امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں امریکہ کی شمولیت کے معاملے پر جلد فیصلہ کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں حالیہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ امریکہ بہت تیزی سے فیصلے کرتا ہے۔
یمن میں سرگرم حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی خطے میں سلامتی کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے جنھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔