پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سونے کی کان کنی کے اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

 دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے پلیسر گولڈ کی نیلامیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق نیب کے سنگین اعتراضات سامنے آگئے


ویب ڈیسک October 23, 2026

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سونے کی کان کنی کے اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے پلیسر گولڈ کی نیلامیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق نیب کے سنگین اعتراضات سامنے آگئے۔

اکتوبر 2024 کی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سونے کی تلاش کے چار معدنی بلاکس کی نیلامی تقریباً 4 ارب 93 کروڑ روپے میں ہوئی۔

پشاور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود نومبر 2024 میں کان کنی جاری رہنے کے انکشافات ہوئے، نیب کی جانب سے محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا سے سونے کے متنازع ٹھیکوں کا ریکارڈ طلب کیے جانے کے معاملے پر اربوں روپے کے معدنی ٹھیکوں میں مخصوص بولی دہندگان کو فائدہ پہنچائے جانے کے انکشافات سامنے آئے جب کہ  نیلامی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ کے بلاک اے کا ایک ارب 25 کروڑ روپے کا ٹھیکہ گلوبا کور پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا،بلاک بی کا ایک ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے کا ٹھیکہ ماجکو پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا، بلاک سی کا ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کا ٹھیکہ ہمالیہ ارتھ پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا۔

بلاک ڈی کا ایک ارب 11 کروڑ 11 لاکھ روپے کا ٹھیکہ شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا، معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتوں کے تعین میں 2015 کی جیولوجیکل اسٹڈی کو نظرانداز کیا گیا۔ 

سونے کے ذخائر کا درست تخمینہ لگائے بغیر نیلامی کی بنیادی قیمتیں مقرر کرنے پر نیب کے اعتراضات سامنے آئے، منرل آکشن رولز 2022 کی مبینہ خلاف ورزیاں اور نیلامی کے طریقہ کار میں بے ضابطگیاں پائیں گئیں۔ 

فروری 2022 میں شروع ہونے والی جیولوجیکل میپنگ نومبر 2023 میں روکنے کا معاملہ بھی تحقیقات میں زیرِ بحث ہیں، مقررہ 14 روزہ مدت میں معاہدے مکمل نہ ہونے کے باوجود الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے جانے کے انکشافات ہوئے۔

متعلقہ حکام کی ذمہ داری پر سوالات اٹھائے گئے جب کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے دوران کان کنی کی سرگرمیاں کس بنیاد پر جاری رہیں؟نیب کے اعتراضات   کے مطابق ماحولیاتی منظوری اور ضروری مائننگ پلان کے بغیر کان کنی کی سرگرمیوںجاری رہیں۔

متعلقہ علاقوں میں 1500 سے زائد ایکسکیویٹرز کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی، لیز ہولڈرز کی جانب سے ایکسکیویٹرز سے ہفتہ وار 5 سے 7 لاکھ روپے لیے جانے کے انکشافات ہوئے، غیرمجاز سب لیزنگ کے ذریعے ہفتہ وار 75 کروڑ سے ایک ارب روپے سے زائد آمدن کے تخمینے سامنے آگئے۔

کان کنی سے حاصل ہونے والے سونے کی پیداوار اور فروخت کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر اعتراضات سامنے آئے، 

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے نیلامیوں کا دفاع کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ قیمتیں حاصل کرنے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کا مؤقف اپنایا، اربوں روپے کے معدنی ٹھیکوں میں مخصوص کمپنیوں کو مبینہ فائدہ پہنچایا گیا۔