کراچی:
ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے آسٹریلیا روانہ ہونے والے مسافر شہاب حسین کی شناخت اور سفری ریکارڈ میں اہم تضادات سامنے آنے پر اسے مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کر دیا۔
مسافر کے قبضے سے یو این ایچ سی آر کارڈ اور پناہ کی درخواست برآمد ہوئی، ابتدائی پوچھ گچھ میں افغانستان کے راستے بیرون ملک جانے اور بھارتی شناخت ظاہر کرکے انڈونیشیا میں پناہ کی درخواست دینے کا انکشاف بھی ہوا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر شہاب حسین ولد یوسف علی، رہائشی کوئٹہ، مشتبہ طور پر افغان شہری ہونے کے شبہے میں مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ سرکل منتقل کر دیا گیا۔ مسافر آسٹریلوی شہری اہلیہ کی جانب سے اسپانسر کردہ پارٹنر ویزا پر پرواز UL184 کے ذریعے آسٹریلیا جا رہا تھا۔
امیگریشن ریکارڈ کی جانچ کے دوران آئی بی ایم ایس میں مسافر کی پاکستان سے روانگی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں پایا گیا، اس کا پہلا دستیاب اندراج 2 ستمبر 2020 کو اسلام آباد آمد کا تھا، جو ایمرجنسی پاسپورٹ پر درج تھا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ وہ افغانستان کے راستے دبئی اور بعد ازاں بھارتی پاسپورٹ پر انڈونیشیا گیا جہاں اس نے بھارتی شہری ظاہر ہو کر پناہ کی درخواست دی۔ مسافر کے قبضے سے 2018 کا یو این ایچ سی آر کارڈ اور پناہ کی درخواست بھی برآمد ہوئی۔
مزید جانچ پڑتال میں یہ بات سامنے آئی کہ وطن واپسی کے بعد مسافر نے نیا پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، لوکل سرٹیفکیٹ اور پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیے جن میں اس کے بیرونِ ملک قیام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ مسافر کی جانب سے پاسپورٹ گم ہونے کا حلف نامہ بھی فراہم کیا گیا، جس کی تفصیلات مزید تفتیش کا حصہ ہیں۔
مسافر کی اہلیہ اور ویزا اسپانسر کی شناخت اور سفری دستاویزات سے متعلق بھی بعض تضادات سامنے آئے ہیں، جن میں پاکستانی شناختی کارڈ، افغان پاسپورٹ اور آسٹریلوی پاسپورٹ پر درج کوائف شامل ہیں۔ ان معاملات کی مزید چھان بین جاری ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے مسافر کو برآمد شدہ دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ سمیت قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن کراچی کی بروقت نشاندہی اور تفصیلی جانچ پڑتال نے ایک اہم مشکوک معاملے کو مزید قانونی تحقیقات کے لیے متعلقہ سرکل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ادارہ سفری دستاویزات اور شناخت سے متعلق جعل سازی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے رہا ہے۔