ملکہ غزل، بیگم اختر

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا اور کچھ تلخیٔ حالات نے دل توڑ دیا دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا


رئیس فاطمہ August 28, 2026

بہار کے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بیگم اختر نے صرف پندرہ سال کی عمر میں پبلک پرفارمنس دی۔ یہ ان کا پہلا اسٹیج پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں بلبل ہند سروجنی نائیڈو بھی موجود تھیں، جب پروگرام ختم ہوا تو سروجنی نائیڈو نے بیگم اختر سے کہا ’’آپ کے گلے کی تربیت تو قدرت نے خود کی ہے، اس میں جو سوز و ساز ہے وہ بالکل فطری ہے اور انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔‘‘ سروجنی نائیڈو نے حکومت سے کہا کہ بیگم اختر کو ’’بلبل موسیقی‘‘ کا خطاب دیا جائے۔

بیگم اختر کا پیدائشی نام اختری بائی فیض آبادی تھا۔ وہ 7 اکتوبر 1914 کو یوپی کے ضلع فیض آباد میں پیدا ہوئیں، ان کے والد کا نام اصغر حسین تھا، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے، والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ اختری کو موسیقی سے لگاؤ پیدائشی طور پر تھا۔ جب وہ دس سال کی ہوئیں تو ان کی والدہ نے انھیں استاد امداد علی کے پاس پٹنہ بھیجا۔ اختری کی موسیقی سے محبت کو دیکھ کر ان کے چچا نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ پٹنہ میں انھوں نے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔

بعد میں پٹیالہ گھرانے کے عطا محمد خان نے بھی انھیں موسیقی کی تعلیم دی۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ چھوٹی بچی آسمان گلوکاری پر چاند بن کر چمکے گی اور نصف صدی تک سامعین کے ذہن و دل پر ملکہ غزل بن کر حکمرانی کرے گی۔ بیگم اختر کو قدرت نے بڑی دلکش اور سریلی آواز عطا کی تھی۔ یوں تو بیگم اختر نے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی اور انھیں ٹھمری دادرا گانے میں کمال حاصل تھا، مگر ان کی اصل شناخت غزل گائیکی کے سبب سے ہے۔ غزل کے اشعار کی ادائیگی میں انھیں جو کمال حاصل تھا وہ اب تک کسی گلوکار کو حاصل نہیں ہو سکا۔ شاید اسی لیے کیفی اعظمی کہتے تھے ’’میرے نزدیک غزل کے دو معنی ہیں ایک تو لغوی یعنی محبوب سے باتیں کرنا اور دوسرے صرف اور صرف بیگم اختر۔‘‘

 یوں تو انھوں نے بہت سے شعرا کی غزلیں گائی ہیں جیسے غالب، مومن خاں مومن، جگر مراد آبادی، شکیل بدایونی، بہزاد لکھنوی، میر تقی میر اور کیفی اعظمی۔ لیکن سب سے زیادہ غزلیں انھوں نے بہزاد لکھنوی کی گائی ہیں۔ انھوں نے بہزاد لکھنوی کی سو سے زائد غزلیں گائیں اور آج تک داد وصول کر رہی ہیں کیونکہ فنکار کبھی نہیںمرتا۔ اس کا فن اسے زندہ رکھتا ہے۔

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے

اے دیکھنے والوں مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو

تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع تمنا

جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

بہزاد ہر اک گام پہ ایک سجدۂ مستی

ہر ذرے کو سنگ در جاناں نہ بنادے

ایک بار بیگم اختر کسی محفل موسیقی میں شرکت کرنے کے لیے حیدرآباد دکن جا رہی تھیں، ریل چلنے والی تھی، ایک نوجوان بھاگتا ہوا ریل کے ڈبے کے نزدیک آیا اور ایک کاغذ تھما کر واپس چلا گیا۔ بیگم اختر نے پرچہ کھول کر دیکھا تو اس پہ ایک غزل لکھی تھی۔ شاعر کا نام تھا شکیل بدایونی۔ انھیں یہ غزل اتنی پسند آئی کہ انھوں نے وہ غزل محفل موسیقی کے لیے منتخب کر لی۔ جب محفل موسیقی کا آغاز ہوا تو انھوں نے یہی غزل گائی۔ اس غزل میں نغمگی بہت تھی اسی لیے انھوں نے اس کی دھن بنائی۔ محفل موسیقی میں یہ غزل اتنی پسند کی گئی کہ بیگم اختر کو بار بار اشعار دہرانے پڑے۔

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے

آج کچھ بات ہے جو شام سے رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ

منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیل

مجھ کو اپنے دل نادان پہ رونا آیا

شکیل بدایونی کی ایک اور غزل بھی بیگم اختر نے بڑے دل سوز لہجے میں گائی ہے۔

مرے ہم نفس میرے ہمنوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب، مجھے زندگی کی دعا نہ دے

میرے داغ دل سے ہے روشنی، اسی روشنی سے ہے زندگی

مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر، یہ چراغ تُو ہی بجھا نہ دے

میں غم جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں

جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خدا نہ دے

1945 میں بیگم اختر نے لکھنو کے مشہور بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی سے شادی کر لی اور انھوں نے اپنے شوہر کے کہنے پر محفلوں میں گانا چھوڑ دیا، وہ پانچ سال تک گلوکاری سے دور رہیں اور پھر بیمار رہنے لگیں، تب ڈاکٹروں کے سمجھانے پر ان پر سے گانے کی پابندی ہٹالی گئی، شادی کے بعد ہی وہ بیگم اختر کہلائیں۔ انھوں نے 9 فلموں میں کام بھی کیا، جن میں محبوب خان کی مشہور فلم ’’روٹی‘‘ بھی شامل ہے لیکن انھیں فلمی ماحول پسند نہ آیا اور انھوں نے فلمی دنیا چھوڑ دی، ان کی مشہور غزلوں میں سدرشن فاکر کی یہ غزل بھی شامل ہے:

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا

اور کچھ تلخیٔ حالات نے دل توڑ دیا

دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے

عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا

ملکہ غزل بیگم اختر نے 1930 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ہر فلم میں انھوں نے ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ ان فلموں میںایک دن کا بادشاہ، امینہ مختار بیگم، جوانی کا نشہ، نصیب کا چکر اور روٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشہور فلم ڈائریکٹر ستیہ جیت رے کی فلم میں بھی کام کیا۔ انھیں فلموں کی طرف لانے میں مشہور موسیقار مدن کا بڑا ہاتھ ہے۔ انھوں نے بڑے بڑے موسیقاروں سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی اور ملکہ غزل کہلائیں۔ انھوں نے جگر صاحب کی غزلیں بھی بڑے دل سوز انداز میں گائیں۔

طبیعت ان دنوں بیگانہ غم ہوتی جاتی ہے

مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے

وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے

کہ محفل تو وہی ہے دلکشی کم ہوتی جاتی ہے

وہی ہے زندگی لیکن جگر یہ حال ہے اپنا

کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

بیگم اختر کو قدرت نے وہ آواز دی تھی جسے سن کر سامعین واہ واہ کر اٹھتے تھے۔ وہ جو کچھ گاتیں یہ محسوس ہوتا کہ یہ کیفیت خود ان پر گزر رہی ہے۔ وہ اشعار کو اپنے اندر اتار لیتی تھیں کہ سننے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ انھوں نے بڑے بڑے راجوں، مہاراجوں اور نوابین کی محفلوں میں غزل خوانی کی۔ درباروں میں ان کی عزت بہت کی جاتی تھی۔ انھیں ’’پدم شری ایوارڈ‘‘ 1968 میں ملا۔ 1972 میں سنگیت ناٹک ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ بھارت کا تیسرا بڑا ایوارڈ 1975 میں بعدازمرگ دیا گیا۔ 30 اکتوبر 1974 کو ان کا انتقال احمد آباد میں ہونے والی محفل موسیقی میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ انھیں ان کی خواہش کے مطابق ان کی پسندیدہ جگہ ’’پسند باغ‘‘ میں سپرد خاک کیا گیا۔ غزل گائیکی میں وہ اپنے فن میں یکتا تھیں اور رہیں گی۔