سعودی عرب کی صورتحال تہران اجلاس کا مرکزی موضوع تھی، خواجہ آصف

سعودی عرب کا دفاع پاکستان کی ذمہ داری ہے، وزیر دفاع


ویب ڈیسک October 27, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کا بنیادی محور سعودی عرب کی صورت حال تھا، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے تحت مملکت کا دفاع پاکستان کی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے بقول اجلاس میں مثبت پیشرفت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور امید ہے کہ خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کی راہ نکل سکتی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والی ملاقات میں امریکا کے ساتھ معاملات سمیت خطے کی مجموعی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے حل کے لیے ہونے والی کوششیں کسی نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں۔

خواجہ آصف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امن کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کسی ممکنہ حل کی جانب پیشرفت ہوئی ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین پر حملے کی کوشش کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع سے متعلق معاہدے کی ذمہ داریاں پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے تناظر میں جنگ کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جنگوں کو سیاسی مفادات کے بجائے امن کے قیام کے لیے ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔