اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے تمام رکن ممالک جانتے ہیں کہ مغربی کنارے پر اسرائیل کا انسٹھ برس پرانا فوجی قبضہ اور یہودی بستیوں کی تعمیر تمام متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز و قوانین کے منافی ہیں اور اس بدمعاشی کے خلاف بیسیوں احکامات ، قرار دادوں اور اپیلوں کے دیمک زدہ پلندے سلامتی کونسل سے لے کر انسانی حقوق کے اقوامِ متحدہ سیکرٹیریٹ اور عالمی عدالتِ انصاف کے کمروں میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔
اسرائیل نہ صرف دھڑلے سے زمینیں چھین رہا ہے ، زرعی و نجی املاک برباد کر رہا ہے ، بلڈوزڈ زمین پر دنیا بھر سے جمع کیے گئے آبادکاروں کے لیے بستیوں پر بستیاں اٹھا رہا ہے بلکہ ان بستیوں کی معیشت کو عالمی معیشت کے ساتھ بھی اطمینان سے جوڑ رہا ہے اور خیالی گھوڑے پر سوار دنیا اس پورے عمل کو کاغذی گرزوں ، بھالوں اور تلواروں سے روکنے کے لیے ہوا کو چیر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ مغربی کنارے پر قائم یہودی بستیاں زراعت و صنعت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجارت کے زریعے سن دو ہزار سے دو ہزار بیس تک کے دو عشروں میں اسرائیلی معشیت میں چھ سو ارب ڈالر ( تیس ارب ڈالر سالانہ ) کما کے ڈال چکی ہیں۔دوسری جانب مغربی کنارے پر ناکہ بندی اور امن و امان کی ابتری کے سبب فلسطینیوں میں بے روزگاری کی شرح انتیس فیصد تک جا پہنچی ہے۔
رہی سہی معاشی کمر توڑنے کے لیے مسلح آبادکار اسرائیلی فوج کے پہرے میں نہ صرف فلسطینیوں کی زراعت تباہ کر رہے ہیں بلکہ ڈیری ، کنکریٹ اور اسٹون کرشنگ کی صورت میں جو تھوڑی بہت صنعتیں سسک رہی تھیں ان پر بھی شبخون مارا جا رہا ہے۔زرعی و صنعتی مشینری چوری یا تباہ کی جا رہی ہے تاکہ پورے مقبوضہ مغربی کنارے کی اقتصادی سرگرمیوں کا گلا ایسے گھونٹ دیا جائے کہ تھوڑی بہت آمدنی کا آسرا بھی جاتا رہے اور فلسطینی سابقہ ادوار کی طرح اپنا گھر اور زمین چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
(یہ وہی تکنیک ہے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی سامراج نے مقبوضہ بنگال میں نیل کے کاشتکاروں کا معاشی گلا گھونٹنے کے لیے کامیابی سے استعمال کی تاکہ مصنوعی نیل کی نئی منڈی فروغ پا سکے۔ایک روائیت کے مطابق بنگال کی مہین ململ تیار کرنے والے کاریگروں کے انگوٹھے کٹوا دئیے گئے اور گندم اور چاول کے بجائے کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اس کے لیے نہری نظام اس نئیت سے شروع ہوا تاکہ ہندوستان مانچسٹر کی ٹیکسٹائیل صنعت کے لیے خام مال پیدا کرتا رہے اور پھر اپنی ہی سستی کپاس کے بدلے مانچسٹر میں بننے والا مہنگا کپڑا خریدے۔مگر اس ماڈل کو اسرائیل نے کئی گنا سفاک بنا دیا کہ وسائل بھی ہاتھ آ جائیں اور زمین بھی )۔
غاصب اسرائیلی آبادکار بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات اور پیداوار کی سب سے بڑی منڈی یورپ ہے۔بظاہر کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، آئر لینڈ، فرانس ، اسپین اور ناروے نے فلسطینیوں کو مسلسل نشانہ بنانے والے متشدد آباد کار گروہوں ہل ٹاپ یوتھ اور لیہاوہ کے ارکان کے اپنے اپنے ممالک میں داخلے پر پابندی کے ساتھ ساتھ ان بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات اور پیداوار کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ بلجئیم اور ہالینڈ اس ماہ ( ستمبر ) کے وسط سے ان پابندیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
یہودی بستیاں فلسطینیوں سے چھینی زمین پر سبزیوں ، جڑی بوٹیوں ، کھجوروں اور زیتون کی فارمنگ کرتی ہیں۔بیشتر پیداوار برآمد کر دی جاتی ہے۔ ہالینڈ اب تک ان اشیا کے یورپ میں داخلے کا دروازہ بڑا ہے۔دو ہزار سترہ سے چھبیس تک یہودی بستیوں سے بھیجی جانے والی ایسی چھ ہزار آٹھ سو شپمنٹس ٹریک ہوئیں جو بذریعہ ہالینڈ باقی دنیا میں ایکسپورٹ کی گئیں۔یعنی مقبوضہ فلسطین کی تینتیس فیصد غیر قانونی مصنوعات و پیداوار ہالینڈ کے راستے باقی دنیا تک پہنچیں۔
یورپ چونکہ سنگل مارکیٹ ہے لہذا ایک ملک میں اشیا داخل ہو کر پورے براعظم میں آسانی سے پھیل جاتی ہیں۔البتہ یورپی قوانین کے تحت یہودی بستیوں کی مصنوعات لیبل کرنا ضروری ہے۔لیکن ان پر ساختہ اسرائیل کا ٹھپہ لگانا کون سا مشکل کام ہے ۔ چنانچہ متعدد یورپی ممالک کی جانب سے بظاہر قانونی پابندی کے باوجود اس بات کا امکان کم ہے کہ یہودی بستیوں کی پیداوار کو براعظم میں داخلے سے یکسر روکا جا سکے۔ یہ گٹھ جوڑ دو طرفہ اور کھلم کھلا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ایک سو چالیس لیبر ارکانِ نے یہودی بستیوں کی پیداوار و مصنوعات کی ملک میں مکمل پابندی کے حق میں کئی ماہ پہلے قرارداد منظور کی۔ نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم بھی ان پابندیوں کے حامی ہیں۔مگر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی وہ فہرست جس میں شامل عالمی کمپنیاں آبادکار بستیوں میں کاروبار کر رہی ہیں۔ان میں سے کم از کم سترہ کمپنیوں نے برطانیہ میں دو اعشاریہ ایک بلین پونڈ یعنی دو اعشاریہ نوے ارب ڈالر کے ایک سو پچیس سرکاری ٹھیکے حاصل کیے ہیں۔اگر ان ٹھیکوں کا بریک اپ کیا جائے تو امریکی کمپنی موٹرولا سلوشنز کی برطانوی ذیلی کمپنی نے دو اعشاریہ تین بلین ڈالر کے اکیانوے سرکاری ٹھیکے پکڑے ( موٹرولا یہودی بستیوں میں سیکیورٹی کا ڈھانچہ استوار کرنے میں بنیادی مددگار ہے)۔ جرمن گروپ ہائڈل برگ میٹیریلز مقبوضہ علاقے میں بستیوں کی تعمیر میں معاون ہے اور برطانیہ میں بھی پچیس تعمیراتی ٹھیکوں پر کام کر رہا ہے۔ فرنچ انجینیرنگ گروپ ایگس اور ہسپانوی ریل ساز گروپ سی اے ایف یروشلم لائٹ ریلوے پروجیکٹ کی تعمیر میں حصہ دار ہے۔اس ریل نیٹ ورک کو دیگر آبادکار بستیوں سے جوڑ کر مقبوضہ مغربی کنارے کو مزید کاٹا جا رہا ہے۔دونوں کمپنیوں کے پاس برطانیہ میں علی الترتیب چھ اور ایک سرکاری ٹھیکے ہیں۔
اسی طرح برطانیہ میں دو بڑے سرکاری ٹھیکے لینے والے چینی گروپ فوسم نے اسرائیلی کاسمیٹک کمپنی اہاوا خریدی ہے۔اہاوا کی ساری مصنوعات سازی مغربی کنارے پر غیرقانونی یہودی بستی مزپے شالیم میں ہوتی ہے۔اہاوا پر انسانی حقوق کی تنظیمیں فلسطینی زمینوں اور پیداواری وسائیل پر قبضے کے متعدد ثبوت بھی پیش کرتی ہیں۔
برطانوی حکومت وقتاً فوقتاً یہ انتباہ تو جاری کرتی رہتی ہے کہ غیرقانونی یہودی بستیوں کی مصنوعات کی درآمد ، خریداری اور فروخت غیر قانونی عمل ہے۔تاہم آج تک اس بابت نہ تو جامع چھان بین ہوئی اور نہ ہی کوئی پکڑ دھکڑ۔بریگزٹ کے بعد برطانوی عمل دار یہ بہانہ بھی نہیں تراش سکتے کہ یورپی یونین سے اشیا بلاروک ٹوک آ جاتی ہیں۔اس کے برعکس آپ برطانیہ میں کہیں بھی فلسطین کے حق میں ریلی نکال کے دیکھیں۔قانون فوراً حرکت میں آ جائے گا۔
مگر حیرت کیوں ؟ برطانیہ نے ہی تو پہلی عالمی جنگ کے بعد بالفور ڈکلریشن کے ذریعے اسرائیل کو جنم دیا۔آگے چل کے اولاد کتنی ہی ناخلف اور نافرمان نکل آئے مگر ماں تو ماں ہوتی ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)