ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے فوجی اہداف کے ساتھ ایک ایسے گھر پر بھی بمباری کی جس میں شادی کی تقریب جاری تھی اور متعدد خواتین و بچے شہید ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے اس سانحے پر گفتگو جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا نے شادی کے گھر کو نشانہ بنایا۔
جس پر نائب صدر جے ڈی وینس نے جواب دیا کہ امریکا ایران میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے کی تحقیقات کر رہا ہے تاہم انہوں نے اس پر شدید شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ ہم بھی جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت میں وہاں کیا ہوا تھا تاہم انھوں نے ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی سوال اٹھایا۔
امریکی نائب صدر کے بقول مجھے ایرانی میڈیا کے اس دعوے پر شدید شکوک ہیں لیکن انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ امریکا کبھی بھی جنگی کارروائیوں میں شہریوں کو ہدف نہیں بناتا اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران بعض اوقات غلطیاں ہوسکتی ہیں تاہم ان کے بقول امریکی فوج کی پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو تو اس سے سبق سیکھ کر آئندہ کارکردگی بہتر بنائی جائے۔
نائب صدر کی پریس بریفنگ کے دیگر اہم نکات
یہ بریفنگ وائٹ ہاؤس میں کئی ہفتوں بعد ہونے والی پہلی باضابطہ پریس بریفنگ تھی جس میں جے ڈی وینس نے سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔
ایران کے معاملے پر وینس نے امریکی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران سے متعلق اطلاعات میں خاص طور پر سوشل میڈیا اور ایرانی ذرائع سے آنے والی بعض رپورٹس پر احتیاط ضروری ہے۔
بریفنگ میں امریکی معیشت اور مہنگائی بھی زیر بحث آئی۔ جے ڈی وینس نے موجودہ معاشی مشکلات کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسیوں کو قرار دیا اور ٹرمپ انتظامیہ کے توانائی منصوبوں کا دفاع کیا۔
انھوں نے وینزویلا کے ساتھ طے پانے والے بڑے تیل معاہدے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زیادہ ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر بڑے پیمانے پر کنٹرول حاصل ہوگا۔