اینٹی کرپشن حکام نے ڈی جی ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر افسران کو کلین چٹ دیدی

سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں  ایک ارب 82 کروڑ کی مبینہ  کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت


ناصر بٹ November 06, 2026

صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں  ایک ارب 82 کروڑ کی مبینہ  کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، ڈرائریکٹر جنرل سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر کے خلاف  دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ 

تفتیشی افسر شیر زمان اعوان نے انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کردی، اینٹی کرپشن حکام نے ڈی جی ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر افسران کو کلین چٹ دیدی۔

عدالت نے انکوائری رپورٹ پر وکیل درخواست گزار سے جواب طلب کرلیا، عدالت نے انکوائری رپورٹ پر سماعت 24 نومبر کو مقرر کردی۔

انکوائری رپورٹ نے کہا کہ ڈی جی سمیت دیگر افسران کے خلاف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈ میں خرد برد کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، شکایت کنندہ کے مطابق فرنیچر، آلات اور سیکیورٹی خدمات کی مد میں ایک ارب 82 کروڑ 21 لاکھ سے زائد کی بے ضابطگیاں کی گئیں، انکوائری کے دوران شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کیا گیا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق شکایت کنندہ کے فراہم کردہ ایڈریس غلط ہونے کے باعث نوٹس واپس آگیا، شکایت کنندہ انکوائری میں پیش نہیں ہوا، ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے 13 ٹھیکوں کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا گیا،  بورڈ کی جانب سے تمام خریداریوں کو سالانہ بجٹ اور پروکیورمنٹ پلان میں شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خریداری اور ٹھیکوں کے لئے سپرا ویب سائیٹ پر ٹنڈرز دیئے گئے اور کم ترین اہل بولی کو منظور کیا گیا، ڈی جی کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے کام کررہے تھے، خریداری کے فیصلے اجتماعی طور پر کئے گئے،  خریداری کی حتمی منظوری بورڈ سیکریٹری نے دی۔

رپورٹ کے مطابق ریکارڈ کے جائزہ کے بعد سامان کی عدم فراہمی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، انکوائری کے دوران 2025 کی بعض خریداروں میں ورک آرڈرز اور وصولی کی تاریخوں کے تضاد کی نشاندہی ہوئی،  کسی افسر کیخلاف رشوت طلب کرنے، ذاتی فائدہ یا سرکاری فنڈ میں خردبرد کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔