امریکی مڈٹرم انتخابات میں جہاں لاکھوں امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پہنچے، وہیں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں موجود تین امریکی خلا بازوں نے بھی زمین سے سیکڑوں میل بلندی پر خلا سے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔
ناسا کے خلا باز انیل مینن نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی امریکی خلا بازوں کو بھی مدار میں رہتے ہوئے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا۔
انیل مینن نے ویڈیو میں خلائی اسٹیشن کے اندر اپنے رہائشی حصے کے ایک چھوٹے سے مقام کو دکھاتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، آپ خلا میں رہتے ہوئے بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلائی اسٹیشن میں موجود تینوں امریکی خلا بازوں نے الیکٹرانک بیلٹ کے ذریعے اپنا ووٹ درج کیا اور اسے محفوظ طریقے سے امریکی انتخابی حکام کو بھیج دیا۔
اس عمل میں انیل مینن کے ساتھ خلا باز جیسیکا واٹکنز اور لیوک ڈیلینی بھی شامل تھے۔ ووٹنگ کے لیے ناسا کے مواصلاتی نیٹ ورک کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے خلائی اسٹیشن سے بیلٹ پہلے زمینی مراکز تک پہنچائے گئے اور بعد ازاں متعلقہ کاؤنٹی کے انتخابی دفاتر کو ارسال کیے گئے۔
ناسا کے مطابق ووٹوں کی رازداری اور تحفظ یقینی بنانے کے لیے انکرپشن ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جس کے باعث مکمل شدہ بیلٹ تک صرف متعلقہ خلا باز اور مجاز انتخابی حکام ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
امریکی خلا بازوں کو خلا سے ووٹ ڈالنے کی سہولت 1997 میں متعارف کرائی گئی تھی، جب ریاست ٹیکساس نے ناسا کے عملے کو خلائی مدار سے ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کے لیے قانون سازی کی۔
روس کے خلائی اسٹیشن میر پر موجود امریکی خلا باز ڈیوڈ وولف خلا سے ووٹ ڈالنے والے پہلے امریکی خلا باز بنے تھے۔