’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔ ‘‘سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل آغا نے گل پلازہ سانحہ کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے اختتام پر معروف شاعر مصطفی زیدی کی معرکتہ الآراء نظم کے یہ اشعار تحریر کر کے سندھ کی حکومت کے افلاس کو آشکار کردیا۔ کراچی کے غیر ملکی اشیاء کے مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں 17 جنوری 2026ء کو آتشزدگی کی خوفناک واردات ہوئی تھی۔ اس سانحے میں 80 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے تھے۔
حکومت سندھ نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے وزیر بلدیات کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں 2 اور وزراء شامل تھے، مگر جب ہر طرف سے اس کمیٹی پر عدم اعتمادکا اظہار کیا گیا تو پھر حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر راجپوت سے استدعا کی کہ ہائی کورٹ کے کسی فاضل جج پر مشتمل ایک رکنی ٹریبونل قائم کیا جائے تاہم حکومت سندھ نے جب ٹریبونل کے (Terms of Reference TORs) تیار کیے تو ٹریبونل کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ جب ٹریبونل اپنی رپورٹ مرتب کرے تو رپورٹ کو حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ سندھ حکومت اس رپورٹ کی اشاعت پر پہلے تیار نہیں تھی۔ حکومت نے پھر دو صوبائی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ کمیٹی اس رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے تجاویز دے گی۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے اس تحقیقاتی رپورٹ کے حصول کے لیے سندھ انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا مگر کمیشن کے ارکان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر فاروق ستار کی استدعا مسترد کردی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
26 ستمبر 2026ء کو پمز اسپتال اسلام آباد میں بچوں کے آئی سی یو میں آتش زدگی کے سانحہ جس میں 14 بچے جاں بحق ہوئے کے بارے میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم ہونے والی تحقیقاتی کمیٹی کی مقررہ وقت پر اشاعت کے بعد حکومت سندھ بھی اس رپورٹ کے اجراء پر مجبور ہوگئی۔ جسٹس فیصل آغا نے اپنی 7صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں گل پلازہ سانحہ کی ذمے داری ایک ادارہ تک محدود نہیں رکھی بلکہ مجموعی نظام کی ناکامی کو جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت خطرناک اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی حالت میں مسلسل استعمال میں رہی۔ گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے۔ رپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ 2024ء اور 2025ء کی سول ڈیفنس رپورٹ میں فائر سیفٹی کے آلات کی عدم موجودگی اور آتش گیر مادہ کی نشاندہی کی گئی تھی۔
آگ لگنے کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں انتہائی غیر دانش مندانہ تاخیر کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی منقطع کرنے سے اندھیرے کے باعث بالائی منزلوں سے باہر نکلنے کے امکانات کم ہوگئے تھے۔ اس طرح اسپیکر سسٹم ہونے کے باوجود اسے لوگوں کو خطرہ سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گل پلازہ کے ماسٹر پلان میں 1102 دکانیں تھیں لیکن پلازہ میں حقیقتاً 1153 دکانیں تھیں۔ اسی طرح دکانوں میں بڑے مقدار میں آتش گیر مواد موجود تھا۔ اسی طرح فائر بریگیڈ نے اپنے رسپانس کے معیار کے برخلاف موقع پر پہنچنے میں تاخیر کی۔ فائر بریگیڈ 35 سے 40 منٹ بعد اپنا آپریشن شروع کرنے کے قابل ہوا۔ اسی طرح فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی اور ری فلنگ نے امدادی عمل کو متاثر کیا۔
جسٹس فیصل آغا نے اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ فائر بریگیڈ کے پاس اہم آلات نہ ہونے سے عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے امکانات کم ہوگئے۔ رپورٹ میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود آڈٹ اور نگرانی کے نظام کو بہتر نہ بنانے کی مرتکب قرار پائی۔ رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ناقص کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت کی بناء پر قیمتی انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلتی ہوئی عمارت سے لوگوں کے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آتی رہیں مگر فائر بریگیڈ کے پاس آلات نہیں تھے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ سول ڈیفنس کے افسران اپنی ذمے داری دوسروں پر ڈالتے رہے۔ جسٹس فیصل آغا کا کہنا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء اور سپریم کورٹ کے 2010ء کے فیصلہ کے تحت اس سانحہ کی ذمے داری بلدیہ کراچی پر عائد ہوتی ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی بنیادی ذمے داری تھی کہ یہ آڈٹ ورک فریم کے تحت بلڈنگ ہسٹری کا ریکارڈ رکھتی جس میں یہ ادارہ ناکام رہا۔
ایس بی سی اے کی بنیادی ذمے داری تھی کہ کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن 2002ء کے قواعد پر عملدرآمد کراتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا جو ایک سانحہ کی وجہ بنا۔ اسی طرح ریسکیو 1122 بھی احسن طریقہ سے اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر یہ بات تحریر کی ہے کہ سانحہ گل پلازہ صوبائی اورشہری حکومت کے موجودہ نظام کی ناکامی ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مختلف بلدیاتی اداروں پر واضح طور پر ذمے داری عائد کی ہے مگر کسی افسر کو براہِ راست ذمے دار قرار سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر گریز کیا گیا۔ اسی طرح کمیشن کی رپورٹ پر کسی افسر یا کمیشن کے دستخط نہیں ہیں۔
اس رپورٹ کے مطالعہ سے مکمل طور پر واضح ہوتا ہے کہ محکمہ بلدیات، اس کے تمام ذیلی ادارے، بلدیہ کراچی اور محکمہ داخلہ کے ادارہ سول ڈیفنس پر ذمے داری عائد کردی گئی ہے۔ ان اداروں پر ذمے داری کا واضح مطلب کراچی میئر، سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر، فائر بریگیڈ کے سربراہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر اور وہ افسران ہیں جن کی ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ڈیوٹی ہے اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اس سانحہ کے براہِ راست ذمے دار ہیں، یوں صرف حکومت سندھ کا محکمہ بلدیات ہی نہیں کمشنر کراچی، سیکریٹری بلدیات، چیف سیکریٹری اور ان وزارتوں کے وزراء اپنے منصب کی ادائیگی میں ناکام رہے۔
سندھ حکومت اس سانحہ کے بعد سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ اس سانحے کے ذمے دار افسروں کو بچایا جائے۔ حکومت سندھ نے جنوری سے ستمبر تک ایک میونسپل کمشنر اور سول ڈیفنس کے کچھ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا ہے۔ ابھی تو یہ بھی واضح نہیں ہے کہ بلدیہ کراچی کے سابق میونسپل کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی حقیقی وجوہات کیا ہیں۔
پیپلز پارٹی کی حکومت گزشتہ 18 سال سے صوبہ میں برسرِ اقتدار ہے۔ اس دوران 2012ء میں بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں خوفناک آتش زدگی میں 250 کے قریب کارکن جن میں خواتین بھی شامل تھیں ،جل کر ہلاک ہوگئے تھے، اس وقت سید قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ تھے۔ انھوں نے جسٹس علوی پر مشتمل ٹریبونل قائم کیا تھا۔ اس دورمیں یہ الزام لگایا گیا کہ بلدیہ فیکٹری کا سانحہ ایم کیو ایم کے جنگجوؤں کی کارکردگی کا نتیجہ تھا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے اس الزام کو مسترد کردیا مگر یہ بات مان بھی لی جاتی تو بھی اس وقت فائر بریگیڈ کی کارکردگی بہتر ہوتی تو بہت سی زندگیاں بچ جاتیں۔ اس وقت بھی فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے، فائر بریگیڈ میں پانی کی کمی، دروازے اور کھڑکیاں توڑنے کے لیے جدید آلات کی کمی اور آگ پر قابو پانے کے لیے جدید فوم کی عدم موجودگی کا ذکر ہوتا ہے ، اس کے باوجود سندھ کی حکومت نے اپنے اداروں کے احتساب پر توجہ نہیں دی تھی۔
جب مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو انھوں نے 2004ء میں امدادی کاموں کو ایک ادارہ کے تحت مضبوط کرنے کے لیے ریسکیو 1122 کا ادارہ قائم کیا تھا۔ حکومت سندھ نے برسوں تک اس طرح کے ادارہ کے قیام پر توجہ نہیں دی۔ جب مئی 2021ء میں یہ ادارہ قائم ہوا اور 2022ء میں حکومت نے اس ادارہ کے فعال ہونے کا اعلان کیا تو اس ادارے کے لیے ہر سال کروڑوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے مگر سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ سے اس ادارے کی ناقص کارکردگی آشکار ہوگئی ہے۔ جسٹس فیصل آغا نے مجموعی طور پر سندھ کی حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے مگر توقع یہ ہے کہ چونکہ کمیشن کی رپورٹ میں کسی افسر پر براہِ راست ذمے داری عائد نہیں کی گئی ہے لہٰذا حکومت سندھ اس بابت کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔
وفاقی حکومت نے پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے حادثہ کے ذمے دار 8افسران جن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر شامل ہیں کو فوراً معطل کر کے اور ان افسروں کے خلاف فوجداری کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس سانحہ کے چند گھنٹے بعد ہی وزارتِ صحت کے سیکریٹری کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سینیٹر شیری رحمن اور سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ میں پمز اسپتال کے سانحہ پر مثبت کردار ادا کیا ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کے یہ دونوں سینیٹر جسٹس فیصل آغا کی اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد میئر کراچی اور وزیر بلدیات کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کریں گے؟ مگر جسٹس فیصل آغا کی رپورٹ میں مصطفی زیدی کے یہ اشعار سندھ حکومت کی نااہلی کا قطعی اظہار ہیں۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے