گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ 13 سالوں کا حساب گیارہ دن میں نہیں ہوسکتا،وزیر اعظم پاکستان جلد پشاور آرہے ہیں جبکہ ہم 100 دن سمیت دیگر پلان کو ترتیب دے رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں پاکستان سویٹ ہوم کے طلبہ سے ایک انٹریکشن کی تقریب میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے میڈیا کی جانب سے کئے گئے سوالات پر بتایا کہ افغانستان کی خاموشی حیرت انگیز ہے، انکا طوطا افغانستان میں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو پولیس کی ڈیمانڈ ہے وہ پوری کی جائے گی۔جس ادارے کو سپورٹ چاہیے ہوگی اسکو پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت چل رہی ہے، ایمل ولی ،جماعت اسلامی کے پاس خود چل کر گیا ہوں۔صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جلد وفاقی کمیٹی کا اجلاس بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں معدنیات پر قبضے کی غلط خبریں پھیلا رہی ہیں جبکہ مولانا صاحب اور میرا ایک ہی علاقہ ہے، وہاں پر کونسی معدنیات ہیں غلط تاثر دیا جارہا ہے۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب ہوئے انکا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بچوں کو معیاری تعلیم اور روشن مستقبل فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ وطن کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء کے بچوں کی سرپرستی اور فلاح و بہبود ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں پاکستان سویٹ ہومز کو کیڈٹ کالج کے قیام کے لیے مفت سرکاری اراضی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سویٹ ہومز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کام کریں گے۔
طلبہ نے گورنر ہاوس پشاور کا دورہ کیا اور فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان سویٹ ہوم اسلام آباد زمرد خان، ڈونرز، سویٹ ہوم اسلام آباد کے طلبہ اور اساتذہ بھی موجود تھے.
اس موقع پر پاکستان سویٹ ہوم کی جانب سے ملک بھر سے یتیم اور بے سہارا بچوں کو معیاری تعلیم و تربیت کی فراہمی اور بے سہارا بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے پر پر پاکستان سویٹ ہوم کے چیئرمین زمرد خان کو خراج تحسین پیش بھی پیش کیا گیا۔
پاکستان سویٹ ہوم کے طلبہ کو گورنر ہاوس پشاور میں مدعو کرنے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا شکریہ ادا بھی کیا گیا. چیئرمین زمرد خان نے پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے شہداء کے بچوں کیلئے پری کیڈٹ کالج کے قیام کا اعلان کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہداء کے بچوں اور بے سہارا اور یتیم بچوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر سے 50 ہزار بچوں کو سکالرشپس دیے جائیں گے جس میں شہداء کے بچوں کو ترجیح دی جائے گی. اس دوران پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے شہداء کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔