نیویارک:
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں پر پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔
او آئی سی کے افغانستان رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال خطے کے امن، سلامتی اور استحکام پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے اس لیے عالمی برادری کو اس معاملے پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔
نائب وزیراعظم نے حالیہ کوہاٹ دہشتگرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہا ہے جبکہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔
اسحاق ڈار نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے افغانستان میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سمیت انسانی اسمگلنگ کی روک تھام پر بھی زور دیا جبکہ افغان خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان میں نرمی کا مطالبہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے افغان معاشرے میں سیاسی شمولیت کے فروغ اور واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی انسانی ضروریات اور معاشی ترقی کے لیے عالمی برادری کو مناسب مالی معاونت فراہم کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے مستحکم اور خوشحال افغانستان کی حمایت کرتا ہے جو اپنے اندر بھی امن کا حامل ہو اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی پرامن تعلقات رکھے۔