کراچی:
سندھ میں بورڈ آف ریونیوکی جانب سے اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مبینہ طور پرکرپشن اور پسند ناپسند کا نیا کھیل سامنے آیا ہے۔
ترقی کے بعد نئی تقرریوں سے انکار کرنے والے 63 سب رجسٹراروں میں سے صرف 20 افسران کومعطل کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے، جبکہ 43 بااثر اور منظورِ نظر افسران کو بچا لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سینئرممبر بورڈآف ریونیوخالدحیدر شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو معطلی کی یہ متنازع سمری ارسال کی ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ معطلی سے بچائے گئے 43 افسران میں سے بیشترکاتعلق بااثر سیاسی شخصیات،موجودہ اور سابق صوبائی وزراسے ہے،جس کی وجہ سے تمام تر ملبہ صرف 20 افسران پر ڈال دیاگیاہے۔
قوانین کے مطابق اگرکوئی افسر ترقی قبول نہیں کرناچاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے،قواعدکے تحت اس پرکوئی جبر نہیں کیاجاسکتا، لیکن اس معاملے میں اصولی طور پر یا تو تمام 63 افسران کے خلاف کارروائی ہوناچاہیے تھی یا پھرکسی کے خلاف بھی نہیں، مگر سینئرممبر بورڈآف ریونیو نے قوانین کو پسِ پشت ڈال کر یہ دوہرامعیار اپنایا۔
ذرائع کاکہناہے کہ اس ساری کارروائی کااصلی مقصدکراچی اور دیگر اہم شہروں میں تعینات موجودہ سب رجسٹراروں کو ہٹاکر اپنے من پسنداور نئے پروموٹ ہونیوالے افسران کیلیے راستے بناناہے، 6 ماہ کی لازمی ٹریننگ مکمل کیے بغیر ہی مبینہ کروڑوں روپے کے عوض پسندیدہ افسران کو اہم عہدوں پر بٹھانے کاپلان تیارکیاگیاہے۔
منظور شدہ 8 آسامیوں میں سے 5 افسران پہلے ہی انسپکٹرکے عہدے پر کام کررہے ہیں،اب صرف 3 خالی نشستوں کو بھرنے کیلیے 20 افسران کے خلاف معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔
بورڈآف ریونیوکے حکم پر متاثرہ سب رجسٹراروں میں شدید غصہ پایاجاتا ہے۔ انہوں نے ان احکامات کو تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے اس ناانصافی کے خلاف عدالتِ جانے کاحتمی فیصلہ کر لیاہے،سینئر ممبر بورڈآف روینیو سے موقف کیلیے رابطہ کیاگیالیکن کوئی جواب نہ دیاگیا۔