جامعہ کراچی کے پروفیسر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، ملزم کونین جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کونین شاہ نے مدعی مقدمہ پر تشدد کیا ہی نہیں، فیک ویڈیو چلائی جا رہی ہے، ملزم کے وکیل کا دعویٰ


اسٹاف رپورٹر September 11, 2026

کراچی:

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو ٹیلیفون پر دھکمیاں دینے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت نے ملزم کونین علی شاہ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو ٹیلیفون پر دھکمیاں دینے کے مقدمے میں سچل پولیس نے گرفتار ملزم کونین گوہر علی شاہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ ملزم کے خلاف لگائی گئی دفعات لاگو نہیں ہوتی ہیں، ملزم کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے جو ایک معزز فیملی سے تعلق رکھتا ہے، میری استدعا ہے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے، ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور مدعی مقدمہ پیش ہی نہیں ہوا۔

وکیل ملزم نے بتایا کہ رات کو 10 بجے دس سے پندرہ گاڑیوں میں پولیس والے ہمارے گھر آئے تھے اور کہا کہ ملزم کو ہمارے حوالے کریں، ہم نے کہا کہ ہم نے ضمانت کروا رکھی ہے اور انویسٹی گیشن آفیسر نہیں ہے جسے دے دیں، سوشل میڈیا پر صرف ایک ہائپ بنی ہوئی ہے۔

ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ کونین شاہ نے مدعی مقدمہ پر تشدد کیا ہی نہیں ہے، اصل واقعے کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہم مدعی مقدمہ کے گھر گئے تھے جہاں ملزم کا والد بھی تھا، ہم نے کہا کہ ہم کمپرومائز کرنا چاہتے ہیں، فیک ویڈیو چلائی جا رہی ہے اور کوئی فرانزک نہیں ہوئی، واقعہ دن کا بتایا جا رہا ہے اور ویڈیو رات کی چلائی جا رہی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے کسٹڈی کہاں سے لی ہے؟

وکیل نے عدالت میں ویڈیو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو گھر سے حراست میں لیا گیا ہے جس کی ہمارے پاس ویڈیو موجود ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیس کے تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ ملزم کے وکیل نے بتایا کہ کیس کے تفتیشی افسر سرکاری وکیل کے دفتر میں ہیں۔

کیس کا تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل مدعی مقدمہ نے دلائل دیے کہ ملزم نے عبوری ضمانت کے بعد مدعی مقدمہ کو دھمکیاں دی ہیں، ملزم کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنا ہے اور موبائل فون بھی برآمد کرنا ہے، ملزم نے ضمانت کا غلط استعمال کیا ہے، ملزم سے مرکزی کیس میں اسلحہ بھی برآمد کرنا ہے۔

تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے لہٰذا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیا تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ کو پیش نہیں کیا ہے اور نا ہی ایسا کوئی دھمکی آمیز میسج پیش کیا ہے، میرا نمبر ہوٹل کے کاؤنٹر پر لکھا ہے کوئی بھی غلط استعمال کر سکتا ہے، ملزم کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے، ملزم کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

عدالت نے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کونین کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

مدعی کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ

قبل ازیں، پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، سچل تھانے میں مقدمے میں ملزم کونین علی شاہ کو نامزد کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کونین علی شاہ کو ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم نے عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر26/1483 بجرم دفعہ 506 اور 25 ڈی ٹیلی گرافٹ ایکٹ کے تحت سچل تھانے میں درج کر لیا گیا، مقدمہ ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی درج کیا گیا۔

مقدمے میں ملزم کونین علی شاہ ولد علی گوہر شاہ کو نامزد کیا گیا، مدعی مقدمہ پروفیسر عارف خان کے مطابق 8 ستمبر کو میرے اوپر کونین علی شاہ نے اپنے گن مینوں کے ساتھ ملکر تشدد کیا تھا اور اس واقعے کا مقدمہ سچل تھانے میں درج ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق 10 ستمبر کی دوپہر 2 بجے میرے موبائل فون پر واٹس ایپ کال موصول ہوئی، میں نے کال اٹھائی تو کونین علی شاہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف درج مقدمہ واپس لو، میں نے منع کیا تو کونین علی شاہ طیش میں آگیا اور کہا اگر مقدمہ واپس نہیں لیا تو تمہیں جان سے مار دوں گا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں لہٰذا میرا دعویٰ ہے کہ کونین علی شاہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مدعی کے دعوے پر پولیس نے جمعرت کو جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ جمعرات کی شب ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد ملزم کونین علی شاہ کو گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کونین علی شاہ کو جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے درج مقدمے میں گرفتار کرکے تفتیش انویسٹی گیشن کے سپرد کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کونین علی شاہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی اور اس کے بھتیجے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ بھی سچل تھانے میں درج ہے تاہم ملزمان نے مذکورہ مقدمے میں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔