بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے بحری شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم ٹاسک فورس بحری شعبے کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کر رہی ہے


ویب ڈیسک September 01, 2026

وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے بحری شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت جاری ہے۔ پاکستان کی بلیو اکانومی کی بیش بہا صلاحیتوں کے پیش نظر وزیراعظم ٹاسک فورس بحری شعبے کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کر رہی ہے۔

پاکستان کے سمندری وسائل میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی بلیو اکانومی کی صلاحیت موجود ہے، تاہم طویل عرصے تک پاکستان اپنے وسیع سمندری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے بھرپور معاشی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ملکی کارگو کی بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہونے کے باعث پاکستان کا شپنگ شعبہ بیرونی انحصار کا شکار رہا۔ بندرگاہوں کی ڈریجنگ اور ماہی گیری کی کشتیوں کی تیاری میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار برقرار رہا۔

بحری شعبے میں بیرونی انحصار کے باعث پاکستان کو طویل عرصے تک اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔قومی کارگو میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ صرف 11 فیصد رہا، جو معاشی خود انحصاری کے لیے بڑا چیلنج تھا۔اسی صورتحال میں 24 دسمبر 2024 کو وزیراعظم شہباز شریف کی ٹاسک فورس کے تحت 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا۔

روڈ میپ میں بندرگاہوں، لاجسٹکس، شپنگ، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔وزیراعظم ٹاسک فورس کے تحت قومی شپنگ اور جہاز سازی کی استعداد بڑھانے اور بحری شعبے کی جدیدکاری پر مؤثر عملدرآمد جاری ہے۔ اصلاحات کا مقصد پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو خود کفیل، شفاف اور عالمی معیار کا بنا کر بلیو اکانومی کو فروغ دینا ہے۔