ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں جہاز میں زور دار دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز انقلابی گارڈز کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ آبنائے ہرمز میں پیش آیا۔
تاہم ایرانی حکام نے تاحال متاثرہ آئل ٹینکر کا نام، اس کے پرچم یا عملے کی صورت حال کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واقعے میں ممکنہ جانی نقصان اور تیل کے اخراج سے متعلق بھی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ متاثرہ جہاز کی شناخت، نقصان کی شدت اور عملے کی سلامتی سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ چور راستے بنانے والے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔ یہ راستہ بھی بند کردیں گے۔
عالمی بحری سلامتی کے اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں خلیج فارس اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشتبہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔
اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔