ریلوے ٹریکس کی خستہ حالی پر قائمہ کمیٹی میں تشویش، فنڈز کی کمی کا انکشاف

گزشتہ مالی سال ریلوے نے 180 ارب روپے کے فنڈز کی ڈیمانڈ کی تھی لیکن صرف 40 ارب روپے فراہم کیے گئے


ویب ڈیسک September 07, 2026

اسلام آباد:

قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں سیکرٹری ریلوے بورڈ نے کمیٹی کو ریلوے ٹریکس کی بحالی اور حفاظتی کاموں کے لیے مختص فنڈز اور مختلف منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔

سیکرٹری ریلوے بورڈ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں کوٹری تا اکھنڈ آباد ٹریک کی بحالی کے لیے 30 کروڑ 79 لاکھ 93 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ روہڑی تا خانپور سیکشن پر فوری ٹریک سیفٹی ورکس کے لیے 2 ارب 77 کروڑ 87 لاکھ 71 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کیماڑی تا حیدرآباد سیکشن پر ضروری ٹریک سیفٹی کاموں کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم ریلوے حکام کے مطابق اس سیکشن کے لیے مزید فنڈز دستیاب نہیں، جس کے باعث کیماڑی سیکشن پر اب تک صرف 4 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے۔

کوٹری اور دادو سیکشن پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ریلوے حکام نے بتایا کہ منصوبے کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسٹیشنوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، منصوبہ جون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ریلوے نے 180 ارب روپے کے فنڈز کی ڈیمانڈ کی تھی، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے صرف 40 ارب روپے فراہم کیے گئے، جس کے بعد مختلف منصوبوں کو ترجیح دے کر کام شروع کیا گیا۔

اجلاس میں سکھر تا روہڑی سیکشن کی انتہائی خستہ حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رکن کمیٹی وسیم قادر نے اس سیکشن کے لیے وزیراعظم آفس کو خصوصی درخواست کرنے کی تجویز دی، جسے پوری کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

ریلوے حکام نے بتایا کہ خانیوال سے شورکوٹ براستہ فیصل آباد ٹریک پر کام کی رفتار صرف 10 فیصد ہے، کیونکہ اس منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور صرف 18 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں۔

مہرین رزاق بھٹو نے فنڈز کی کمی اور ٹریک سیفٹی کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں درجنوں ٹرینیں ٹریک کی خراب حالت کے باعث ڈی ریل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریلوے کی وزارت پر بہت کم توجہ دے رہی ہے۔

سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ایم ایل ون پر رواں سال کام شروع کیا جائے گا اور 40 ارب روپے کے فنڈز میں سے 25 ارب روپے ایم ایل ون کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کو تین سال میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران سیاسی گفتگو پر اراکین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ کمیٹی کنوینر نے کہا کہ ریلوے بورڈ کو بااختیار بنایا جائے تو ریلوے اپنے وسائل سے بہتر نتائج دے سکتی ہے، جبکہ رمیش لال نے کہا کہ ریلوے حکام بے بس ہیں اور انہیں اختیارات دیے جانے چاہئیں۔