ہم اکثر نقشوں کو محض لکیروں اور رنگوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں لیکن معیشت کی آنکھ سے جب میں دیکھتا ہوں تو یہ لکیریں شریانیں بن جاتی ہیں اور زمین کے خدوخال ندی کی آمدورفت کے راستے بن جاتے ہیں۔ وسطی ایشیا کا ایک مسحور کن اور پرجمال ملک کرغزستان جسے قدرت نے برف پوش سلسلہ ٔکوہ اور شفاف جھیلوں اور سرسبز چراگاہوں سے نوازا ہے، آج پاکستان کے ساتھ ایک نئے تاریخی اور معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی، صحت، تعلیم اور آئی ٹی ٹرانزٹ وغیرہ کے معاہدے محض رسمی سفارتی کارروائی کا کاغذ نہیں بلکہ جیو اکنامکس کی اس نئی شطرنج پر ایک نہایت بیدار مغز اور دور اندیش چال ہے۔ اس ملک کا دارالحکومت بشکیک ہے۔
معاشی و قدرتی وسائل، پانی سے بجلی کی پیداوار، سونا، دیگر نایاب معدنیات اور زرعی مصنوعات والا ملک ہے لیکن سمندر سے محروم ہونے کے باعث کرغزستان کے لیے بین الاقوامی تجارت اور عالمی منڈیوں تک ارزاں رسائی ہمیشہ ایک کٹھن چیلنج رہی ہے۔ جغرافیائی طور پر پاکستان اور کرغزستان کے درمیان افغانستان کی ایک راہداری حائل ہے جو کہ بعض وجوہات کی بنا پر اس وقت محفوظ نہیں ہے، البتہ چین اور پاکستان کی جانب سے شاہراہ قراقرم اور کاشغر کا بنیادی ڈھانچہ بہترین اور سیکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ہے۔
آج کی دنیا جیو پولیٹیکس سے نکل کر جیو اکنامکس کے فریم ورک میں داخل ہوچکی ہے ۔ روس اور چین کے ساتھ امریکا بھی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے کا خواہاں ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور کرغزستان کا تیکنیکی اور تجارتی اشتراک اس خطے میں معاشی خود مختاری کا نیا توازن قائم کرتا ہے جب کرغزستان پاکستان کی بندرگاہ گوادر کا استعمال کرتا ہے تو ’’ سی پیک‘‘ کا اصل مقصد عملی شکل اختیار کرلے گا۔ کرغزستان میں سستی بجلی پیدا ہوتی ہے اور یہ بجلی ایک منصوبے کے تحت لائی بھی جا رہی ہے۔
وزیراعظم جو کہ شنگھائی کانفرنس میں شرکت کے لیے بشکیک گئے تھے، وہاں معاہدے میں بہت سے امور جو کہ طے کیے گئے ہیں وہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنے والے بلکہ عملی شکل اختیار کرتے ہوئے پاکستان، کرغزستان کو ادویات، ٹیکسٹائل مصنوعات اور سرجیکل آلات ، چاول اور دیگر اشیاء برآمد کرسکتا ہے جب کہ بدلے میں کوئلہ، خام مال ، خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء درآمد کی جائیں گی اور وقت کے اعتبار سے سب سے بہترین بات یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں اپنے سافٹ ویئر فروخت کرسکتی ہیں، اس طرح دونوں ممالک سروسز سیکٹر کی برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ فی الحال پاکستان، کرغزستان کا تجارت 20کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا معاہدہ ہوا ہے۔
ان دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے ہوا ہے کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے بینکنگ چینل کو فعال کرنا ہوگا تاکہ تاجروں کو کسی تیسرے ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ شاہراہ قراقرم کا ’’ خنجراب‘‘ پاس سردیوں میں بند ہوجاتا ہے اس کا مستقل حل نکالنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان، خطے کے ممالک کے لیے ایک ایسا پل بن چکا ہے جو وسطی ایشیا کے تمام ممالک کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی جیواکنامک حکمت عملی پر ثابت قدمی سے گامزن رہا تو ان ملکوں کے مال بردار ٹرک صرف سامان نہیں بلکہ خوشحالی، ترقی اور تیکنیکی انقلاب کی نئی سحر بھی ساتھ لائیں گے، کیوں کہ وسطی ایشیائی ملکوں کے لیے پاکستان کی بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں کراچی اور گوادر کے ذریعے ایشیا کی بڑی مارکیٹ تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ معاہدے کے مطابق لاہور اور اوش جڑواں شہر قرار دیے گئے ہیں۔ فی الحال پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دو طرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے۔ کسٹم ٹرانسپورٹ سے متعلق معاہدوں سے غیر تجارتی رکاوٹیں ختم ہوں گی اور دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ ڈیجیٹل اکنامی کو فروغ دے کر پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے برآمدات کا راستہ کھلے گا۔ لاجسٹک اور ترسیل کو آسان بنانے سے مال برداری کے اخراجات اور ٹرانزٹ ٹائم میں نمایاں کمی آئے گی، اس معاہدے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اقتصادی راہداری اور کاشغر سے کرغزستان کے زمینی راستوں کو فعال کرنے میں معاون ثابت ہونے سے پاکستان لاجسٹک ہب کے طور پر پاکستان کا کردار مضبوط ہوگا، ان دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات ’’کاسا 1000‘‘سے بھی منسلک ہیں۔
اس طرح کے دو طرفہ معاہدے سے پاکستان میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور گرڈ کی بہتری کے عمل کو بھی تیکنیکی تقویت دیتے ہیں۔ کسی بھی اقتصادی اور تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار پائیدار امن پر ہوتا ہے۔دونوں ملکوں نے دہشت گردی اور دیگر عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ تجارت بڑھانے کے لیے پلان پر جلد کام شروع کردیا جائے اور صحت تعلیم، ٹرانزٹ ، ٹریڈ، دفاع ، انسداد منشیات ، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے جو معاہدے کیے گئے ہیں ان پر جلد از جلد عمل درآمد شروع کیا جائے، تب کہیں جاکر معاہدے کے اثرات حاصل ہوں گے۔