چینی ٹیکنالوجی سے سندھ کی زراعت جدید بنانے اور مقامی بیجوں کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ

وزیراعلیٰ کی چینی زرعی کمپنی کو سندھ میں جدید بیجوں کی تیاری، زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی دعوت


ویب ڈیسک October 13, 2026

کراچی:

سندھ حکومت چینی ٹیکنالوجی سے صوبے کی زراعت جدید بنانے اور مقامی بیجوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے پر غور کررہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی زرعی کمپنی کو سندھ میں جدید بیجوں کی تیاری، زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی دعوت دی ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی فصلوں کی اقسام تیار کرکے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔

چنگفا ہیشینگ ایگریکلچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے حکام سے ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے کے ہاریوں کو شدید گرمی، پانی کی قلت اور سیلاب جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور معیاری بیجوں کا فروغ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مقامی موسمی حالات کے مطابق فصلوں کی اقسام تیار کرنے اور زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں پر مشترکہ تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔

مراد علی شاہ نے چینی کمپنی کو سندھ میں مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کرنے، بیجوں کی جانچ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ہاریوں کی تربیت میں تعاون کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ  جدید ٹیکنالوجی اور بہتر بیجوں کے ذریعے صوبے کی زرعی پیداوار بڑھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جدید، پائیدار اور مؤثر زرعی طریقوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔

چینی کمپنی کے حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو ہائبرڈ چاول اور ریپ سیڈ کے شعبوں میں مہارت حاصل ہے۔ حکام کے مطابق ہائبرڈ چاول کی اقسام کے استعمال سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کی چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ساتھ تحقیقی شراکت داری بھی قائم ہے۔

ملاقات میں سندھ میں مقامی سطح پر بیجوں کی افزائش، تکثیر اور پیداوار بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مقامی بیجوں کی پیداوار کو فروغ دینے سے درآمد شدہ اقسام پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔ دونوں جانب سے پاکستان میں فصلوں کی اقسام کی مقامی سطح پر تحقیق اور ترقی کے لیے تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔

چینی کمپنی کے حکام نے بتایا کہ ادارے کا سرٹس سیڈز سمیت پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری ہے، جبکہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ساتھ مالیکیولر بیج شناختی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی جعلی بیجوں کی روک تھام اور بیجوں کے معیار کی نگرانی اور سراغ رسانی کا نظام بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے زرعی تحقیق، بیجوں کی جانچ اور ہاریوں کی تربیت کے شعبوں میں چینی کمپنی کے تعاون کو اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمدی پیداوار میں بھی شراکت داری بڑھائی جاسکتی ہے۔ سندھ حکومت چینی کمپنی اور مقامی زرعی اداروں کے درمیان تعاون کو آسان بنائے گی، تاکہ چینی ٹیکنالوجی اور مقامی تحقیق کو یکجا کرکے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکے۔

ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستانی زرعی ماہر احمد علی سے بھی گفتگو کی اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق احمد علی کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے سوات سے ہے۔ وہ زراعت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں اور بیجوں کی افزائش کے ماہر ہیں۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزراء شرجیل میمن، جام خان شورو اور محمد بخش مہر، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سرمایہ کاری کے خصوصی معاون قاسم نوید، سیکریٹری سرمایہ کاری راجا خرم شہزاد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔