں کی تیل کی فروخت میں کافی کمی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔
اب سوال ہے کہ جب امریکا پابندیاں نہیں ہٹائے گا۔ ایران میں معاشی مسائل بڑھتے جائیں گے تو ایران کیوں آبنائے ہرمز کھولے گا۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ چاہے کسی بھی نام سے ایران ٹول یا فیس لے گا تا کہ اس کا گزارہ چل سکے۔ عالمی نشریاتی ادارے ایسی خبریں دے رہے ہیں کہ عرب ممالک نے انفرادی طور پر ایران کو ایک ڈالر فی بیرل ٹول یا فیس کی پیشکش کی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکا نے معاشی پابندیاں سخت ہی اس لیے کی ہیں کہ عرب ایران کے ساتھ براہ راست کوئی معاہدہ نہ کرلیں۔ اس لیے یہ پابندیاں ایران سے زیادہ عربوں کو روکنے کے لیے ہیں۔ لیکن جہاں تک میری سمجھ ہے عرب جان چکے ہیں کہ امریکا ایران کو حتمی شکست نہیں دے سکتا، نہ وہاں فوری رجیم چینج ہی ممکن ہے۔ اس لیے اسی رجیم کے ساتھ جینا اور مرنا ہے۔آپ اپنے ہمسائے نہیں بدل سکتے، جغرافیہ نہیں بدل سکتے۔ اسی لیے عربوں کو اب ایک نئے ایران کے ساتھ رہنا ہے۔
اب ایران خطہ میں بالادست ہوگا۔ اس کی ایک دھاک ہوگی۔ اس کے میزائل اور ڈرون کا ایک رعب ہوگا۔ اس لیے امن پسند عربوں نے اب ایران سے نہ لڑنے اور بات چیت سے مسائل حل کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ بھی اس سمت اشارہ کرتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کے ساتھ ہی پاکستان قومی سلامتی کے مشیر بھی بحرین اور کویت کے دورے پر تھے۔ بحرین اور کویت دونوں پر ایران نے بہت میزائل مارے ہیں۔ وہ آخری دم تک امریکا کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان کی کوشش لگ رہی ہے کہ ان کے اور ایران کے درمیان بھی پل کا کام کیا جائے تا کہ گلف میں بھی مکمل امن ہو سکے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔
بہت سے لوگ مکہ ڈیفنس معاہدہ میں ایران کی شمولیت کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی شائد اس کا وقت نہیں۔ شائد ابھی عرب بھی اس کے لیے تیار نہ ہوں۔ ابھی عالمی حالات بھی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران نے جتنی بھی پراکسیز بنائی ہیں انھوں نے اسرائیل کو کم اور عربوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ حوثیوں کی مثال لے لیں۔ حوثی سعودی عرب کے لیے درد سر ہیں۔ اور سعودی عرب سمجھتا ہے کہ صرف سعودی عرب کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ایران حوثیوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایک وقت میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہت کشیدگی تھی۔ شائد سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے۔پھر پہلے چین نے صلح کروائی اور اب پاکستان نے بھی سعودی عرب اور ایران کی قربت میں کافی کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ کا مسئلہ ہے۔ اس پر بھی عرب ناراض ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ لبنان کا بڑا مسئلہ حزب اللہ ہے۔ عراق میں ایرانی پراکسیز بھی موجود ہیں۔ اس لیے عرب ایران کے ساتھ محتاط چلنے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں والی بات ہے۔ ابھی کافی کام ہونا باقی ہے۔
ایران کو بھی سمجھ ہے کہ وہ ابھی عربوں کے ساتھ کسی دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایران کو بھی ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی کہ یہ معاہدہ اس کے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔ مجھے یقین ہے کہ فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کے دوران باب المندب پر بھی بات ہوئی ہوگی۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دو دفاعی معاہدوں میں بندھا ہوا ہے۔ اس لیے پاکستان نے اپنے تحفظات ایران تک ضرور پہنچائے ہوں گے۔
ایک خاص بات پاکستان تو پہلے بھی ثالثی کے دوران مکمل خاموش ہی رہا ہے۔ کبھی کوئی خبر پاکستان سے باہر نہیں آئی۔ خبریں یا امریکا سے آتی ہیں یا ایران سے۔ اس بار فیلڈ مارشل کے دورے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے بھی ٹوئٹ کیا ہے۔ اور ایران سے بھی مثبت خبریں آئی ہیں۔ اس لیے ماحول بد لا ہے۔ ویسے بھی ایرانی صدر بار بار جنگ کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔