ملک میں نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں؟ وفاقی وزیر قانون کا اہم بیان سامنے آگیا

پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں جب متفقہ فیصلہ کریں گی، تب ہی نئے انتظامی یونٹس یا صوبے وجود میں آ سکیں گے، اعظم نذیر تارڑ


ویب ڈیسک September 02, 2026

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ملک میں نئے صوبوں کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ آئینی تقاضے پورے ہونے اور دو تہائی اکثریت کے ساتھ ملک میں نئے صوبوں کا قیام ممکن ہے۔

لندن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیاں متفقہ طور پر فیصلہ کریں گی، تب ہی نئے انتظامی یونٹس یا صوبے وجود میں آ سکیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک قانونی اور پارلیمانی عمل ہے جو دو تہائی اکثریت کا متقاضی ہے۔

آزاد کشمیر کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں سب سے بڑا چیلنج بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، جو پرامن طریقے سے مکمل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے انتخاب کا حتمی اختیار مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پاس تھا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان بارہا اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام اور درپیش سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ ہی سب سے بہتر ہے، جس کے لیے حکومت نے ہمیشہ دروازے کھلے رکھے ہیں۔