وقت کی عارضی رعونت

وقت نے ہر حال میں گزرنا ہوتا ہے، وہ گزر جاتا ہے اور تاریخ باقی چھوڑ جاتا ہے ۔


محمد سعید آرائیں September 05, 2026
[email protected]

وقت نے ہر حال میں گزرنا ہوتا ہے، وہ گزر جاتا ہے اور تاریخ باقی چھوڑ جاتا ہے ۔ماضی کو سیاستدان ہی نہیں عوام بھی بھول جاتے ہیں، حکمران اقتدار کے نشے میں سوچ سمجھ کر کبھی نہیں بولتے مگر ان کا کہا گیا تاریخ درج کر جاتا ہے جس کا سامنا بعد میں ضرور کرنا پڑتا ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنے اقتدار میں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے جو کچھ کہا تھا انھیں معلوم نہیں تھا کہ مستقبل میں ان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اسی شخص کے در کے چکر کاٹنا پڑیں گے جس کا وہ اپنے جلسوں میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کسی کے کیا خود بانی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ سیاسی اور اقتداری مجبوری کچھ ہی سالوں بعد دوسری سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوا دے گی۔

اپوزیشن لیڈر اپنی اکلوتی نشست کے حامل محمود خان اچکزئی کو نہیں پتا تھا کہ وہی شخص انھیں اپنی پارٹی سے باہر والے کو ایک اہم عہدے پر نامزد کر دے گا جو اپنے جلسوں میں ان کی نقل کرکے مذاق اڑایا کرتا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ اسیر سابق وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو حاصل سہولیات ختم کر دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے وہ اب اپنی اسیری میں طلب گار ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم کی خاتون معاون خصوصی کو تسلیم کرنا پڑ گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اگر پی پی الگ ہوئی تو ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔ وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ تسلیم کر رہے ہیں کہ اتحادی حکومتوں میں مسائل ہوتے ہیں۔ (ن) لیگی حکومت اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیتی تو پی پی کے چیئرمین کو شکایت نہ ہوتی کہ اہم معاملات پر بھی حکومت اعتماد میں نہیں لیتی اس لیے ہمارے تحفظات دور ہونے تک پیپلز پارٹی قانون سازی پر ووٹ نہیں دے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما بھول گئے کہ وہ آصف زرداری کو بھی نہیں بخشتے تھے اور سرعام سخت باتیں کہہ جاتے تھے مگر انھیں دوبارہ مسلم لیگ (ن) اقتدار کے لیے صدر مملکت منتخب کرانے پر مجبور ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے گڑھی خدابخش کے جلسے میں جس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی تقریر کی تھی آج وہ خود اور ان کی پارٹی اس کے قریب بلکہ دوسری بار صدر مملکت بھی ہیں۔ آج پیپلز پارٹی کے چیئرمین آزاد کشمیر میں الیکشن ہار جانے پر ریاست سے گلہ بھی کرتے ہیں مگر وہ حکومت کی نیت کو ٹھیک قرار دیتے ہیں ۔ماضی میں ایک دوسرے کی مخالف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے جنرل پرویز مشرف کے عتاب کے باعث اور بدلتے وقت کے ساتھ 2005ء میں لندن میں میثاق جمہوریت کیا جو سیاسی ضرورت تھی۔

 پیپلز پارٹی نے پنجاب میں گورنر راج لگا کر (ن) لیگ کو اشتعال انگیز بیان بازی کا موقعہ دیا تھا۔ پیپلز پارٹی سیاسی طور پر مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پر وعدہ خلافی کا الزام ضرور لگاتی ہے مگر اس نے بھی بلوچستان میں پی ٹی آئی سے مل کر (ن) لیگی وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کی حکومت ختم کرائی تھی ۔ پیپلز پارٹی نے 2014 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ساتھ دے کر پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں طویل دھرنا ناکام بنایا تھا اور حکومتی مدت پوری ہوئی تھی۔ میاں نواز شریف نے اپنی تین حکومتوں میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کبھی انتہائی سخت جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور سخت زبان استعمال نہیں کی اور محتاط ہی رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں جب ان کی حکومت کے خلاف تحریک چلی تھی تو ان کا دعویٰ تھا کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے مگر بعد میں ان کی حکومت برطرف ہوئی اور مارشل لا لگ گیا۔

کہتے ہیں کہ زبان سے کبھی ایسی سخت بات نہیں کرنی چاہیے جس کی بعد میں شرمندگی ہو مگر سیاست میں اصول، اخلاق سب کچھ یاد رکھنا چاہیے اس معاملے میں جنرل ضیا الحق کے اخلاق اور عاجزی کی مثالیں موجود ہیں مگر جنرل پرویز اس کے برعکس تھے۔ وہ جس بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی سیاست ختم کرنا چاہتے تھے انھی جنرل پرویز کو خود یو اے ای جا کر بے نظیر سے ملاقات کرنا پڑی تھی اور بعد میں نواز شریف کو بھی وطن واپسی کی اجازت دینا پڑی تھی جن کی پارٹیاں بعد میں برسر اقتدار آئی تھیں۔

 اقتدار میں تکبر اور غرور کسی کو راس نہیں آیا اور جذبات میں بہہ کر متکبرانہ بیانات دینے والوں کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے کپڑے فروخت کرکے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے دعویداروں کی حکومت میں عوام اپنا تن ڈھانپنے کے قابل بھی نہیں رہے، مگر حکمرانوں کے ساتھ ان کے وزرا بھی عوام کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے۔